میں بھی بن گئی کاکروچ کِلر


میں کاکروچ کِلر کیسے بنیں؟
پہلے کاکروچ دیکھتے ہی میرے اوسان خطا ہو جاتے تھے جہاں کاکروچ نظر آ جائے وہاں سے بس بھاگ جانے کا ہی خیال آتا تھاـ
جیسا کہ میں نے “قصہ کلینک کا” میں بھی اس کا ذکر کیا ھے۔ ایسے ہی ایک مرتبہ گرمیوں کی اک شام میں شاور لیتے چند سیکنڈ گذرے ہوں گے میرے منہ سے ایک دم  زور سےنکلا ہائے امی جی!!! اچانک ایک نا ہنجار کاکروچ پتہ نہیں کہاں سے ادھر آنکلا  اس نے یہاں آنے کی غلطی تو کر لی مگر اس کی شامت اب لازم تھی کہاں کا شاور، کیسا ٹھنڈا پانی ،سب کچھ مجھے بھول گیا، ہو آں ہا ہو جیسے آوازیں منہ سے نکلنے لگیں امی کچن سے کام چھوڑ کر ادھر آگئیں جہاں میں کاکروچ دیکھ کر ہو آں ہا ہو کر رہی تھی امی نے باہر سے  پوچھا تم شاور لیتے کیا ہوا گِر گئی ہو کیا؟ میں نے غسل خانے سے کہا نہیں ایک لال بیگ آگیا ھے اور جلدی جلدی  ہپڑ دھپڑ میں الٹی قمیص اور پاجامے کے ایک ہی پائنچے میں دونوں ٹانگیں پھنسا کے غسلخانے سے باہر بھاگتی آئی امی نے مجھے غضنبناک نظروں سے دیکھا اور کہنے لگیں ایک لال بیگ ہی تھا  تم اسے مار بھی سکتی تھیں کھا نہیں جاتا تمہیں پھر امی نے   چپل سے کاکروچ کا قیمہ کیا اور باہر پھینک دیا میں نے ڈرتے ڈرتے غسلخانے میں قدم رکھ کے ادہر ادہر دیکھا کہ لال بیگ کےرشتے دار نہ موجود ہوں مگر اس دفعہ لال بیگ کا باقی قبیلہ زیر زمین چلاگیا تھا اور ہم نے پھر آرام سے شاور لیا۔  ایک بار کمرے میں ایک لال بیگ کی لاش پڑی تھی اور میں ابو کو لے کر آئی کہ اسے باہر پھینک دیں ابو نے لال بیگ پھینکتے ہوئے کہا بیٹا اپنا آپ دیکھو، اپنا قد دیکھو  یہ لال بیگ تمہارے صرف ایک پاؤں کی مار ھے اس سےکیوں ڈر تی ہو میں نے فٹا فٹ کہا تو یہ بھی ھے کہ میں چھپکلی سے تو نہیں ڈرتی مگر اسے دیکھ کر پتہ نہیں کیا ہو جاتا ھے ابو نے کہا ڈرنا چھوڑ دو اپنے ہاتھ سے دو تین لال بیگ مار ڈالو ڈر نکل جائے گا، جب تک گھر والے لال بیگ مارنے میں میری مدد کرتے رہے یوں ہی چلتا رہا مگر حالات میں تبدیلی تو ہوتی  رہتی  ھے یہی قانون قدرت ھے۔
اب میں کچھ کوشش کر کے کاکروچ کو موت کی وادی  بھیج دیتی ہوں۔ جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔
میں  اتنی بزدل اب
کاکروچ  کِلر کیسے بنیں یہ میں آج آپ سے شیئر کرتی ہوں۔
میری بہن چھپکلی سےڈرتی ھے اور
میں ( ,سفید, نیلے, پیلے, لال بیگ) کاکروچ سے بہت ڈرتی تھی۔
تو ھم دونوں میں ایک مُعاہدہ تھا جیسے کچھ
ممالک کے درمیان سرد جنگ جیسی کیفیت ہوتی ھے ویسا، مُعاہدے کی رُو سے یہ شرائط اس وقت بھی ماننا پڑیں گی
جب ہم  بہنوں میں کسی بھی لڑائی کی وجہ سے بات چیت بند ہو۔فائدہ چونکہ ہم دونوں کا ہی  تھا
تو یہ شرائط
پوری کرنا پڑیں۔
تو اگر  اسے چھپکلی کہیں نظر آئے گی تو اپنی بہن کو اس سے نجات میں مدد دوں گی،
اور اگر کاکروچ نظر آیا تو وہ میری مدد کرے گی۔ مُعاہدے کے تحت چھپکلیوں اور لال بیگوں کا قتلِ عام زوروں پہ تھا پھر یوں ھوا کہ بہن کی شادی ہو گئی۔ گھر میں ویسے تو سب ہی کاکروچ کو مار کے میری مدد کر دیتے تھے مگر کبھی یوں بھی ہوتا کہ کاکروچ کو مارنے کے لئے  اپنی مصروفیت کی بنا گھر میں کوئی فرد نہ مل پاتا اب میں نے خود ہی  کاکروچ سے نجات کے لئے کچھ اقدامات کئے۔سب سے پہلے تو خوب سارے  بہادری کےmotivational quotes سےخود کو باور کرایا کہ تم بھی کاکروچ کِلر بن سکتی ہو پھر دوسرا کام یہ کیا کہ ابھی تک کاکروچ کو صرف ایک آنکھ سے یا دھندلی نظر سے دیکھتی ہوں اور اکثر دیکھے بغیر وائپر سے  گھسیٹتے ہوئے  دور پھینک دیتی ہوں اور کاکروچ کے فوری خاتمے کے لئے کمرے میں،کچن میں واش روم میں ہر جگہ کاکروچ کِلر اسپرے رکھا اور ایک عدد جھاڑو اضافی اسلحے کے طور پر رکھ چھوڑا وائپر  سے کاکروچ کی لاش ٹھکانے لگانے کا کام لیا کچن کبرڈز میں بورِک ایسڈ پاؤڈر ڈال کر شیٹس بِچھا دیں ۔وائپر سے کاکروچ کی لاش کو دیکھے بغیر ہِٹ کر کےدور پھینکنے سے حوصلہ بلند ہوا کبھی یہ کھیل ہاکی سمجھ کے کھیل لیا کبھی کاکروچ کوگولف کی گیند بنا کے زور دار ہِٹ لگا دی ، واہ واہ میری بہادری پر اب اکتالیس توپوں کی سلامی تو بنتی ھے نا۔ اور تمغہ جرات و بہادری تو ھم نے اپنے آپ کو خود ہی دے رکھا ھے۔ میری جراتوں کو سلام۔

6 EASY STEPS Get Rid of Cockroaches


This post is for all those who are afraid of cockroaches.

Wherever I see a cockroach, I just think of running away.In the past, I used to lose consciousness when I saw a cockroach.

Now with some effort, I send the cockroach to the valley of death
Where no one comes back from.
I’m so cowardly,
Become a Cockroach Killer now I share this with you today.
My sister is afraid of lizards and
I am from Cockroach.
So we both had an agreement
Like the Cold War between countries. Under the terms of the agreement, these terms will still have to be complied with
When we sisters stop talking because of any fight.
So if a lizard is seen anywhere, I will help my sister to get rid of it,
And if I see a cockroach, she will help me.
The advantage, it was for both of us
So these conditions
Have to complete it. Then the sister got married.
Everyone at home helped me get rid of cockroaches. But when no one in the house is free because of busyness
Then I thought to myself and have taken some steps to get rid of cockroaches.

6 Easy Steps:
1. First of all, with all the motivational quotes of bravery, I convinced myself that you too can become a cockroach killer.
2. Then the second thing I do is still see the cockroach with only one eye or with a blurred vision and often throw it away by dragging it through the wiper without seeing it.
3. Cockroach killer spray was placed everywhere in the room, in the kitchen, in the washroom, for immediate elimination of cockroaches, 4. A broom was left as an additional weapon.
5. Use a wiper to dispose of cockroach carcasses. 6.Put the boric acid powder in kitchen cupboards and spreadsheets.


Encouraged by the wiper hitting the cockroach’s body without seeing it and throwing it away.
Sometimes it was a game of hockey, sometimes a cockroach made a golf ball and i hit it hard.
Wow wow, my bravery…. salutes 41 cannons now.

جوتے،سینڈِلز اور سیل


جوتے” کی زندگی میں کتنی اہمیت ھے اس کے بغیر زندگی ادھوری ھے جوتے دشمنوں پر برسائے جاتے ہیں وزیروں پر چلائے جاتے ہیں اور نظر بد سے محفوظ رہنے کو پاک و ہند میں گاڑیوں میں لٹکائے جاتے ہیں۔ اسکول میں ہم  پاکستانی مشہور برینڈ کے بَکل والے شوز بڑے شوق سے پہن کر جایا کرتے تھے مگر کالج تک پہنچتےنہ جانے اس پاکستانی برینڈ کا معیار گر گیا یا ہمارے پاؤں بہت حَساس ہو گئے اس برینڈ  کے جوتے جب جب پہن کر کالج کی راہ چلوں تو پاؤں کی دونوں چھوٹی انگلیاں  انگوٹھوں اور ایڑی کے پاس چھالے پڑ جائیں، ایک دن ایسا ہوا چھالے تو پڑ گئےمگر  چلتے وقت لاکھ کوشش کر لوں تکلیف کی وجہ سے چال میں لڑ کھڑاہٹ آ گئی میں اپنی دوستوں کے ساتھ کالج کی چھٹی ٹائم پر کالج وین کا انتظار کر رہی تھی   جس کے لئے کچھ فاصلہ پیدل طے کرنا تھا کوشش کے باجود میں چھالوں کی وجہ سے  جب لنگڑانہ چال چل رہی تھی تو  قریب سے  بوائز کالج کے کچھ بھائی لوگ گذرے مجھے دیکھ کر کچھ جان بوجھ کر لنگڑا لنگڑا  کے چلنے لگے اور کہتے جاتے میں بھی لنگڑا ہوں، میں نے اس بے تُکے انداز کو نظر انداز کرنا مناسب سمجھا اور اس دن کے بعد سوچا کہ اس طرح کے جوتوں اور جوگرز جن میں پاؤں کے انگوٹھے کا مسئلہ ہوتا ان سب کی بجائے  کیوں ناپَمپی شوز لے لوں بلکہ یاد آیا کہ اس کا ایک جوڑا بلیک کلر میں تو گھر میں ہی موجود ھے اگلے دن کالج آف تھا اور اس کے اگلے دن صبح کالج وین نہ آسکی توہم پَمپی شوز  پہن کر کالج کے لئے خود ہی نکلے جب تک چھالوں میں بھی کافی آرام آچکا تھا مگر یہ کیا عین بیچ سڑک پر پمپی نہ جانے کیوں بار بار پاؤں سے اُترے جائے، اور جب میں تھوڑا پاؤں زور سے دبا کر چلوں تو پمپی کی ہیل کی ٹَک ٹَک ایک “ٹک ٹکر ٹک ٹکر” میں گونج جائے صبح کے 8:30 پر جبکہ ابھی گنجان گلیوں میں کچھ خاموشی کی باقیات ہوں تو یہ آواز بڑی بدنما لگے۔پمپی شوز کے بار بار اترنے اور پاؤں جمانے میں کالج تک کا فاصلہ طویل سا ہو گیا بہرحال پھر آرام دہ جوتے مل ہی گئے۔ اور کالج کا سفر ان کے ساتھ چلتا رہا۔
سیل(sale) کتنا خوبصورت اور پُرکشش لفظ ھے، ھم خواتین کے لئے یہ تو ہم خواتین ہی جانتی ہیں۔مگر قارئین کرام اس لفظ کی کشش کے ہاتھوں جو واقعہ پیش آیا میں نے پکی توبہ کر لی سیل کی  چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھنا ویسے بھی میری زندگی کی اب تک یہ دوسری اورآخری سیل شاپنگ تھی۔ طارق روڈ رحمانیہ مسجد کے قریب مشہور برینڈ کے جوتوں کی  ایک مرکزی دکان ھے اھلیان کراچی تو اس سے بخوبی واقف ہوں گے وہاں پر خواتین کے بہت خوبصورت سینڈلز کی “سیل” لگی ہوئی تھی اور سیل میں ایک سال پہلے کی جوتے کی قیمت اور اب سیل میں رعایتی قیمت کی تفصیل مختلف دکاندار لڑکے فراہم کر رہے تھے ہم  نے ویسے ہی سینڈلز کا جائزہ لیتے ہوئے ایک ورکر سے سوال کیا کہ کیا وجہ ھے کہ آپ سینڈلز اتنی رعایتی قیمت پر دے رہے ہیں اسنے کہا دکان خالی کرنا ھے تاکہ نیا مال لا کے رکھا جائے جبکہ قریب سے گذرتے دوسرے دکاندار نے کہا جو مال بِکتا نہیں اسے “سیل”پہ لگا دو بس پھر دکان خالی اس دوسرے والے دکاندار کی بات بالکل ٹھیک لگی  مجھے مگر کافی بعد میں وہ بھی ایسے کہ دو پیارے سے ہیل والے سینڈلز کے جوڑے پسند آنےپر پیک کروا کے گھر کی راہ لی اگلے تین چار دن بعد جب ان میں سے ایک پہن کے ہم نے اپنے گھر سے پانچ سات گھروں تک کا فاصلہ طے کر لیا تو ایک کالی بلی نے ہمارا راستہ کاٹا اوردوسری جانب مڑ گئی جبکہ مجھے کبھی وہم نہ ھوا کہ کالی بلی راستہ کاٹے تو کچھ اچھا نہیں ہوتا،مگر یہ کیا سینڈل کی پہلے ایک پٹی ٹوٹی پھر بکل والا حصہ ٹوٹ کر الگ جھول گیا وہ بھی عین سڑک پر تو  واپس جوتے تبدیل کرنے کے لئے گھر کی طرف مُڑی ابھی چل ہی رہی تھی کہ اس ٹوٹے سینڈل کی آخری پٹی بھی دَم توڑ گئی جس کے سہارے میں اس سینڈل کو پاؤں میں پھنسائے چل رہی تھی میں کچھ دیر ویسے ہی کھڑی رہی پھر آخر کار کچھ سمجھ نہ آیا تو اس ٹوٹے سینڈل کو ہاتھ میں تھاما اور فقط ایک سینڈل جو تھا بھی ہیل والا عجیب چال چلتے گھر کی طرف بڑھنے لگی مگر اس ایک سینڈل کی اچانک ایڑھی اور دو پٹیاں یکدم ٹوٹ کے یوں الگ ہو گئیں جیسے بقر عید کے دنوں میں بکرا منڈی میں کوئی ایلفی سے سینگ جوڑے بکرا بیچ جائے اور بکرے کے سینگ گھر تک جاتے مالک کے ہاتھ میں رہ جائیں اور بکرا کہیں رہ جائے۔قارئین کرام اب بھی ایک پوری گلی کا راستہ باقی تھا مگر شکر ھے کہ یہ سڑک کشادہ اور صاف ستھری تھی اور صبح کے دس بجے اکا دکا ہی لوگ تھے میں نے ادھر ادھر دیکھا کوئی دیکھ تو نہیں رہا ڈرتی ورتی تو میں کسی سے نہیں ہاں ٹوٹی سینڈلز کی تو بات ہی اور ھے نا میں نے  ان ٹوٹی سینڈلز پر ایک قہر آلود نظر ڈالی اور پھر سینڈلز پر لعن طعن بھیج کر  ان سینڈلز کو وہیں چھوڑا اور ننگے پاؤں گھر کی جانب چلی اور خود سے کہتی جاتی میرے راستے میں کہکشاں نہیں سعدیہ عرف ننگ پیری!!!گھر جا کر ڈور بیل بجائے جاؤں کہ کوئی تو دروازہ کھول دو  مجھے ننگے پیر نہ کوئی دیکھ لے اندر سے سب کی باتوں کی آواز آئے جائے مگر دروازہ کھولنے کوئی نہ آئے خیر گھر کا دروازہ کھلا اور ہم ابو کو جوتوں کے بارے بتاتے تیزی سے گھر میں داخل ہو گئے۔ اورجوتے تبدیل کر کے اپنے سفر کی راہ لی۔
ان دو تین جوتوں کے تجربات کے بعد ہم نے ہمیشہ پاؤں کے لئے آرام دہ، دیر پا جوتے کو ترجیح دی، دو پٹی کی چپلیں ،سلیپرز اور فلیٹ سینڈلز جن میں پاؤں آرام دہ رہیں چاھے ایسے جوتے دِکھنے میں کتنے بد نما ہوں ہم یہی استمعال کریں گےیہ بھی قابل ذکر بات ھے کہ اس  ہی دکان کے برینڈ نیو آرام دہ شوز کی کلیکشن اور براڈ ہیل والے سینڈلز تو لا جواب ھیں اور ہمارے زیر استمعال ھے  اور رہی خوبصورت نازک ٹَک ٹَک ہیل والی سینڈلز ان سے تو ہم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دور رہیں گے۔ الوداع اے نازک ہیل والے سینڈلز اور ہاں یاد آیا قارئین کرام ہمارا سیل شاپنگ کا دوسرا سینڈلوں کا جوڑا جو شاپنگ بیگ میں ہی دم توڑ گیاتھا جگہ جگہ سے کلر اترا ہوا اور خستہ پٹیںاں گویا ہزار سال بعد شاپنگ بیگ کھولا ہو حلانکہ صرف ایک ماہ کی کہانی ھے یہ، ان سے لاکھ درجے بہتر تو آج بھی فراعین مصر کی ممیاں ہوں گی۔

Easy and Quick Recipe Homemade Delicious Milk Bottleo


Milk is a complete food.
Children or adults,
Everyone’s favorite.
This simple recipe of milk is very popular in Pakistan in all seasons, So today I am sharing this recipe with all of you readers.

But first, some special instructions:
1.This milk recipe  is for 5 years old and all adults.
(Be sure to consult a doctor for anyone under the age of 5).
2.Those who are allergic to milk or
People with diarrhea should not try this recipe.

So let’s start.
This recipe is for 2
people.

Ingredients: 1-liter full cream fresh milk
2 tbsp of sugar or (to your taste)
1 tsp cornflour
4 finely chopped Almonds (it’s optional).
2 Milk bottle or glass.

Recipe:
Take a pan and pour milk into it.
Put on the stove over medium heat.
Let it boil.
Now let it cook on low heat for 30 minutes.
After a while, keep stirring with a spoon.
Now In the meantime, watch your favorite TV show if you want, or you can cut vegetables or teach children, or do anything whatever you want.
after 30 minutes add 3tspn sugar and 1tsp cornflour.
For a while now
Stir quickly with a spoon.
Now the milk will start to thicken.


You can take this milk off the stove after 5 minutes Or let it cook more.
How thick is the milk to drink?
It’s up to you.
When the milk thickens to the desired level, turn off the stove. Add finely chopped almonds(optional)
Pour it into a milk bottle or glass.

Drink hot if you like or
Put on room temperature for a while. if you want more chilled milk bottles then
Refrigerate it for 2 to 3 hours.

Note: How long can we store?
If you want to keep it in your fridge it is best for just 2 days and
can be stored in the freezer for up to a week.

I hope this sofa journey won’t bore you with this delicious recipe.

پروین


ہر انسان کی زندگی میں بہت سے یادگار واقعات پیش آتے رہتے ہیں ایسا ہی یہ واقعہ میرے لئے بڑا یادگار ھے
ہم پرانے محلے میں جہاں رہتے تھے وہاں پروین نامی خاتون  بھی رہتی تھیں جن کے نام کو بگاڑ کر  سب “کالو پروین” کہتے تھے جس کا سبب ان کی قدرے گہری سانولی رنگت تھی،اور وہ مسیحی برادری سے تعلق رکھتی تھیں ان دنوں کرسمس میں ایک  دو ہفتے باقی تھے اور میرے پیپرز چل رہے تھے گھروں کا فاصلہ قدرے کم اور گلیاں بھی کچھ زیادہ کشادہ نہ تھیں تو محلے میں چچا کریم کے خراٹے، رضیہ آپا کے ٹوٹکے،ببلی باجی کی محلے کی بی بی سی سروس پپو،میگی ،پنکی ،ڈونا،مونا،شانو  نامی بچوں کی والدین کے ہاتھوں پٹائی اور اس کےبعد ان کا زور زور سے رونا، سوٹڈ بوٹڈ وکیل کے پیچھے کسی کے کہنے پر  لگے شرارتی بچوں کے جعلی وکیل جعلی وکیل کے نعرے،جرمنی  سے پی ایچ ڈی کر کے واپس پاکستان آنیوالا  جو حقیقت میں پاگل ہو کر گلی میں اور سڑکوں پر چاک سے  الجبرا کے بہترین فارمولے اور سوال جواب لکھ ڈالتا اور ہر چار پانچ لڑکوں کے گروہ کو روک کر کہتا “لوگو  سنوں میں  آگیا ھوں تمہاے تمام مسئلوں کو میں حل کر دوں گا”لڑکے بھی کبھی سنتے اور کبھی اس سے تفریح کرتے،خواتین اس سے ڈر کر مزید سڑک کے کنارے  ایک طرف چلتیں والدین ایک دوسرے سے کہتے نظر آتے یہ زیادہ پڑھائی بھی انسان کو پاگل کر دیتی ھے دیکھو اسے کیا ملا ،  ہر  دوسرے گھر میں قہقہے یا لڑائیاں ،کیبل نشریات کی زور دار آوازیں،ٹین ڈبے،گول گپے اور باقاعدہ مائک کا استمعال کر کے سبزی بیچنے والے خود ساختہ بھونڈی آواز والے گلوکار،یہ سب ہی مل ملا کے حقیقت میں گلی کی رونق کا باعث تھے آج یہ سب چیزیں قبرستان جیسی سناٹے والی پوش جگہوں پر کم سے کم مجھے بہت یاد آتی ہیں جن سے ایک وقت تھا میں بہت ناراض ہو جاتی تھی کیونکہ پیپرز کے دنوں میں مجھے خاموش ماحول میں ہی پڑھنے کی عادت تھی زیادہ تر رات کو ہی پیپر کی تیاری ہو جاتی تھی مگر جن پیپرز میں گیپ کم ہوتا تھا تو دن میں بھی تیاری کرنا پڑ جاتی اور میرا وہ پرانا محلہ فُل آبادی و خانہ بربادی ٹھرا٠ تو ان دنوں جب اکنامکس اور پولیٹیکل سائنس کے پیپر میں گیپ کم تھا میں دن میں اکنامکس کے  پیپر کی فائنل تیاری کے بعد خود ہی اپنا viva لے رہی تھی اور جو پوائنٹس ٹھیک یاد  نہیں تھے انہیں لکھ کر یاد کر رہی تھی میکرو اکنامکس اور مائیکرو اکنامکس کی مثالیں سمجھتےاور لکھتے میرا قلم رُک گیا کانوں میں آواز آئی”میری زندگی کے مالک،میرے دل پہ ہاتھ رکھ دے۔۔۔۔ اس کے ساتھ ھی اپنے گھرصحن میں برتن مانجھتے کالو پروین کی  زور دار آواز آئی اے حنٰی ڈیک کی آواز تو تیز کر میرا پسندیدہ گانا ھےحنٰی بھی آخرکالو پروین کی بیٹی تھی اس نے بھی فُل والیوم کر کے چھوڑا”تیرے آنے کی خوشی میں میرا دم نکل نہ جائے”۔

please click on preview post

کالو پروین اس گانے کو روزانہ کسی دوا کی طرح تین سے چار بار ڈیک میں سنتی تھی میں نے وہاں سے کتابوں کے ساتھ ہجرت کی اور اگلے کمرے میں آگئی مگر ڈیک کی آواز تو یوں آرہی تھی جیسے کسی میوزک کنسرٹ پر انسان موجود ہو،میں نے پڑھنے کی کوشش کی پاکستان کے پرائیویٹ بینکوں کی نئی شاخیں اور سرکاری بینکوں کی قرضہ پالیسیاں و شرائط  ۔۔۔پھر ملی جلی آواز کالو پروین کے گھر میوزک کنسرٹ نہ رُکا  “مسٹر لووا لووا تیری آنکھ کا جادو ۔۔ھے اوو آآ  اور پھر تیز میوزک

please click on preview post

میں نے وہاں سےکتابیں اٹھائیں اور سیدھا چھت پر چلی آئی کہ کچھ ہلکی دھوپ بھی سینک لوں اور شاید میوزک کی آواز کم ہو تو پڑھ لیا جائے مگر چھت پر تو ھوا کے دوش پر میوزک کی لہریں  اور بھی تیز تھیں  “تم تو ٹھرے پردیسی ساتھ کیا نِبھاؤ گے” 

please click preview post

میرا اگلا سوال تیاری کا: آئی ایم ایف کی نئی  قرضہ شرائط، ڈبلیو ایچ او ،ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی  تیسری دنیا کے ممالک کے  لئے اسپتالوں اور صحت عامہ کے لئے قرضہ پالیسی “راجہ میاں چھڈ دؤ یاری چنگی نئ اوعشق بیماری عشق نہ چھڈے کوج وی پلّے ہو گئی تیری بَلّے بَلّے۔۔۔۔

please click preview post


قارئین کرام بس کچھ نہ پوچھیں مجھے تو ایسا لگا کہ یہ پیپر میرا گیا اور میں نے فیل ہو جانا ھے اور کالو پروین کے سنگ ڈیک پہ رنگ برنگے گانے سنناہی رہ جائے گا مگر اگلے دن پیپر ختم کر کے میں انچارج کو اپنی کاپی دے چکی تھی اور کمرے سے نکلنے والی تھی کہ امتحانی سوالات کے کچھ پوائنٹس کی دماغ میں آمد آمد ہو گئی تو اپنے ایگزامن انچارج سے اپنی کاپی معذرت کے ساتھ یہ بتا کے لی کچھ پوائنٹس لکھ دوں تو انہوں نے مہربانی کی بس یہ کہا آپ اب جو لکھو میری ٹیبل پر ہی کاپی میرے سامنے رکھ کر لکھ دیں اندھا کیا چاھے دو آنکھیں میں نے جھٹ نیلے مارکر اور بال پوائنٹ سے مطلوبہ صفحات پر  اپنے پوائنٹس سب سے اوپر درج کئے کاپی انچارج کو تمھائی اور واپسی کی راہ لی گھر پہنچی تو کالو پروین کے ڈیک پر مسٹر لووا لووا فُل والئوم بج رہا تھا اور لائینیں تھیں “لگتا ھے مجھ کو تیری طبیعت ٹھیک نہیں”
میرا ایک بار دل کیا کہ میں آج کالو پروین کی طبیعت ٹھیک کر ہی دوں پھر خیال آیا کہ اس کے بعد میرے سب گھر والوں نے میری جو طبیعت ٹھیک کرنا ھے وہ۔۔۔ ظاہر ھے محلے داری بھی کوئی چیز ھے بس برداشت کرو اور کیا۔وہ تو شکر ھے کہ اکنامکس کے پیپر  میں پاس ہوگئی میرے سو میں سے ستر مارکس آگئے اگر میں فیل ہوتی تو میں نے کالو پروین کی طبیعت ٹھیک کرنی تھی پھر چاھے بعد میں میری گھر والے اچھی خاطر مدارت کرتے۔

Easy Potato fry recipe


The fact is that we have a long list of foods.

But still often
we don’t know what to eat?In this case, if an easy recipe is found that is ready immediately,

Then we say to ourselves
“How lucky I am.”

This recipe is ready in 20 minutes and is enough for 3 people.

Ingredients

1/2 kg potatoes

2 medium size red tomatoes

1/2 tsp garlic,ginger mix paste

3 tbsp oil

red chilly or black pepper powder 1/2 tsp

1/2 tsp of salt or to your taste

1/2 tsp coriander powder

1/4 tsp turmeric powder

1 tsp cumin seeds.

4 tbsp water

Recipe:

Wash the potatoes and peel, then cut into square cubes or round slices and Soak in water.

Heat oil in a pan. Add ginger garlic paste.After 20 seconds add the potatoes and cook for 1 minute.Then add all the spices+4 tbsp water.

Add finely chopped tomatoes and mix it well.
Cook for 15 minutes on low heat.

When the potatoes are well cooked, then
Dish out.Now it is up to you to eat it with plain chapaati/bread or eat it with a fork.hope you’ll like this sofa text express train food journey.