61% of Pakistan’s doctors are obese, research.


(photo by dawn news) 61% of Pakistan’s doctors are obese, research.

In Pakistan, 61% of doctors, including cardiologists, are obese and 7.5% are addicted to smoking.
This was revealed in a study conducted by Dr. Salik Ahmed Memon, a researcher at the National Institute of Cardiology.
Dear readers, I came across a news item yesterday
November 21, 2021, according to Dawn News,
Obesity and smoking did not spare the doctors either.
The public should be more grateful to the doctors instead of worrying about it. That the doctors are standing side by side with the obese people who are present with a big fat body, tummy, and smoking addiction. So that the people can be encouraged that they are not the only ones who are a little bit obese or are addicted to cigarettes.Although all of them are known as doctors, first they are traditional Pakistanis.  No one can be called Pakistani till then who looks obese and addicted to cigarettes. People themselves keep inviting obesity. And doctors are spent in the service of the people and doctors don’t have time because they are busy, So The journey of the chairs up to the chairs. And then a few puffs of cigarettes … refreshed and made the destination of the next hospital easier. Exercise machines are waiting, jogging, walking only a dream.That is why in the car parking lot of Pakistani hospitals,   first a big tummy gets out of the car and then the rest of the man. Sometimes this obesity also becomes news.  When a fat person gets stuck in the door, the door has to be broken while this news was read a long time ago. An obese man was stuck between a wall in Rawalpindi and the wall had to be broken
Then he came out of there. I remember a song by Adnan Sami on it:
کہاں بس گئے ہو سپنوں کے ساگر میں
translation of the original song: Where are you settled
In the ocean of dreams?
now translated it after editing some words:
Where are you stuck,
In the door and the iron wall?
This is the story of our childhood, our uncles used to smoke, Seeing them also made us want to smoke cigarettes so we siblings first tried to smoke a cigarette. Everyone took a long puff of a cigarette and at the same time, the throat became very bitter and a severe cough started. that’s when my aunt caught us smoking. Then the whole life
Never again smoked for fear of a severe cough and being caught.

مشاہدہ


قارئین کرام!
ہر انسان اپنے اندر ایک مکمل داستان ھے، ہر  ایک کی مختلف کہانی ھے  اگرچہ میں سائنس کی اسٹوڈنٹ تو نہیں ہوں مگر اتنا جانتی ہوں  جیسے خدا کی قدرت کہ اربوں کھربوں کی تعداد میں نسلِ انسانی کا وجود جس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی ھے اور آج تک ایک بھی انسان کا finger print دوسرے انسان سے  کبھی بھیmatch نہیں ھوا، اللہ اکبرـ
DNA or ( deoxyribonucleic acid)
سے اس کی جسمانی حالت و انفرادیت اجاگر ھوتی ھے اسی طرح  ھم کہہ سکتے ہیں ہر انسان اپنی ذات میں ایک مکمل
  school of thought ھے، ہر انسان کا تجربہ
مشاہدہ ،حساسیت،ارد گرد کے ماحول کو سمجھنے پرکھنے کا انداز مختلف ہو سکتا ھے ہر انسان اپنے تمام گذرے وقت اور تجربات سے ہی grow کرتا ھے وہ اچھائی کی جانب بھی جا سکتا اور گناہوں کا راستہ بھی چن سکتا اگرچہ کسی کے اچھے برے ہونے میں اس کی ذات کے ساتھ ساتھ خاص طور پر اس کے والدین ،خاندان اور  اس کے دوست احباب سے اس کی شخصیت کا اندازہ کیا جاتا ھے مگر پیدائشی طور پر  نہ کوئی نیک ہوتا ھے نہ بُرا۔ایک انسان کا زندگی میں کئی اچھے برے کرداوں سے واسطہ رہتا ھے اور جن کا مشاہدہ ذرا strong ہو تو وہ ان کرداروں سے بہت گہرا اثر لیتے ھیں مجھے نہیں معلوم میرا  اب تک کامشاہدہ strong کہلائے جانے کے لائق ھے یا نہیں، میں اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات جو کہ اکثر میں آپ سے شیئر بھی کرتی ہوں  تو قارئین خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ میرا یہ مشاہدہ strong رہا اب تک یا میں نے ایویں ھی بونگیاں ماری ہیں۔
اگرچہ پاکستان میں 90s کے اوائل اور mid تک  کئی کمپنیاں اور offices کی سطح پر اپنے ملازمین کو basic کمپیوٹرسِکھانے کا رواج ہو چکا تھا اور ابو جی نے بھی اپنے آفس کی طرف سے یہ کمپیوٹر کا بنیادی کورس کیا تھا اور انہیں یہ کورس آفس میں russian team کے لوگ سِکھا رہے تھے جو ان دنوں پاکستان آئے ہوئے تھے یہیں سے میری کمپیوٹر سے وابستگی شروع ہوئی تھی کیونکہ ابو جی جو کچھ سیکھ رہے تھے وہ سب ہمیں اپنے notes کی مدد سے بتاتے رہتے ظاہر ھے ابھی کمپیوٹر گھروں میں ان دنوں عام نہ تھا۔
میری خوش قسمتی ھے کہ ھم 90s دہائی کےآخر کے سالوں کی نسل میں سے ھیں جنہوں نے کمپیوٹر، موبائل وغیرہ عام ہونے سے کچھ عرصہ قبل کا وہ شاندار زمانہ دیکھا ھے جسے ہم ٹیپ ریکارڈ، ٹیلی ویژن والا زمانہ کہہ سکتے ہیں جب فیملی، خاندان، اسکول مدرسہ،گلی محلہ کا ماحول بہت صاف ستھرا اور بااعتبار سا تھا ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ سے سب لوگوں کا لینا دینا تھا چونکہ گلی محلوں کا ماحول اچھا تھا تو ایک 1-2 سال کے بچوں سے لے کر 14-15 سال کی لڑکیاں تک گلی میں چُھپن چُھپائی hide and seek اور رسی کودنے  jump rope جیسے صحتمند کھیل کھیلتی تھیں ایک بچہ گلی میں گُم جاتا تو پوری گلی کے لوگ مِل کر اس کو ڈھونڈا کرتے تھےکوئ بچہ ویڈیو گیم کی دکان پر دیرکرتا تو پڑوسی ہی اس کی خبر لے لیتے اور کان سے پکڑ کر گھر چھوڑ دیا کرتے تھے ریٹائرڈ انکل آنٹیاں مفت میں اسکول کے ھوم ورک کے ساتھ ٹافیاں، مٹھائیاں بچوں کو کھِلا کے خوشی محسوس کرتے،  اسپیشل پکوان جیسے بریانی، زردہ ،قورمہ کڑی،کھیر وغیرہ  کسی کے ہاں بنتے تو گلی والوں کی پلیٹ پہلے تیار ہوتی تھی اور کوئی اندرون شہروں سے اپنے پیاروں سے مل کر  آتا تو اپنے علاقے کی فصل کے حساب سے ،گنے ،چاول، خربوزے ،ٹماٹر یا پھر اچار، مٹھائی پوری گلی میں تقسیم ہوتی کوئی بیرون ممالک سے آتا تو لا تعداد ٹافیاں اور چاکلیٹس گلی میں وافر مقدار میں سب بچوں کو ملتیں ، رمضان عید اور یوم آزادی سمیت دیگر تہوار مل کر منائے جاتے یوم آزادی پر اپنے ہاتھوں سے گلیاں صاف کرنا اور پھر جھنڈیوں سے گھر سے لیکر پوری گلی کو سجایا جاتا اور سب بچوں میں  برابر کا کام بچوں کا لیڈر تقسیم کر دیتا تھا جو حکلم عدولی کرتا اسے بچہ ٹیم سے فارغ کر دیا جاتا جب تک وہ معافی تلافی کر کے دوبارہ ٹیم نہ جوائن کر لیتا، میٹھی عید پر عید کارڈ کے ساتھ اسکول اور محلےکی دوستوں  میں مہندی،بالیاں،چوڑیاں،رومال لاکٹ چین اور نقد عیدی بھی ساتھ بھجوانے کا اہتمام ہوتا تھا یہ سب چیزیں اب نہیں، کھو گئیں ہیں کہیں۔  ایک گھر شادی ہوتی تو شادی کے دنوں تک گلی والوں کے کھانا نہ پکتا شادی کے گھر والے افراد کھانے کے ٹائم خود بلا بلا کر اپنے گھر کھانا کھلاتے پھر بھی اتنی برکت کہ دیگ کے کھانے  گلیوں میں بانٹ دیئے جاتے،اور آج کئی قسم  کی  quick service for food delivery ایپس موبائلز میں download ہیں اور کھانے کی لذت ان دیگ کے کھانوں کے half بھی نہیں،
   آج تو ایک ھی گھر میں سب “لئےديئے”رہتے ہیں ایک ھی گھر میں رہتے ہوئے اپنے اپنے کمروں میں الگ الگ دنیائیں ضرور آباد ہیں اور گھر کے t.v lounge کہلانے والے حصے ویران پڑے ہیں ہفتے ہفتے ایک دوسرے کی شکلیں نہیں نظر آتیں اور پھر بھی بیزاری سی بیزاری ھے کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں عجیب بے اعتباری اور مفاد پرستی معاشرے میں پھیل رہی ھے۔ اب چھوٹے بچے بچیاں آزادی سے گلی میں نہیں کھیل سکتے مجھے بہت افسوس ھے اس بات کا کاش میں ان سب کو اپنے جیسا بچپن دے پاتی اب نہ وہ گلیاں نہ وہ گھر نہ وہ گھروں کے مکین ھیں۔
افوہ  کچھ فضا میں گُھٹن سی نہیں  بڑہ گئی؟  یہ میں کہاں نکل گئی بس بات سے بات نکلے ہی چلی گئی چلیں چھوڑیں اب آپ سے میں اپنا ایک ہلکا پُھلکا observation کا شاندار تجربہ شیئر کرتی ہوں
مجھے وہ دیگ یاد آرہی ھے جو گلی میں تیار ہوتی تھی بریانی کی اور ھم بچے اس میں شوق شوق سے اپنے قد جتنا بڑاوالا(چمچہ) کفگیر پھیر کر ایک فخرسا محسوس کرتے کہ ھم نے بھی دیگ پکائی۔   دیگ کی تیاری بڑے شوق سے دیکھا کرتے تھے۔ دیگ کا احوال کچھ یوں ھے کہ 3 عدد بڑے سائز  کےسیمنٹ کے بلاکس کی مدد سے ایک چولہا تیار کر کے اس کے درمیان میں لکڑیاں اور کوئلہ ڈال کر مٹی کا تیل چِھڑکا جاتا اور اسے آگ دکھائی جاتی  کوئلہ ولکڑیاں   چَٹاخ پَٹاخ کرتی سُلگنے لگ جاتیں ، ایک انکل گھر سے باہر چارپائی ڈالے اس پر بڑی مہارت سے پانچ سات کلو پیاز چھیل اور کاٹ رہے ہوتے اور ایک انکل لوہے کے امام دستے میں لہسن ادرک کوٹ رہے ہوتے وہ “ٹَھک ٹَن” بڑی پیاری لگتی اِک بڑے سے دھاتی ٹب میں گوشت کو بِھگو کر صاف کیا جاتا اور ایک ٹب میں چاول بھیگے ہوتے، دو آدمی تیزی سے چار پانچ کلو ٹماٹر  سلائس میں کاٹتے اور اتنے ہی آلو بڑے ٹکڑوں میں کاٹتے جاتے تین چار کلو دہی ایک جگ میں موجود ہوتا، دیگ یا دیگوں کے حساب سے تلو یا ڈالڈے گھی کے 5 کلو کے ایک دو ڈبے پاس دھرے ہوتے ،  خشک آلو بخارا  گرم مصالحے کی پُڑیاں نمک مرچ دھنیا پاؤڈر کھول کر ایک پلیٹ میں رکھتے جاتے ایک طرف پودینہ ہری مرچ اور لیموں موجود ہوتے جبکہ کچھ گرم مصالحہ جات کا ایک حصہ پاؤڈر بنا لیا جاتا فَضا میں سُلگتی لکڑی کوئلے اور تمام مصالحہ جات کی وہ خوشبو ناک کے نتھنوں سے ہوتی بھوک کو جگاتی دماغ روشن کرتی رہتی جب تک وہ دیگ تیار نہ ہو جاتی انتظار کی سُولی دیکھنا پڑتی۔ پھر دو آدمی چولہے پر ایک دیگ میں پانی چاولوں کے حساب سے ڈالتے  اس میں نمک، تیز پات،لونگیں  اور دار چینی  شامل کر کے اُبالتے، چاول شامل کر تے پھر چاول ایک کنی ابال کر کے بڑی سی کھجوری چھال کے ٹوکری میں انڈیل کر کے پانی نتھارتےاور چارپائی پر رکھ دیتے اُدھر دوسرے انکل گھی کے ڈبے کھول کر بریانی کے حساب سے دوسری چولہا چڑھی دیگ میں انڈیلتےاور اس میں پیاز کڑکڑاتے پھر باری باری نمک مرچ دھنیا پاؤڈر لہسن ادرک کا بہت سارا پیسٹ شامل کرتے جاتے مجھے یہ سب جادو سا لگتا اتنی بڑی دیگ اتنی ساری مرچی نمک وغیر ہ دیگ میں جاتا پھر گوشت اس میں ڈال کر بھونتے دہی شامل کرتے اور چمچہ چلتارہتا  پھر آخر میں ٹماٹر آلو پودینہ ہری مرچ، لیمن آلو بخارا ، زردہ رنگ ڈال کر اور چاول ڈال کر دم دیا جاتا جب دیگ کا ڈھکن کھلتا تو آہاہاہا یہاں نور جہاں کی غزل معذرت اور کچھ ردوبدل کے ساتھ
؎ہماری سانسوں میں آج تک وہ دیگ کی خوشبو مہک رہی ھے
بیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے
بھوک کی بلی مَچل رہی تھی ـ”
کیا بتاؤں بس الفاظ ھی نہیں میرے پاس،وہ لذت وہ خوشبو۔ وہ شاندار ذائقہ
  اب آجکل جو دوکانوں پر دیگیں تیار ہوتی ہیں وہ سب مجھے artificial سا ذائقہ لئے لگتی ہیں  دیسی touch غائب ہوتا جارہا ھے چائنہ پیاز چائنہ آلو،لہسن ٹماٹر اور پریشر والا گوشت ان سب کی بدولت دیسی کھانوں کا ذائقہ تباہ ہو کر رہ گیا ھے۔
لیجیئے میں نے آپ کو دیگی بریانی کی مکمل recipe بھی بتا دی آپ چاہیں تو اپنے گھروں میں اب یہ ترکیبب try کر سکتے ہیں بمعہ اصلی دیسی چیزوں کے ساتھ۔

موٹاپا


( تصویر شکریئے کے ساتھ ڈان نیوز اردو چینل)
پاکستان کے 61 فیصد ڈاکٹر
موٹاپے کے شکار، تحقیق

پاکستان میں ماہرین امراض قلب سمیت 61 فیصد ڈاکٹر موٹاپے کی بیماری کا شکار ہیں جبکہ ساڑھے سات فیصد ڈاکٹر سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ اس بات کا انکشاف قومی ادارہ برائے امراض قلب کے محقق ڈاکٹر سالک احمد میمن کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں کیا گیا۔

قارئین کرام کل ایک خبر نظر سے گذری
21 نومبر 2021 ڈان نیوز کی خبر کے مطابق موٹاپے اور سگریٹ نوشی نے ڈاکٹرز کو بھی نہیں بخشا اس پر عوام کو تشویش کا شکار ہونے کی بجائے ڈاکٹرز کا مزید شکر گذار ھونا چاہئے کہ موٹاپے کا شکار عوام کا ساتھ دینے کے لئے ڈاکٹرز ان کے شانہ بہ شانہ وسیع جائیداد کی سی توند اور سگریٹ نوشی کی لت کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ساتھ کھڑے ہیں تاکہ عوام کو حوصلہ ملتا رہے کہ ایک وہ ہی اکیلے تھوڑی موٹاپے کا شکار ہیں یا سگریٹ کی لت میں مبتلا ہیں ڈاکٹرز تو وہ بعد میں ھوں گے پہلے تو روایتی پاکستانی ھی ہیں نا اور وہ پاکستانی کیا جو  موٹاپا و توند اور سگریٹ لت کے بغیر نظر آئے عوام  تو خود موٹاپے کو دعوت دیتےرہتے ہیں  اور ڈاکٹر صاحبان کو عوام کی خدمت سے  فرصت نہیں ملتی کرسیوں کا سفر کرسیوں تک رہ جاتا ساتھ اور پھر سگریٹ کے چند کش۔۔۔تازہ دم کر کے اگلے اسپتال کی منزل آسان بنا دیتے ھیں,exercise machines منتظر رہ جاتیں،  jogging, walking خواب میں ہی ھو جاتی۔ یہی وجہ ھے کہ اسپتالوں کی کار پارکنگ پر تقریباً ہر کار سے ایک عدد توند پہلے برآمد ہوتی ھے پھر باقی کا انسان،  یہی حال کسی entrance پر بھی نظر آتا ھے پہلے توند کی تشریف آوری ہوتی ھے پھر باقی پورے انسان کی۔ کبھی کبھی یہ موٹاپا بھی خبر بن جاتا ھے جب دروازے میں کوئی موٹا انسان پھنس جائے تو دروازہ توڑ کر نکالنا پڑ جاتا ھے جبکہ بہت عرصہ پہلے یہ بھی خبر پڑھی تھی کہ راولپنڈی کی ایک دیوار کے درمیان ایک موٹاپے کا شکار انسان ایسے پھنس گیا کہ دیوار توڑنا پڑی جب جا کے وہ وہاں سے نکلا مجھے اس پر عدنان سمیع کا ایک گیت یاد آرہا ھے کچھ edit کر کے
اصلی بول ہیں گانے کے
؎ کہاں بس گئے ہو سپنوں کے ساگر میں(عدنان سمیع سےمعذرت کے ساتھ یہ ایڈیٹینگ)
؎کہاں پھنس گئے ہو دیوارِ آہن میں
بچپن میں ایک بار سگریٹ ہم بہن بھائیوں نے مل کر ٹرائی کی تھی کیونکہ ھمارے  ماموں جی  سگریٹ پیا کرتےتھے تو ہم متاثرینِ سگریٹ ہو گئے اور سب بچہ پارٹی نے بڑوں سے نظر بچا کے ایک سگریٹ سلگائی اور  سب نے لگایا ایک لمبا کَش ساتھ ہی حلق شدید کڑوا ھو گیا اور کھانسی کا ایسا اٹیک کہ ال امان الحفیظ جس میں مابدولت کی کھانسی کسی ہیروئینچی جیسی زور زور سے شروع ہو گئ باقی بہن بھائ  کچھ ہلکے کھانستے کہنےلگے اب پکڑے جائیں گے تمہاری آواز سے اتنے میں خالہ کی آمد ھو گئی خالہ نے پہلا سوال کیا یہ سگریٹ کون پی رہا ھے ھم بچے جھٹ بولے ماموں اٹھ کر گئے ہیں تب تک وہ سگریٹ زمین پر بھائی نے پھینک کر پاؤں کے نیچے دبا لی تھی وہ ہم سب کا پہلا اور آخری سگریٹ ثابت ھوا شکریہ اس کھانسی کے اٹیک کا جس نے ہمیں آئندہ کے لئے محفوظ کر دیا شاپنگ مالز میں اکثر ایسے uncles کا سامنا ھوا ھے کہ اچانک سامنے سے ایک بے ہنگم  بڑی سی توند بر آمد ہوتی ھے اور اس پر کچھ مقدار میں لگا ھوا انسان اک شان بے نیازی لئے چل رہا ہوتا ہے
کہ
  بقول نشتر امروہوی
؎”جسم پر نشترؔ کوئی بھی سوٹ فٹ آتا نہیں
ہو گئی ہے توند کی کچھ ایسی گولائی کہ بس۔”
  اب یہی کہہ سکتی ہوں اللہ ھم سب کو وسیع توند  و موٹاپے اور سگریٹ جیسی بری عادات سے بچائے رکھے۔
نوٹ: تحریر کا حق ما بدولت کی جاگیر ھے۔

only 5 Easy ways to get rid of foot and leg fatigue.


Have you ever had a foot spasm or
does leg fatigue make you restless?

Get ready here is an effective solution to your problem.Only 5 simple ways described in this blog you can get rid of this problem.
There is a feeling of pain in the legs and fatigue in the feet due to overwork, climbing stairs too much and often standing for too long. it affects men, women and children. Sometimes sitting position can also make us tired. Hanging your feet on a chair for a long time is a big reason for this, and because of this fatigue, the pain often makes it difficult to sleep
Or sleep deprivation. Here are some tips to help you get rid of this fatigue in simple ways

So let’s get started:
1. First of all check your body’s levels of vitamin A and vitamin D and maintain these levels as needed.
2. Don’t hang your feet for too long,
If for some reason you have to sit in this position, place a foot holder under your feet according to the level of your chair and legs.For example, a small children’s chair or small table/plastic stool would be better for that.
3. If you have to work standing up, So in the meantime, sit down for a while every half an hour and take a short walk.
4. Day or night whenever you have some time, take a tub or bucket with lukewarm water and mix 1 tablespoon of salt. Soak your legs and feet in this lukewarm water for 10 or 15 minutes.
5. Massage the feet and legs gently with soft hands. Olive, mustard or coconut oil is best for massage or you can mix all three oils if you wish.Also massage the soles of the feet,  between toes and fingers. it helps in getting a good night’s sleep.

I hope you enjoyed today’s Sofa Text Journey, and you will feel refreshed after foot massage. Because my readers have been sitting on the sofa text express train with their feet hanging for a long time, So it was necessary to refresh.

ارب پتی


قارئینِ کرام!
کسی بھی قسم کے روزگار اور کام کے بغیر گھر بیٹھے آپ پہلےلکھ پتی،کروڑ پتی، ارب ،کھرب، مِلیئن و بِلیئن اور پھر ٹرِلیئن بن جائیں تو یقیناً لوگ آپ کو اھلاً و سھلاً کہنے والے مشہور شہزادہ سلمان کا قریبی رشتے دار سمجھیں گے۔یا  پھر آپ مارک زکربرگ،بل گیٹس کا ہم پَلّہ قرار پائیں گے۔ اور مجھے آپ سب کو یہ بتاتے ہوئے بے حد خوشی محسوس ہو رہی ھے  کی zong dead work oh 
sorry مطلب net work
کی بدولت اور ایک بے لوث اَن دیکھے عوام کی خدمت کے بے تاج و عظیم و بے مثال فی سبیل اللہ پروگرام کی بدولت میں بہت جَلد  دنیا کے امیروں کا ریکارڈ توڑ کر ان سب میں پہلے نمبر پر جانے لگی ھوں اور مزید عجیب بات یہ ھے کہ میں نے اس پروگرام میں کبھی شرکت بھی نہیں کی اور پھر بھی مجھے انہوں نے اس منزل تک پہنچایا میں کس منہ سے ان سب کا شکریہ ادا کروں بس یہی منہ ھے میرے پاس میرے محسنو ! شکریہ قبول فرماؤ ویسے آپ نہ بھی شکریہ وصول کرو تو میرا کیا چلے جانا ھے ویسے ھی جیسے آپ کے غائبانہ انعام واکرام کی مجھ نا چیز کے پاس ایک  طویل فہرست ھے اور میں پھر بھی خالی ہاتھ ہوں ایسے ہی۔ اچھا یہ انعامات و اکرام کی بارش فقط کُل میری جائداد نہیں بلکہ اس میں مجھے %101
یقین ھے کہ باقی پاکستانی بہن بھائی بھی اسی طرح  جلد بِیلینئر بن جائیں گے۔ پروگرام کی طرف سے مبارک بادیاں اور زونگ کے لا تعداد پیکیچیز، خوشخبریاں میں نے اتنی بار وصول کیں کہ مجھ ادنیٰ ھستی سے یہ خوشیاں سنبھالے نہیں سنبھل رہیں جیسے ھمارے بچپن کی بات ھے ہمارے محلے میں ھم بچوں کے گروپ کیپٹن شاہد کے دادا ابو کا پچاس ہزار کا پرائز بانڈ نکل آیا اور وہ یہ خوشی نہ سنبھال پائے اور انہیں ہارٹ اٹیک ہو گیا میں نے زندگی میں پہلی بار خوشی کی کیفیت میں بیمار ہو کے  کسی کو ایمبولینس میں اسپتال جاتے دیکھا تھا جبکہ دادا جی نے یہ رقم اپنے اکلوتے پوتے شاہد اور اس کی دو بہنوں کے نام اسپتال جانے سے پہلے ہی کر دی تھی اور ان دنوں کے حساب سے یہ تھی بھی اچھی خاصی رقم ۔بات کہاں سے کہاں نکل گئی ہاں تو میں کہہ رہی ہوں کہ مجھ سے ان عظیم  خوشیوں کا بار نہیں سنبھل رہا میں نے زونگ اور اس پروگرام کے لا تعداد خوشخبری کے توجہ دلاؤ نوٹس مطلب پیغامات کو ڈیلیٹ بھی کیا ظاہر ھے مجھے اپنی جان پیاری ھے کہیں دل کا دورہ نہ پڑ جائے،  اور ڈر کر میں نے “پروگرام” کے پیغامات کو بلاک بھی کیا مگر عجب جادوئی خوش خبریاں ھیں دو دو دِن کے وقفے سے مجھ پر بارش کی برسات کی طرح برستی ہیں اور میں حیرت زدہ کسی سلطنت کے “عظیم الشان شہنشاہ فَرماں رَوا” کی  دولت لٹانے  کی سی مہربانی والے میسیجز دیکھ کر خود کو  بہت جَلد مارک زکر برگ، بل گیٹس یا ایلن مسک کی فہرست میں دیکھ رہی ہوں میں تمام پڑھنے والو سے وہ سب پیغامات ابھی شیئر کر رہی ہوں ویسے بھی شیئر نگ اِز کیئرنگ ھے ناکیا پتہ کتنے لوگ اور ارب پتی پن جائیں میری اس چھوٹی سی نیکی سے، اور کیا آپ اس پروگرام کا نام جاننا چاہیں گے؟جسے نہ کبھی میں نے ٹی -وی پر دیکھا نہ ہی کبھی شرکت کی پھر بھی میں نے ان کے پروگرام میں قرعہ اندازی جیت لی جیسے نواز شریف لندن میں اور ان  کو پاکستان میں کورونا ویکسین لگا دی گئی ویسے۔  اس پروگرام کا نام ھے
چھوڑو پاکستان
نہیں نہیں جیتو پاکستان۔آپ ان سب کا کھلا ثبوت تصاویر میں دیکھیں اگر دو ماہ میں اتنی رقم،  اور سونا میرے حصے میں آیا تو   پورے دو چار سال کے پچھلے حساب سے اور آنیوالے دو سال تک دنیا میں موجود قارون کے متروک frozen account جیسے  خزانوں پر اس حساب سے میرا راج ہو گا۔ اور لا تعداد لیپ ٹاپس کے انعامات کے بعد مجھے  “لیپ ٹاپ کرائے پر دستیاب ہیں” کا کاروبار کر لینا چاہیئے۔ لیجئے ابھی انعامات کا ذکر میں تحریر کر رہی تھی کہ میرے  اثاثہ جات میں  مزید اضافہ ہو  گیا ھے “لُوٹو پاکستان” پروگرام کے ایک مزید میسیج کی بدولت٠اس کو بھی تصاویر میں دیکھیں۔ اور سر دھنتے جائیں اتنی دولت اتنے انعامات۔ سب کے سب لُوٹو، جیتو چھوڑو اور فراڈو کی بدولت ھیں ۔

Cricket ICC T20 Worldcup 2021.


Courtesy image https://www.thetealmango.com/latest/how-to-watch-pakistan-vs-australia-live-stream/#

ICC Please note this is a request from a cricket fan
I want a new rule in cricket. There should be 2 finals in the CricketT20 World cup-like England lost the semi final match (group A) and Pakistan lost semi final match (group B)
So a final match should be held between these losing teams
and the small trophy
(نِکّی ٹرافی)
should be given to the winning team.
Pakistan played well but today was not our day. when the catch was dropped by Hasan Ali. That was the turning point of the match. Congrats Australia, But now I am with New Zealand.

A very Quick and Easy Recipe Saffron milk with only 3 ingredients.


Saffron milk is a popular energy drink in Pakistan.
People use this energy drink every season, but in the winter season, the demand for saffron milk increases in Pakistan. The main reason for its warm effects and is best for the heart, liver, and brain health, so it is mixed with milk and is preferred for drinking. It is also used in other foods.

Yummy

It is good to take before going to bed in winter and it relieves the fatigue of the day. The Saffron’s plant grows in Quetta City and its environs in Pakistan. Saffron is also found in Kashmir, Iran, Turkey, Spain, China, Italy, France, and Portugal. Today we will talk about the recipe for delicious saffron milk. This is an instant nutritional recipe. This is a favorite energy drink of children and adults.

Note: 1.This milk recipe  is for 5 years old and all adults.
(Be sure to consult a doctor for anyone under the age of 5).
2.Those who are allergic to milk or
People with diarrhea should not try this recipe.

Prep. 5 mins Cook. 15 mins Total . 20 mins Servings. 2

Ingredients: fresh full cream milk 1 liter
Saffron strands Level 1/2 tsp (some pieces of saffron)
sugar 2 tbsp(or to your taste).

Recipe:
1. Pour the milk into a pan
2. Keep the milk on high flame until it boils.
3. Now slow the flame.
4. Add in the milk saffron strands+ sugar.
5. Let it simmer for 10-11 minutes on medium flame.
6. Turn off the stove and mix it well.
7. Now you drink it hot or cold, as you like. Some people also like finely chopped pistachios and almonds in saffron milk.So if you want more taste, add 1tsp of chopped almonds and pistachios When you start pouring it into the glass.

Some people also like rose petals in this energy drink.If you like then you can add petals.

I hope you all enjoyed today’s trip of our Sofa Text Express train. When you try this recipe, send me a glass too. So that I can create another nice and delicious blog.Ha ha ha

دانت


قارئینِ کرام!
خوبصورت اور چمکدار دانت کسی بھی شخصیت میں چار چاند لگا سکتے ہیں اور  یہی  دانت اس بات کے بالکل اُلٹ ہوں تو  پھر وہ چار چاند کبھی نہیں نکلتے اور ہو سکتا ھے کہ اس کی بجائے چار دانت منہ سے نکل جائیں اور تازہ ھوا کے جھونکے اس خَلا سے حلق تک پہنچیں جیسے
؎ دل کے افسانے نگاھوں کی زبان تک پہنچے
بس یہاں سےافسانے اگلی ٹرین نگاھوں کے بعد  دانتوں کی بھی لے سکتے ہیں ، نہیں معلوم دنیا میں اب تک  کتنے لوگ محبتوں کی داستانوں میں ایک “بتیسی” پہ دل ھار بیٹھے  ھوں گے  اور بعد میں اس جعلی بتیسی کا راز کھلنے پر ان کا دل خون کے آنسو رویا ہو گا ٹوٹے دل کی بجائے ٹوٹے دانتوں کے ساتھ ، بالکل اس طرح جیسا زیڈال کا اشتہار اخبار میں کبھی آیا کرتا تھا
؎ “یہ کیا ساس نے دولہے کے سر پہ ہاتھ پھیرا وِگ ہاتھ میں آگئی، شرمندگی سے بچیئے آج ہی زیڈال استمعال کریں بالوں کو مضبوط گھنا بنائے”  غرض جتنی بتیسیاں اتنے افسانے۔دانتوں کے ساتھ ہی آخر میں جو داڑھیں موجود ہوتی ہیں ان میں اوپر نیچے دو دو داڑھوں پر مشتمل کُل چار داڑھوں کا ایک set موجود ہوتا ھے عقل داڑھ,  بےعقل داڑھ , بیوقوف داڑھ اور پاگل خبطی داڑھ بس جس انسان میں جو داڑھ زیادہ active ہو گی وہی خوبیاں اس انسان میں موجود ھوں گی ۔ Dentist کے پاس کبھی آپکا جانا ہو تو دیکھئے گا ایک عدد جگمگاتی سی بتیسی آپکو welcome کہنے ٹیبل پر موجود ہو گی آپ کو بھی چاہئے اس سے حال احوال پوچھ لیں- مشہور شخصیات کی یادگاروں میں ان کے زیر استمعال کپڑوں سے لے کر قلم تک نیلام ہوتے ہیں اب یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی کہ  کسی خاص و عام کی جانب سے کبھی بھی کوئی  بتیسی نہ نیلام ہوئی ۔
teeth braces treatment 
   سے یا اب اور بھی جدید میڈیکل ٹیکنالوجی کی بدولت ٹیڑھے میڑھے دانتوں کو اچھے بچوں کی طرح بڑ ے آرام سے ایک ترتیب میں بٹھایا جا سکتا ھے۔ جبکہ شکل و صورت و جبڑے کی ساخت  سے ملتی جلتی پوری نقلی بتیسی مارکیٹ میں بالوں کی وِگ کی طرح بھی مل جاتی ھے سامنے کے دو یا اوپر تلے چار،چھ دانتوں کے set  بھی بآسانی مارکیٹ میں دستیاب ہیں کیا ہی اچھا ہوتا ان نقلی دانتوں کے ساتھ ایک زبان بھی دستیاب ہوتی وہ زبان جو “دے کر” کبھی نہ بدلی جاتی جیسا کہ آجکل زبان دے کے مُکر جانا عام ھے تو یہ دوسری زبان کام آ جاتی۔خیر ابھی تو ھم ذرا دانتوں کی بات کر لیں ایک مرتبہ گرمیوں کی چُھٹیاں تھیں میں اپنی پھوپھو کے گھر میں رہنے گئی۔ پھوپھو، میں اور میری کزن ہم سب ایک بڑے بیڈ پر سو رہی تھیں اور سونے سے پہلے پھوپھو نے ڈریسنگ ٹیبل پر اپنی بتیسی ایک باؤل میں بھگو کے رکھی تھی جس کا مجھے اس وقت نہیں معلوم تھا آدھی رات کا ٹائم تھا میں اٹھ کے واش روم جانے لگی ڈریسنگ ٹیبل پر نظر پڑی وہ جسے کہتے ہیں نا ڈر کے گھِگِھی بند گئی وہ حال میرا ھوا نہ منہ سے کوئی آواز نکلےاور قدم لگا کہ زمین نے جکڑ لئے کچھ نیند میں بھی تھی کتنی دیر سوچتی رہی کہ یہ عجیب سی کیا چیز ھے بڑا ڈر لگا پھر پھوپھو نے کروٹ لی تو مجھے لگا وہ جاگ گئی ہیں میں نے بھی زور زور سے ان کو آواز دی پھو پھو نے کہا کیا ھوا میں نے باؤل میں بھیگی عجیب شے کے بارے پوچھا تو پھوپھو نے بتایا کہ ارے کچھ نہیں بس دانت رات کو منہ میں تکلیف دیتے تو میں نکال کے ایسے رکھ دیتی ہوں۔مگر میں وہاں جتنے دن رہی رات کو اکثر اس بتیسی سے ڈر  جاتی تھی۔ اوپر سے پھوپھو کو غور سے دیکھا تو دانتوں کے بغیر پھوپھو کا چہرہ بدلا بدلا سا تھا جبکہ دِن میں  اس چمکدار نقلی بتیسی کے ساتھ پھوپھو کی ہنسی بڑی بَھلی لگتی تھی۔  اصلی دانت  اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہیں ہم ان کی حفاظت کر کے ان کی عمر اور بھی بڑھا سکتے ہیں۔
دانتوں کو چمکدار بنانے کے لئے مارکیٹ میں ایک سے بڑھ کے ایک  پراڈکٹ موجود ہے مگر یہ بات سمجھ سے باہر ھے کہ جانور چوپائے جو  گھاس اورچارے وغیرہ کااستمعال کرتے ہیں نہ کوئی ٹوتھ برش نہ ٹوتھ پیسٹ استمعال کر تے ہیں، نہ کوئی اور دادی اماں کا ٹوٹکا پھر  بھی اتنے چمکدار ایک  جیسے ترتیب والے دانت ہوتے ہیں اُن کے، اور آپ یقین مانیں ان سب میں گدھا سب سے آگے ھے ہاتھی دانت اتنے خوفناک سے لگتے اور پھر بھی پوری دنیا میں  ہاتھی دانت کی چوری  ہوتی ھے  جبکہ اتنی خوبصورت چمکدار گدھے کے دانتوں کی بتیسی کی چوری ہو گئی یہ  کبھی نہ سنا ، بس نصیب اپنا اپنا ، آخر گدھے کے پاس دانتوں کی دلکشی کا کیا راز ھے یہ تو ماھرین دانتیات کو چاہئے کہ اس پر ریسرچ کریں اورگدھے کی خوراک میں شامل اس گھاس پر اور جڑی بوٹیوں پر تحقیق کریں کہ جو گدھا روزمرہ اپنے کھانے کی روٹین میں رکھتا ھے پھر ان جڑی بوٹیوں پر مشتمل کوئی اچھا سا ٹوتھ پیسٹ\ ٹوتھ پالش بنا کر انسانوں کے لئے متعارف کروا کے مارکیٹ لانا چاہئیے- اور پراڈکٹ کو مشہور کرنے کےلئے پراڈکٹ کا نام کسی ہالی ووڈ اسٹار پر رکھ لیں مثلاً جیسے کہ   mariyln monroe toothpaste
یا
tom cruise tooth polish
            باقیوں کا نہیں معلوم  مگرمتاثرینِ اسٹاریات
star= stariyaat پاکستانی قوم دھڑا دھڑ خریدے گی۔بس  یا تو پھر قوم کے دانت چمکیں گے یا کسی کی جیب چمکے گی۔
ہمارے ہاں ٹوتھ پیسٹ کی دو چار اقسام اب بھی ایسی موجود ہیں جو کہ معیاری کہلائے جانے کے لائق ہیں اور مزے کی بات ان کا اشتہار ٹی وی پر بھی نہیں آتا مطلب ان کی تشہیر کی ضرورت نہیں پڑتی، مارکیٹ میں اس کے بغیر بھی اس پراڈکٹ کی مانگ ھے۔ کچھ بات مسواک کے حوالے سے بھی ھے کہ
گذشتہ دس بارہ سالوں سے مسواک کے استمعال کی میری عادت ھے اور ان سالوں کے تجربے کی بنیاد پر میں کہہ سکتی ہوں کہ دانتوں کی بیماریوں سے بچاؤ کا یہ بہترین طریقہ ھے ٹوتھ برش پیسٹ کے استمعال کے ساتھ ساتھ مسواک کااستمعال دانتوں کے لئے بہترین ھے اور ایک مزید چھوٹی سی بات کا خیال کر کے دانتوں کی بیماریوں سے بچا سکتا ھے کسی بھی قسم کا میٹھا استمعال کرنے کے بعد کُلی کرنا نہ بھولیں چاھے آپ نے ایک چاکلیٹ اِسٹک یا کوئی میٹھی سِپاری ہی کیوں نہ لی ہو۔ رات کو دانت صاف نہ کر سکیں تو سادہ پانی کی کلیاں کرنی چاہئے اس کے بغیر کبھی مت سوئیں روز مرہ روٹین میں مسواک کا استمعال کریں شروع میں کچھ مشکل ہو گی مگر جب  مسواک کی عادت ہو جائے گی تو اس کے فائدہ مند نتائج  آپ خود دیکھیں گے ۔ مسواک کا جب پیکٹ کھولو تو تازہ مسواک کی خوشبو بہت اعلی ہوتی ھے پورا ایک دن تو بہت تیز رہتی پھر مدھم پڑتی جاتی مسواک کے بے حد فوائد ہیں اس کے علاوہ ایک دادی اماں کا آسانی سے بننے والا ٹوٹکا بھی gums مسوڑھوں کی بیماریوں سے نجات دیتا ھے اور دانتوں کو مضبوط چمکدار بناتا ھے اس کےلئے سات یا  آٹھ ٹیبل اسپون کوئی سا بھی نمک لے لیں باریک ہو تو بہتر ھےپھر اس میں دو ٹی اسپون سرسوں آئل اور ایک ٹی اسپون کوکونٹ آئل مکس کر لیں چاہیں تو سرسوں کے بجائے زیتون آئل بھی لے سکتے ہیں اب اسے کسی خشک بوتل میں محفوظ کر لیں نمک میں آئل کی مقدار ایسی رکھنی ھے جس سے یہ ایک گاڑھا سا پیسٹ سا بن جائے، اس مکسچر کا کچھ حصہ دانتوں پر مل لیں اور پھر کلیاں کر لیں، اس کو رات سونے سے قبل کرنا زیادہ بہتر ھے،  اگر سات آٹھ چمچوں کا مکسچر بنانا مشکل ھو تو آپ فوری استمعال کےلئے 1/4 سے تھوڑاسا زیادہ چمچ  اپنی ہتیھلی پر  لے کر سرسوں کھوپرا یا زیتون کےتیل چند قطرے مکس کر کے دانتوں کے لئے استمعال کر سکتے ہیں یہ مکسچر دانتوں کو چمکدار بھی بناتا اور مضبوط بھی۔ اور gums کے لئے بھی بہترین ھے۔آپ اسے ایک  ہفتے میں چاہیں ایک دو بار یا روزانہ بھی استمعال کر سکتے ہیں۔