مشاہدہ


قارئین کرام!
ہر انسان اپنے اندر ایک مکمل داستان ھے، ہر  ایک کی مختلف کہانی ھے  اگرچہ میں سائنس کی اسٹوڈنٹ تو نہیں ہوں مگر اتنا جانتی ہوں  جیسے خدا کی قدرت کہ اربوں کھربوں کی تعداد میں نسلِ انسانی کا وجود جس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی ھے اور آج تک ایک بھی انسان کا finger print دوسرے انسان سے  کبھی بھیmatch نہیں ھوا، اللہ اکبرـ
DNA or ( deoxyribonucleic acid)
سے اس کی جسمانی حالت و انفرادیت اجاگر ھوتی ھے اسی طرح  ھم کہہ سکتے ہیں ہر انسان اپنی ذات میں ایک مکمل
  school of thought ھے، ہر انسان کا تجربہ
مشاہدہ ،حساسیت،ارد گرد کے ماحول کو سمجھنے پرکھنے کا انداز مختلف ہو سکتا ھے ہر انسان اپنے تمام گذرے وقت اور تجربات سے ہی grow کرتا ھے وہ اچھائی کی جانب بھی جا سکتا اور گناہوں کا راستہ بھی چن سکتا اگرچہ کسی کے اچھے برے ہونے میں اس کی ذات کے ساتھ ساتھ خاص طور پر اس کے والدین ،خاندان اور  اس کے دوست احباب سے اس کی شخصیت کا اندازہ کیا جاتا ھے مگر پیدائشی طور پر  نہ کوئی نیک ہوتا ھے نہ بُرا۔ایک انسان کا زندگی میں کئی اچھے برے کرداوں سے واسطہ رہتا ھے اور جن کا مشاہدہ ذرا strong ہو تو وہ ان کرداروں سے بہت گہرا اثر لیتے ھیں مجھے نہیں معلوم میرا  اب تک کامشاہدہ strong کہلائے جانے کے لائق ھے یا نہیں، میں اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات جو کہ اکثر میں آپ سے شیئر بھی کرتی ہوں  تو قارئین خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ میرا یہ مشاہدہ strong رہا اب تک یا میں نے ایویں ھی بونگیاں ماری ہیں۔
اگرچہ پاکستان میں 90s کے اوائل اور mid تک  کئی کمپنیاں اور offices کی سطح پر اپنے ملازمین کو basic کمپیوٹرسِکھانے کا رواج ہو چکا تھا اور ابو جی نے بھی اپنے آفس کی طرف سے یہ کمپیوٹر کا بنیادی کورس کیا تھا اور انہیں یہ کورس آفس میں russian team کے لوگ سِکھا رہے تھے جو ان دنوں پاکستان آئے ہوئے تھے یہیں سے میری کمپیوٹر سے وابستگی شروع ہوئی تھی کیونکہ ابو جی جو کچھ سیکھ رہے تھے وہ سب ہمیں اپنے notes کی مدد سے بتاتے رہتے ظاہر ھے ابھی کمپیوٹر گھروں میں ان دنوں عام نہ تھا۔
میری خوش قسمتی ھے کہ ھم 90s دہائی کےآخر کے سالوں کی نسل میں سے ھیں جنہوں نے کمپیوٹر، موبائل وغیرہ عام ہونے سے کچھ عرصہ قبل کا وہ شاندار زمانہ دیکھا ھے جسے ہم ٹیپ ریکارڈ، ٹیلی ویژن والا زمانہ کہہ سکتے ہیں جب فیملی، خاندان، اسکول مدرسہ،گلی محلہ کا ماحول بہت صاف ستھرا اور بااعتبار سا تھا ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ سے سب لوگوں کا لینا دینا تھا چونکہ گلی محلوں کا ماحول اچھا تھا تو ایک 1-2 سال کے بچوں سے لے کر 14-15 سال کی لڑکیاں تک گلی میں چُھپن چُھپائی hide and seek اور رسی کودنے  jump rope جیسے صحتمند کھیل کھیلتی تھیں ایک بچہ گلی میں گُم جاتا تو پوری گلی کے لوگ مِل کر اس کو ڈھونڈا کرتے تھےکوئ بچہ ویڈیو گیم کی دکان پر دیرکرتا تو پڑوسی ہی اس کی خبر لے لیتے اور کان سے پکڑ کر گھر چھوڑ دیا کرتے تھے ریٹائرڈ انکل آنٹیاں مفت میں اسکول کے ھوم ورک کے ساتھ ٹافیاں، مٹھائیاں بچوں کو کھِلا کے خوشی محسوس کرتے،  اسپیشل پکوان جیسے بریانی، زردہ ،قورمہ کڑی،کھیر وغیرہ  کسی کے ہاں بنتے تو گلی والوں کی پلیٹ پہلے تیار ہوتی تھی اور کوئی اندرون شہروں سے اپنے پیاروں سے مل کر  آتا تو اپنے علاقے کی فصل کے حساب سے ،گنے ،چاول، خربوزے ،ٹماٹر یا پھر اچار، مٹھائی پوری گلی میں تقسیم ہوتی کوئی بیرون ممالک سے آتا تو لا تعداد ٹافیاں اور چاکلیٹس گلی میں وافر مقدار میں سب بچوں کو ملتیں ، رمضان عید اور یوم آزادی سمیت دیگر تہوار مل کر منائے جاتے یوم آزادی پر اپنے ہاتھوں سے گلیاں صاف کرنا اور پھر جھنڈیوں سے گھر سے لیکر پوری گلی کو سجایا جاتا اور سب بچوں میں  برابر کا کام بچوں کا لیڈر تقسیم کر دیتا تھا جو حکلم عدولی کرتا اسے بچہ ٹیم سے فارغ کر دیا جاتا جب تک وہ معافی تلافی کر کے دوبارہ ٹیم نہ جوائن کر لیتا، میٹھی عید پر عید کارڈ کے ساتھ اسکول اور محلےکی دوستوں  میں مہندی،بالیاں،چوڑیاں،رومال لاکٹ چین اور نقد عیدی بھی ساتھ بھجوانے کا اہتمام ہوتا تھا یہ سب چیزیں اب نہیں، کھو گئیں ہیں کہیں۔  ایک گھر شادی ہوتی تو شادی کے دنوں تک گلی والوں کے کھانا نہ پکتا شادی کے گھر والے افراد کھانے کے ٹائم خود بلا بلا کر اپنے گھر کھانا کھلاتے پھر بھی اتنی برکت کہ دیگ کے کھانے  گلیوں میں بانٹ دیئے جاتے،اور آج کئی قسم  کی  quick service for food delivery ایپس موبائلز میں download ہیں اور کھانے کی لذت ان دیگ کے کھانوں کے half بھی نہیں،
   آج تو ایک ھی گھر میں سب “لئےديئے”رہتے ہیں ایک ھی گھر میں رہتے ہوئے اپنے اپنے کمروں میں الگ الگ دنیائیں ضرور آباد ہیں اور گھر کے t.v lounge کہلانے والے حصے ویران پڑے ہیں ہفتے ہفتے ایک دوسرے کی شکلیں نہیں نظر آتیں اور پھر بھی بیزاری سی بیزاری ھے کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں عجیب بے اعتباری اور مفاد پرستی معاشرے میں پھیل رہی ھے۔ اب چھوٹے بچے بچیاں آزادی سے گلی میں نہیں کھیل سکتے مجھے بہت افسوس ھے اس بات کا کاش میں ان سب کو اپنے جیسا بچپن دے پاتی اب نہ وہ گلیاں نہ وہ گھر نہ وہ گھروں کے مکین ھیں۔
افوہ  کچھ فضا میں گُھٹن سی نہیں  بڑہ گئی؟  یہ میں کہاں نکل گئی بس بات سے بات نکلے ہی چلی گئی چلیں چھوڑیں اب آپ سے میں اپنا ایک ہلکا پُھلکا observation کا شاندار تجربہ شیئر کرتی ہوں
مجھے وہ دیگ یاد آرہی ھے جو گلی میں تیار ہوتی تھی بریانی کی اور ھم بچے اس میں شوق شوق سے اپنے قد جتنا بڑاوالا(چمچہ) کفگیر پھیر کر ایک فخرسا محسوس کرتے کہ ھم نے بھی دیگ پکائی۔   دیگ کی تیاری بڑے شوق سے دیکھا کرتے تھے۔ دیگ کا احوال کچھ یوں ھے کہ 3 عدد بڑے سائز  کےسیمنٹ کے بلاکس کی مدد سے ایک چولہا تیار کر کے اس کے درمیان میں لکڑیاں اور کوئلہ ڈال کر مٹی کا تیل چِھڑکا جاتا اور اسے آگ دکھائی جاتی  کوئلہ ولکڑیاں   چَٹاخ پَٹاخ کرتی سُلگنے لگ جاتیں ، ایک انکل گھر سے باہر چارپائی ڈالے اس پر بڑی مہارت سے پانچ سات کلو پیاز چھیل اور کاٹ رہے ہوتے اور ایک انکل لوہے کے امام دستے میں لہسن ادرک کوٹ رہے ہوتے وہ “ٹَھک ٹَن” بڑی پیاری لگتی اِک بڑے سے دھاتی ٹب میں گوشت کو بِھگو کر صاف کیا جاتا اور ایک ٹب میں چاول بھیگے ہوتے، دو آدمی تیزی سے چار پانچ کلو ٹماٹر  سلائس میں کاٹتے اور اتنے ہی آلو بڑے ٹکڑوں میں کاٹتے جاتے تین چار کلو دہی ایک جگ میں موجود ہوتا، دیگ یا دیگوں کے حساب سے تلو یا ڈالڈے گھی کے 5 کلو کے ایک دو ڈبے پاس دھرے ہوتے ،  خشک آلو بخارا  گرم مصالحے کی پُڑیاں نمک مرچ دھنیا پاؤڈر کھول کر ایک پلیٹ میں رکھتے جاتے ایک طرف پودینہ ہری مرچ اور لیموں موجود ہوتے جبکہ کچھ گرم مصالحہ جات کا ایک حصہ پاؤڈر بنا لیا جاتا فَضا میں سُلگتی لکڑی کوئلے اور تمام مصالحہ جات کی وہ خوشبو ناک کے نتھنوں سے ہوتی بھوک کو جگاتی دماغ روشن کرتی رہتی جب تک وہ دیگ تیار نہ ہو جاتی انتظار کی سُولی دیکھنا پڑتی۔ پھر دو آدمی چولہے پر ایک دیگ میں پانی چاولوں کے حساب سے ڈالتے  اس میں نمک، تیز پات،لونگیں  اور دار چینی  شامل کر کے اُبالتے، چاول شامل کر تے پھر چاول ایک کنی ابال کر کے بڑی سی کھجوری چھال کے ٹوکری میں انڈیل کر کے پانی نتھارتےاور چارپائی پر رکھ دیتے اُدھر دوسرے انکل گھی کے ڈبے کھول کر بریانی کے حساب سے دوسری چولہا چڑھی دیگ میں انڈیلتےاور اس میں پیاز کڑکڑاتے پھر باری باری نمک مرچ دھنیا پاؤڈر لہسن ادرک کا بہت سارا پیسٹ شامل کرتے جاتے مجھے یہ سب جادو سا لگتا اتنی بڑی دیگ اتنی ساری مرچی نمک وغیر ہ دیگ میں جاتا پھر گوشت اس میں ڈال کر بھونتے دہی شامل کرتے اور چمچہ چلتارہتا  پھر آخر میں ٹماٹر آلو پودینہ ہری مرچ، لیمن آلو بخارا ، زردہ رنگ ڈال کر اور چاول ڈال کر دم دیا جاتا جب دیگ کا ڈھکن کھلتا تو آہاہاہا یہاں نور جہاں کی غزل معذرت اور کچھ ردوبدل کے ساتھ
؎ہماری سانسوں میں آج تک وہ دیگ کی خوشبو مہک رہی ھے
بیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے
بھوک کی بلی مَچل رہی تھی ـ”
کیا بتاؤں بس الفاظ ھی نہیں میرے پاس،وہ لذت وہ خوشبو۔ وہ شاندار ذائقہ
  اب آجکل جو دوکانوں پر دیگیں تیار ہوتی ہیں وہ سب مجھے artificial سا ذائقہ لئے لگتی ہیں  دیسی touch غائب ہوتا جارہا ھے چائنہ پیاز چائنہ آلو،لہسن ٹماٹر اور پریشر والا گوشت ان سب کی بدولت دیسی کھانوں کا ذائقہ تباہ ہو کر رہ گیا ھے۔
لیجیئے میں نے آپ کو دیگی بریانی کی مکمل recipe بھی بتا دی آپ چاہیں تو اپنے گھروں میں اب یہ ترکیبب try کر سکتے ہیں بمعہ اصلی دیسی چیزوں کے ساتھ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s