مچھر


قارئین کرام!
سُر،تال،قوال اور مچھر آپس میں بہت گہرا تعلق رکھتے ہیں ـ مچھر “بھیں بھیں” کا راگ الاپتا ہو یا راگ بہروی چل رہا ھو بہت غور کرنا پڑتا ھے کہ چل کیا رہا ھے؟کیا پتہ یہ دو راگ مل کے کوئیrock ٹائپ گانے کا میوزک ترتیب دے رہے ہوں کہ اچانک قوال کی چلتی تالی کی زد میں مچھر آکر اپنی زندگی ہار بیٹھتا ھے اور مچھر کی “بھیں بھیں” آخری “چیں یں یں” میں بدل جاتی ھے۔  اور راک شاک میوزک ایک طرف رہ جاتا ھےـ
بار بار ناک پر بیٹھی مکھی تنگ کرتی ہو یا کان میں مچھر تھوڑی دیر بعد بِھیں بِھیں کا راگ چھیڑے، دونوں انسان کے ہاتھ جَلد نہیں آتے جب تک کہ انسان ان کے  ہاتھوں چیں بہ جبیں  ہوتے ہوتے  بے بسی  کی تصویر نہ بن جائے، لطیفہ ھے کہ ایک  بندوق تھامےپٹھان صاحب کی ناک پر  بیٹھی مکھی بار بار تنگ کر رہی تھی پٹھان صاحب کو اتنا غصہ آیا  مکھی تو ہاتھ نہ آئی  اپنی ناک ہی فائر کر کے اڑا دی اور  مکھی سے کہنے لگے “او خانہ خراب خوچی اب بیٹھ کے دِکھا۔”
مچھر کی عمر ایک اندازے کے مطابق 6 تا 7دن سے لیکر 5 ماہ تک ہوتی ھے جبکہ مکھی اپنے ضروری  ماحول  میسر ہونے کی صورت  15 سے 30 دن جیتی ھےدونوں کی  مختصر مدت دورانیہ کی عمر اور تباھی پھیلانے کی رفتار دیکھیں ذرا ،اس کم مدت میں ہی  کافی شدت سے انسانوں اور بے زبان جانوروں کو یہ عفریت نشانہ بناتے ہیں کہیں گائے بھینس جُگالی کرتے اپنی گردن  مست ملنگ کی طرح گُھما گُھما کے یا دُم کا چابک گھما کے ان مَکھیوں مَچھروں کو دور بھگاتے نظر آئیں گی کہیں بکرا ناک سے پُھوں پُھوں کر کے دور بھگاتا نظر آئے گا جبکہ گدھا اپنے جسم میں تَھرتَھری پیدا کر کے ان کو دور ہٹنے پر مجبور کرے گا۔   اور رہا انسان تو کیا کیا نہیں کرتا ان سے بچنے کے لئے،اکثر  گھروں سے وقفے وقفے سے تالیاں پیٹنے کی گونج سنائی دے تو پہلاخیال  یہی گذرتا ھے کہ سالگریں منائی جا رھی ھوں گی تھوڑا غور کرنے پر معلوم ھو گا کہ نہیں سالگرہ نہیں مچھروں کے قتل عام کا بَگل بج رہا ھے اور ساتھ میں مچھروں کو یہ کہہ کے للکارا جاتا ھے ” ایک واری تو میرے ہتھ آ، تجھے چھوڑ دیا تو کئیں” ان عفریتوں سے نجات کے لئے گھروں میں دروازے،کھڑکیوں پر  باریک عمدہ قسم کی جالی لگائی جاتی ھے، مچھر دانیاں استمعال کی جاتیں ہیں، ،مارکیٹ میں ایک سے بڑھ کے ایک  دستیاب مکھی ،مچھر مار  اسپرے،  گلوب ،دیرپا اثر رکھنے والے مچھر مکھی دور بھگانے والے آئل استمعال ہوتے ہیں، لکڑیوں، کوئلے کا دھواں کیا جاتا ھے ان کو دور بھگانے کے لئے،خوشبو دار فینائل کے پوچے سے فرش چمکایا جاتا ھے مگر یہ نا معقول تمام سیکورٹی گھیرے توڑ کر سر پر آ دھمکتے ہیں گویا ھم انسانوں کو چیلینج کر رہے ہوں۔ ایک واحد قوال کے ھم نَوا بچتے ہیں جن کے تالیاں پیٹنے پر یہ قریب نہ جاتے ہوں گے بلکہ مچھر اپنے میں قبیلے میں اعلان کرتا ھو گا کہ اس طرف  نہیں جانا ورنہ ھماری موت یقینی ھے۔ پچھلے دنوں کی خبر سے معلوم ھوا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کو بھی کسی اجلاس وغیرہ میں مچھر نےتنگ کیا  ساری سیکورٹی ایک طرف اور وہ مچھر ایک طرف پھر آخر خان صاحب نے بھی تالی والا حَربہ ہی استمعال کیا اور مچھر سے نجات پائی۔ مگر کچھ نا معقول مچھر ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنا مِشن پورا کر کے کامیابی سے فرار ہو جاتے ہیں ایسے مفرور مچھروں کو اللہ پوچھے۔ میرا واسطہ بھی اس طرح کے مچھر سے پڑ چکا ھے گرمیوں کے دن تھے اور کالج کے لئے روز کلاسسز لینے جانا ہوتا تھا ایک رات آنکھ لگی تھی کہ کان میں وقفے وقفے سے مچھر کی بھیں بھیں سنائی دے میں بھی فضا میں ادھر ادھر تالیاں پیٹ کے نیند کی وادی گھومتی رہی اس صبح ویسے تو عام تعطیل تھی اور صبح اٹھنے پر چہرے پر مچھر کاٹنےکا تکلیف دہ احساس تو تھا مگراتنا خوفناک ٹائپ یہ تو سوچا نہیں تھا ھوا یوں کہ بالائی یعنی اوپر والے ہونٹ کے عین درمیان مچھر نے کاری وار کیا اور مجھے جاتے جاتے کسی حبشی کا رشتے دار بنا گیا جو کہ آئینہ دیکھنے پر مجھے محسوس ھوا، کمرے میں سامنے لگے آئینے پر جوں ھی میں نے اپنا چہرہ دیکھا تو ڈر کے فوراً پیچھے ہٹ گئی،پھر ڈرتے ڈرتے دوبارہ دیکھا کچھ دیر اپنے آپ کو پہچاننے میں لگی وہ حبشیوں جیسا بالائی سوجاھوا ہونٹ ما بدولت کا ہی تھا جو ایک مفرور مچھر سے مضروب ھوا میں نےمچھر کی شان  میں نا معقول سے لفظوں کا burst fire کیا اور کہا “تو میرے ہتھے چڑہ پھر دیکھ کچل کے نہ رکھ دیا تو میرا بھی نام نہیں” ہونٹ پر مچھر کاٹے کی تکلیف وہی محسوس کر سکتا ھے جو اس تکلیف سے گذرا ہو ،  سوجن کی وجہ سے میری  تو شکل ہی بدل گئی منہ بھی ٹھیک سے بند نہ ہو واقعی میں بڑا زہریلا مچھر تھا  لوگ ایویں ہی”Botox”
  کاسہارا لیتے پھرتے ہیں مچھروں سے بھی کام چلایا جا سکتا ھے مجھے اب اندازہ ہوتا ھے۔
؎نہیں کوئی چیز بیکار خانه خدا میں
اس دن تو چھٹی نے میرے بگڑے حُلیے کا پردہ رکھ لیا اگلے دن کالج جانے کا سوچ کر ہی “حبشن حبشن”کی دوستوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں سوچاکیوں نہ اس کا کوئی حل تلاش کروں گھر والوں نے بھی مجھے دیکھا تو خالہ کی تو ہنسی نہ رُکے مجھے دیکھ کر کہنے لگیں تم وہ “پاشا” لگ رہی ہو اب مجھے ان  فنکار کاپورا نام نہیں یاد آرہا ان دنوں کراچی ٹیلی ویژن سینٹر کے ڈراموں میں وہ بہت inn تھے اور ان کو زیادہ کردار ٹینشن والے یا رونے دھونے والے ملتے تھے تو ٹینشن اور رونے کے انداز میں ان کے منہ کا انداز وہی تھا جو مچھر کاٹنے کے بعد میرا حلیہ بن گیا تھا، اب تو وہ فنکار فوت ہو چکے بہت  یاد کرنے پر بھی مجھے ان کا پورا نام نہیں یاد آرہا ان کے نام میں پاشا آتا تھا اتنا ہی یاد ھے۔
اچھا پھر میں نے خالہ اور امی کے مشورے سے اس مچھر کاٹے پر سرسوں کا تیل اورنمک کا ٹوٹکا استمعال کیا اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد آئینہ بھی دیکھتی جاؤں کیا بتاؤں یوں سمجھ لیں کہ اس ٹوٹکے کے بعد تو سوجن اس قدر بڑہ گئی کہ اوپر والے ہونٹ نے chin تک کے ایریا پر اپناقبضہ کر لیا مگر مجھے بھی اب جنون ہو چلا تھا اس حبشی حُلیے سے نجات کامیں نے بھی لگا تار 4 سے 5 مرتبہ یہی ٹوٹکا شام تک آزمایا اور بار بار آئینے میں دیکھتی جاؤں شکر اللہ کا واقعی شام تک میرا اصلی حُلیہ واپس آگیا اور مچھر کاٹنے کی سوجن واقعی اتر گئی ورنہ مجھے یہی ڈر تھا میری کالج کی دوستوں نے تو میری واٹ لگانی تھی کہ بس۔
کہتے ہیں کہ دودہ میں مکھی گر جائے تو شاید اسے پورا ڈبو کے باہر نکال کے پھینک کر دودہ استمعال کیا جا سکتا ھے اس کے ایک پرَ  میں اگر بیماری ھے تو دوسرے پَر میں اللہ نے شفا رکھی ھے مگر اس بارے میری معلومات محدود ہیں۔مگر ایک واقعہ پتہ ھے کہ ہمارے پڑنانا “میاں جی” نے سب کے منع کرنے کے باوجود مکھی دودہ میں ڈبو کے  باہر پھینکی اور پھر وہ دودہ نوش کر لیا اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی، دودہ نوش کرنے کے بعد  میاں جی کی دوڑ واش روم تک رہی پوری رات۔پھر بعدازعلاج وہ شفایاب ہوئے تھے۔
بلند آواز طویل تان  باندھنا بھی ہر ایک کے بس کی بات نہیں مگر یہ بات مجھے سوچ میں مبتلا کرتی ھے کہ اس دوران کوئی مکھی مچھر میاں تان بان لگان کے منہ کا وزٹ کرے تو کیا ہو گا؟؟؟لازماً تان ٹوٹ جائے گی منہ پر لگانے والے ماسک سے کورونا وائرس اور مکھی مچھر کو بھی خود سے دور رکھا جا سکتا ھے پھر چاھے جتنی مرضی اونچی تان باندھو منہ پر ماسک کاڈھاٹا مکھی مچھر کو دور رکھے گا۔
بقول شاعر محبوب راہی کے:
؎ آیا ہے لے کے موسم سوغات مچھروں کی
ہر سمت ہو رہی ہے برسات مچھروں کی
کم ذات مچھروں کی بد ذات مچھروں کی
ہم خوب جانتے ہیں اوقات مچھروں کی
دیتے ہیں حسب عادت بیماریوں کو دعوت
کر کر کے ہم ضیافت دن رات مچھروں کی
ہے ماجرا یہ کیسا کیا قہر ہے خدا کا
نازل جو ہو رہی ہیں آفات مچھروں کی
آتی ہیں ہنستی گاتی جاتی ہیں گنگناتی
افواج مچھروں کی بارات مچھروں کی
بچھو سے بھی زیادہ زہریلے ہو چکے ہیں
کچھ بڑھ چکی ہے اتنی اوقات مچھروں کی
پھیلا کے کیوں غلاظت آلودگی نجاست
کرتے ہیں پرورش کیوں حالات مچھروں کی
ہر چیز سے انوکھی ہر شے سے ہیں نرالی
اطوار مچھروں کے حرکات مچھروں کی
چلتی ہیں سائیں سائیں جب تیز تر ہوائیں
بنتی ہیں بن بنائے کچھ بات مچھروں کی
اس دور میں ہے قلت ہر چیز کی مگر ہے
افراط مچھروں کی بہتات مچھروں کی
اپنا لہو پلا کر ہم لوگ راہیؔ اکثر
کرتے رہے تواضع دن رات مچھروں کی-

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s