ہارن


قارئین کرام!
پاکستانی قوم کے مزاج کے رنگ بھی کیا کیا نرالے ہیں  پاکستانی حضرتِ انسان کے مزاج کا اک رنگ یہ بھی ھے، جو سڑک پر اپنے سے آگے کھڑی سواری کو کچھ دیر ہونے پر بے ہنگم ہارن پہ ہارن دیکر warn کرتا ھے، گاڑیوں، بسوں، رکشوں کے سائڈ mirror سے ہاتھ کے اشاروں سے لعن طعن شروع ہوتی ھے پھر گالم گلوچ ہوتی ھے ایک دوسرے کے اَن دیکھے خاندانوں کے کچھے چَھٹے کھولے جاتے ہیں پھر برداشت ختم ہو جائے تو wrestler کی طرح سواریوں سے اتر کر ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سڑک پر ہی wrestling کے مفت تماشے  کی سب کو دعوت عام دے دیتے ہیں۔ اور ان ہی سواریوں پر کچھ یوں درج ہوتا ھے ” وَکھرا سواگ” درس قرآن ڈاٹ کام” فخرِ پاکستان”  “تو لَنگ جا ساڈی خیر اے”(تم گذر جاؤ،ہماری خیر ھے)  “ضدی پختون”، “ہمت ھے تو پاس کر نہیں تو برداشت کر” “بہادر سپوت” جیسے جملے تحریر ہوتے ہیں جن میں سے ایک پر بھی عمل نہیں ہوتا اور ان میں پڑھے لکھے،ان پڑھے قوم کے سب رنگ اپنی اپنی حیثیت سے حصہ لیتے ہیں بندہ پوچھے نہ بات نہ بات کا سِرا یہ کوئی بات ھے بھلا “مجھے پہلے گذرنا ھے”، “مجھے ہی پہلے جانا ھے” پھر فضول کی ضد آگے سے سواری نہیں ہٹانی وجہ”میری مرضی” ہا ہا ہا سڑکوں پر مرضی بھی انہیں کرنی ہیں جن کی گھروں پر ایک نہیں سنی جاتی،پرسوں ایک تماشہ میں نے بھی دیکھا پختون بھائی کا رکشہ اور ایک کار والے کی ضد وہ بھی گنجان آباد سڑک پر کار والے نے ضد پکڑی کار نہیں ہٹانی پختون بھیا ہارن نہ بند کرے کار والے نے کہا ہارن بندکر پختون “ضدی پختون”  میں ڈھل چکا تھا کہنے لگا”اَمارا چیز ھے اَماری مرضی اَم بجائے گا تم روک کے دِکاؤ کار والا بھیا کون سا کم تھا وہ کہنےلگا بجاے جا میں نہیں ہٹاتا گاڑی ساتھ ھی گالیاں۔۔۔۔(حذف کر دی گئیں،غیرتِ پاکستانی کا تقاضہ ھے) پھر سواریوں سےاتر کر ایک دوسرے کے گریبان پکڑنےہی لگے تھے کہ کچھ خدائی فوجدار کود پڑے اور بیچ بچاؤ کرایا مجھے وہاں کچھ کہنے کا مَن کیا تھا مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا اگر سنتے تو مجھے کہنا تھا میرے عزیز ھم وطنو کسی بڑی بات پر لڑو اور ٹکٹ  بھی لگاؤ مفت سڑک کیwrestling  ابھی بہت سوں نے نہیں دیکھی آپکی، پھر جو آپ میں سے جیتے اسے تمغہ شجاعت و جوانمردی سے نوازا جائے گا۔نہیں تو میرا بس چلے تو  آپ دونوں کو کراچی کے چڑیا گھر بھیج کر میں نے ٹکٹ لگا دینا ھے ویسے بھی کراچی چڑیا گھر سے تو بہت عرصے سے بری خبریں ھی سننے کو مل رہی تھیں مثلاً کچھ مطالبات کے منوانے کے لئےجانوروں کا کھاناروک دینا اور  نایاب سفید شیر کی موت تو حالیہ واقعہ ھے جب کہ کچھ عرصہ قبل یہ خبر معلوم ہوئی تھی کہ جن جانوروں کی خوراک میں حلال گوشت شامل تھا وہ جانوروں کی بجائے انتظامیہ کے کرتا دھرتا لوگوں کے گھروں میں پہنچایا جا رہا تھا بتاؤ جانوروں کا حق کھا کر بھی کبھی پیٹ بھر سکتا ھے؟بھوک نہیں مٹتی ایسے گناہوں سے پیٹ بھلے بھر جائے نیت نہیں بھر سکتی لاھور کے خوبصورت چڑیا گھر کے ٹور کی بات تو پھر کبھی کروں گی مگر ابھی ذکر ھے آٹھ نو سال قبل کراچی کا چڑیا گھر میں نے دیکھا تھا خستہ حالی دیکھ کر دوبارہ جانے کو دل نہ کیا بڑی بُری حالت تھی جانوروں کی زیادہ تر پنجرے خالی پڑے تھے ایک پنجرے میں پر جھڑا کمزور شتر مرغ تھا  اس سے کچھ فاصلے پر پیاری سی لال آنکھوں  والا سفید خرگوش میلی حالت میں موجود تھا اسے بھی بال جَھڑ ھوا ھوا تھا لگتا ھے “پیر بھائی” کی طرح  بال جھڑ بھائی ہونے پر انہیں ایک ہی پنجرے میں رکھا گیا تھا، کچھ فاصلےپر ہرن اور لومڑی کا پنجرہ تھا بھوکے سے جانور لگ رہے تھے ایک جگہ ہاتھی کا بچہ نہلایا جا رہا تھا اور اس دوران وہ  فٹبال سے کھیلتا جا رہا تھا جبکہ کچھ  انسانی بچے بڑے ہاتھی کی سواری کررہے تھے ایک بزرگ بندر  یا پھر بن مانس تھاشاید اپنے پنجرے کے فرنٹ ایریا پر ہی ھم سے کچھ فاصلے پر ایک سیمنٹ کے تھڑے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے نیم دراز تھا اسے بلانے کے لئےاور کیلے کھلانے کی کوشش کی مگر وہ بہت سنجیدگی سےنہ معلوم کون سی گُھتی سلجھاتا کسی گہری سوچ میں مگن تھا ہماری طرف دیکھے ضرور مگر کوئی ریسپانس نہ دے اگلے پنجرے میں ایک بندروں کا جوڑا تھا جو شاید لڑ کر بیٹھے ہوئے  تھے کیونکہ ایک بندر  سیڑھی نما مچان پر دوسری طرف منہ کئے بیٹھا تھا اور دوسرا بندر پنجرے کے دوسری طرف منہ جھکائے بیٹھا تھا ہمارے پچکارنےپر آکے چپ چاپ کیلے وصول کئے اور پھر اپنی جگہ بیٹھ گیا دوسرا بندر مچان پر ہی سب سے بیزار بیٹھا رہا لوگوں کی طرف نہیں آیا، چیتا لوگوں کے ہجوم سے گھبرا کر اپنی کمرہ نما کچھار ٹائپ چیز میں جا کےچھپ بیٹھا بہت دیر اس کے پنجرے پہ کھڑے انتظار کیا مگر چیتے کے پاس ھم انسانوں کے لئے بالکل وقت نہ تھا وہ باہر نہیں نکلا ۔ واحد چیز جو قابل ذکر تھی کچھ فاصلے پر ایک پنجرے کے آگے ہم رک گئے اور اللہ کی صناعی دیکھ کر حیران پورا سفید رنگ کا مور  پنجرے کے قریب لوگوں کے آگے پیروں سے خاص تکنیک سے ڈانس step کرتا نظر آیا،سر پر بنا پیارا سا قدرتی تاج، چمکیلے بڑے بڑے سفید پروں کے ساتھ سفید مور بہت خوبصورت لگ رہاتھا۔  اصلی تاج مور کوmore خوبصورت بناتا ھے جبکہ دنیا میں کئی بادشاہوں کے سر نقلی تاج سجتے ہیں مگر پھر بھی روپ نہیں آتا اوپر سے مزید اگر تاج ہٹا بھی دیا جائے تو چمکیلی ٹِنڈ کا درشن ہوتا ھے جس سے آنکھیں ہی چندھیا جاتی ہیں  اس سے اچھا ایسی ٹنڈ کو نقلی مخملی تاج کا غلاف چڑھا کے چھپا دیا جائے تاکہ انسان مزیدhurt نہ ہوں۔ ایک پنجرے میں ایک بڑا  پرندہ مرا ھوا پڑا تھا بدبو کی وجہ سے اس پنجرے کی طرف قدم نہ اٹھائے۔ باقی پنجرے خالی تھے ہاں تو میں کہہ رہی تھی کراچی کے چڑیا گھر سے جانور تو کم ہوتےہی جارہے ہیں کیوں نہ جانور نما انسانوں کو وہاں جمع کرا دیا جائے تفریح کی تفریح اور ٹکٹ کے پیسوں سے فلاحی کام کروائے جائیں۔پاکستان کے حق میں شاندار بزنس رہے گا اور جن لوگوں کو سڑکوں پر بہت غصہ آتا ھے وہ بھی پنجروں میں رہ کر ٹھنڈا ہو جائے گا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s