شہد کی مکھیاں اور طوفانی جھکڑ


قارئین کرام!
کیاآپکا سامنا اچانک سامنے آجانے والی کسی  آفت سے پڑا ھے اور اس وقت آپکاردِ  عمل(reaction)کیسا ہوتا ھے؟
میرے ساتھ بھی جمعرات کی شام ایساھوا،میں حسبِ معمول شام میں گیزر(geyser) آن ھے کہ نہیں یہ دیکھنے چَھت پر گئی، اور ابھی صرف لکڑی کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ میرے منہ سے زور سے “ھاااا” نکلا اور ایک مرتبہ پھر ڈر کے میری گِھگّھی بند گئی ،زمین نے قدم  جکڑ لئے اور کچھ دیر تک “اسٹاپ اسٹاپ والے” گیم کی سی کیفیت رھی جس سے میں چند سیکنڈ میں نکلی اور جلدی سے دروازہ بند کر دیا اور پھر چند لمحوں بعد دوبارہ ہلکا سا دروازہ کھول کے اس بات کی تصدیق چاھی اور جب تصدیق کی پکی رسید میرے دماغ میں گَھنٹی کی طرح بجی تو پھر تیزی سے دروازہ بند کر کے الٹے قدموں سیڑھیوں سے واپس بھاگی، کہاں کا گیزر کیسا گرم پانی مجھے سب بھول گیا  ـ ھوا کچھ یوں کہ لکڑی کے دروازے کے ساتھ ہی موجود لوھے کے گیٹ کے اوپر والے حصے پر شہد کی مکھیوں نے ایک بڑا سا چھتہ(beehive) بنا لیا تھا جبکہ میں بدھ کی شام چَھت پر گئی تھی تو ایسا کچھ نہ تھا چونکہ مکھی کے چَھتے میں بیک وقت 5 سے 8 ھزار مکھیاں کام کرتی ہیں جن میں ملکہ مکھی ،کارکن مکھیاں اور  نِکھٹو جو کہ غالباً  مردانہ( male) مکھیاں ہوتی ہیں سب اکٹھی رہتی ہیں جب ھی یہ بڑا سا اونی ٹوپی نما  چَھتہ تعمیر ھوا ھو گا۔  پہلے مجھے یہی خیال آیا کہ یہ اونی ٹوپی کس نے یہاں لٹکا دی مگر اس میں مکھیاں اُڑتی دیکھ کر میری سٹی گم ھو گئی ، اور ایسا ھونا تو نہیں چاہئے مگراس وقت خوف کے ساتھ  شدید کراہت بھی محسوس ھوئی۔
  واقعے کو ٹھیک سے سمجھنےکے لئےگیٹ کی تفصیل بتانا ضروری ھے ۔  چَھت پر جانے کے لئے ایک لکڑی کا دروازہ تو موجود ھےمگر اس کے ساتھ ہی ایک لوھے کے گیٹ کا اضافہ حفاظتی اقدام کے طور پر کیا گیا ھے اور یہ حفاظتی قدم چور والے واقعے کے بعد کیا گیا تھا جس کا ذکر  میری “چور”والی پوسٹ میں موجود ھے۔ ان دو دروازوں کے بیچ بند ھونےکے بعد کچھgap بھی موجود رہتا ھے اور یہی گیپ شہد کی مکھیوں کو رہنے کی source لگا ھو گا۔ اور لوھے کے گیٹ کے کچھ گیپ والے حصے سےمکھیوں کی آمدورفت ہوتی رہی اور چھتے کی تعمیر جوش ولولےاور زوروشور سے جاری رہی اور اب صرف  گویا مکھیاں میرے اجازت نامے (permit) کا ہی انتظار کررہی تھیں کہ کب مابدولت گیزر آن کرنے کے بہانے چھت پر تشریف لائیں اور یہ” نو گوایریا” دیکھ کر واپس بھاگ جائیں اور جانے سے بیشتر انڈین فلم مغلِ اعظم کے اکبر بادشاہ کی طرح انارکلی کو”اجازت ھے”کہہ کر رقص کی کُھلی چھٹی دیں اور میرے” ٹھاہ”  سے دروازہ بند کرتے ہی مکھیاں تو رقص کرنے لگیں ھوں گی اور پھرتھک ہار کے اس نئے تعمیر شدہ بہترین آرکیٹیکچر شاہکار چَھتے میں آرام سے نیند کی وادی میں اتر گئی ھوں گی جس کا ما بدولت نے بن بلائے اسپیشل گیسٹ کی طرح لکڑی کا دروازہ کھول کے افتتاح کر دیا تھا۔مگر میری نیند اڑ چکی تھی اب کیا ھو سکتا تھا اچھی بات یہ رہی کہ بجلی نہ گئی اور میری بھی یہی دعا تھی کہ بجلی نہ جائے کیونکہ گیس کی لوڈ شیڈنگ تو ہوتی ھی ھے مگر بجلی بند ہونے سے جب جنریٹر گیس پر چلتے ہیں تو گیزر خود ھی گیس پریشر کم ھونے سے آف ھو جاتے ہیں چاھے انہیں کچھ دیر پہلے ہی گیس آنے پر آن کیا ھو۔اب شام اور رات کا حصہ تو  گیزر میں بَچے ھوئے گرم پانی سے نکل سکتا تھا شہد کی مکھیوں کے بارے جو ہونا  اب وہ صبح ھی ہونا تھا۔ صبح ھونے پر میری تو ہمت نہ ھوئی کہ دوبارہ شہد کی مکھیوں سے آنکھیں چار کروں، یہ کام یوں آسان ھوا کہ ھماری عظیم و بہادر ورکر نے ایک مضبوط لوھے کے ڈنڈے پر کپڑا باندھ کر اس پر آگ لگا کے دھواں کیا اور شہد کی مکھیوں کے خلاف آپریشن کلین اپ کیا مگر شہد کی مکھی کے بارےمیں مشہور ھے یہ آسانی سے نہ راستہ بھولتی ہیں نہ ہی چَھتہ چھوڑتی ہیں ،وہی ہوا، آگ کے دھوئیں سے مکھیاں اُڑیں ضرور مگر اس لوھے کے گیٹ سے اوپر باہر  چَھت کی طرف چوکھٹ پر منڈلاتی رہیں تھک ہار کے ھماری ورکر بھی واپس آگئی اسی دوران بجلی جا چکی تھی اور بجلی آجانے پر احتیاطاً گیزر چیک کرنے کے لئے مجھے پھر چَھت کا رخ کرنا پڑ گیا مگر شہد کی مکھیوں نے راستہ بلاک کر رکھا تھا،اور میری مکھیوں کے ساتھ چُھپن چھپائی  جاری تھی جس کےدو راؤنڈ کھیلے جا چکے تھے  پہلاجمعےکی دوپہر اور دوسرا جمعے کی شام کھیلے گئےـ  دونوں مرتبہ  میں ما بدولت پھر دل مضبوط کر کےچھت پر گئی اور ذرا سا لکڑی کا دروازہ کھول کے دیکھوں تو شہد کی مکھیاں وہاں رقص میں ھی نظر آئیں میں نے اکبر بادشاھ بن کے انہیں حکم دیا بس بند کرو یہ رقص بہت ہو چکاجاؤ کہیں اور جا کے چَھتہ بناؤ یہاں یہ چھتہ بھتہ نہیں چلے گا، ورنہ دیوار میں چُنوا دوں گی وہ الگ بات ھے کہ شہد کی مکھیوں کے زہریلے  ڈَنگ کا سوچ کے ہی مجھ نقلی اکبر بادشاہ کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں حالانکہ میں نے پورا سلطانہ ڈاکو کا سا روپ دھار کے خود کو چادروں سے ایک آنکھ کے سوا مکمل کور کیا ھوا تھا۔مگر نہ جی کوئی بات نہ بنی۔میں واپس چَھت سے ناکام آگئی اور بھائی کی منتیں کیں کہ تم ھی گیزر آن کر دو مگرآخر کو  وہ بھی مجھ سا نقلی
اکبر بادشاہ کا ہی بھائی ھے نا اپنی شاھی طبیعت سے مجبور بولا “کر دوں گا، ایک گیزر ھی آن کرنا ھے اور تو کچھ نہیں یہ کون سا بڑا کام ھے کر دوں گا” مطلب نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ،سو بھائی نے اپنی مرضی سے جا کے گیزر دیکھاجب تک رات کے 10 بج گئے تھے  اور  ادھر شام ھی سے کراچی میں طوفانی ھوائی جَھکڑ چل رہے تھےیہ جھکڑ کی شدت ہی تھی جس کی وجہ سے  شہد کی مکھیاں مُنتشر ہوئیں۔                  
یہ ھوائی جھکڑ سردیوں میں اکثر چلتے ہیں ـ  پچھلی سردیوں میں ان طوفانی جَھکڑوں سے گیزر کے گرد ما بدولت کے ہاتھوں لپیٹی  دھاتی شیٹ اور اس کے اِرد گِرد باندھی گئی رسی کا زیادہ حصہ تیز ھواؤں سے اُڑکرنہ جانے کہاں چلا گیا بس رسی کا تھوڑا سا ٹکڑا گیزر کے پاس ایسے موجود رہا بقول ضمیر جعفری ( بمعہ بالکل تھوڑی سی ایڈیٹنگ)
؎”جو کالر تھا گردن میں، ‘لر’ رہ گیا ہے
ٹماٹر کے تھیلے میں ‘ٹر’ رہ گیا ہے
خدا جانے مرغا کدھر رہ گیا ہے
بغل میں تو بس ایک پر رہ گیا ہے۔
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ھے
اور طوفانی جھکڑ کا ذکر ہو رہا ھے۔”

پھر شاہانہ طبیعت بھائی سے کہہ کہہ کر تھک گئی کہ دھاتی شیٹ لا کر دے دو میں گیزر کو cover کر لوں مگر  وہ بادشاہ جو ٹھرے اپنی مرضی کے مالک۔
  مشہور مقولہ ھے “ضرورت ایجاد کی ماں ھے”  گیزر کی حفاظت کے لئے  اور تو مجھے کچھ سمجھ نہ آیابس  ایک چھوٹا خالی گملا ملا تھا چھت پر تو میں نے وہ گیزر کے چولہے کے آگے ایسے رکھ دیا جیسے وہ ہاتھ جوڑے گیزر کی پوجا کر رہا ہو اورکہہ رہا ھو”دیکھ اس سردیاں  تجھےچلتے جانا ھے بند نہیں ھونا” اس کے ساتھ میری نظر چھت پر رکھے کپڑے دھونے والے ایک عدد اضافی دھاتی سِلور رنگ  کے ٹب پر گئی جسےمیں نے اٹھاکے گملے کے آگے ٹِکا دیا  تاکہ ھوا کے جھونکوں سے گیزر محفوظ رہے۔  پچھلے سال گیزر کی دھاتی شیٹ اُڑ جانے  کے بعد سے اور اس سال  گملے اور ٹب کی پوزیشن گیزر کے آگے ایسے موجود ھے جیسے گویا کسی سڑک کنارے نصب سنگِ میل ۔ بس یہ کہ کبھی کبھی ٹَب ھوا کے جھونکوں سے ” ٹنگ ٹرنگ ٹرنگ”کی آوازیں نکالتا لڑکھڑا کے گِر جاتا ھے جسے میں پھر سیدھا کر کےگیزر کے  پاس ٹِکا دیتی ھوں ۔ دیکھا ما بدولت نے کیسے کیسے گیزر کے لئے حفاظتی اقدامات کئے ہیں۔
تیز جھکڑوں کے تو کیا ہی کہنے لاؤنج کا دروازہ بند کرتے وقت تیز طوفانی ھوا کی ایسی رفتار  تھی کہ دروازے کے ساتھ ہی میں بھی باہر کی جانب یوں نکل گئی گویا کسی نے لاؤنج سے دھکیل کے باہر نکال دیا ھو ایساھوا کا زور تھا۔طوفانی جھکڑ میں اگر یہ گھر کے لاونج کے دروازے کی صورتحال ھے تو اس دوران کھلی جگہوں اور سڑکوں کا کیا حال ہوتا ہو گا یہی وجہ ھے کہ اس دوران کراچی میں6  ہلاکتیں اور 3 مچھلی کے شکار کے لئے کیٹی بندر پورٹ میں لانچیں ڈوب گئیں۔کیونکہ ھوا کے زور سے سمندر کی لہروں میں طغیانی آچکی تھی۔کئی ماہی گیر جو بلاشبہ اچھے تیراک بھی ہیں لا پتہ ہیں۔اللہ مرنے والوں کی مغفرت فرمائیں، ہم سب کو ایسی آفات سے حفظ وامان میں رکھیں اور لاپتہ ماھی گیر اپنے گھر صحیح سلامت لوٹ آئیں۔

1922 اور 1920


قارئین کرام!
2022 کی شروعات ہوئے نصف ماہ ہو گیا  ھے۔تصور کی آنکھیں ماضی کی کھڑکیاں کَھٹ کَھٹ کر کے کھولتی جاتی ہیں اور 1922 یعنی سو سال پہلے کا خیال ذھن میں آتا ھے چلیں ھم سب آج کچھ دیر کے لئے سب کی سب “جدیدیات” چھوڑ کے 1922 کا تصور باندھ لیتے ہیں، اور اس تصور میں صرف اور صرف بالکل بہت عام سی کلاس “عام عوام”  کو ڈسکس کرتے ہیں۔ میں نے تو ڈبل رسی سے تصور باندھ لیا ھے،آپ بھی تیاری پکڑیں، جب بر صغیر پاک و ھند میں پانی و بجلی کی کیا صورتحال ھو گی؟ بھاپ سے چلنے والے ریل انجن اور لکڑی کوئلے سےگھروں کے چولہے و آتش دان جلتے ھوں گے، محلے کے حکیم بیک وقت ڈاکٹرز و اسپیشلسٹ کی جگہ سنبھالتے ہوں گے، 1922کے دنوں میں برصغیر پاک وھند میں تحریک خلافت عروج پر تھی حتیٰ کہ خطبہ الہ آباد 1930 ہونے کو  بھی ابھی پورے 8 سال باقی رہتے ہیں  اور ظاہر سی بات ھے 1922 تک ھم سب کے والدین بھی پیدا نہیں ہوئے تھے تو دادا ،دادی،نانا،نانی کا طرز زندگی کیسا ھوتا ہو گا؟ رات کی خاموشی میں لالٹین کی روشنی میں کوئی طالب علم اپنے امتحانات کی تیاری کرتا ھو گا۔ کیسا سادہ سا طرز زندگی ہوگا بِنا فون موبائل انٹرنیٹ و بجلی گیس کے خالص سا۔ زیادہ فکر مند ھونے کی ضرورت نہیں پاکستانی حکومتیں ہمیں بتدریج اُسی دور میں واپس لیجانا چاہ رہی ہیں ویسے بھی آئے دن زیر سمندر انٹرنیٹ کیبل کا مسلہ بھی بڑھتا جا رھا ھے بجلی مہنگی سے مہنگی ھوئے جا رہی گیس کی قلت سردیوں کا خاصہ بنتا جا رھا آئے دن کی مہنگائی  کی وجہ سے حالات ہو سکتا پرانے والے بارٹر سسٹم پر چلے جائیں اور عوامی تاریخ اپنے آپ کو  دھراتی ہمیں لالٹین کے زمانے امتحانات کی تیاری کے ساتھ کینڈل ڈنر کے لئے لے چلے۔ پھر عوام کاموں سے فارغ ھو کر سردیوں میں آگ تاپنے اور گرمیوں میں اجتماعی محافل وجلوس منعقد کرتے،بجلی گیس اور  انٹرنیٹ موبائل فون  یہ کیا ھوتا سب بھول جاتے۔اس سے سب سے زیادہ نقصان فری لانسرز اور بلاگرز کو ھوتا،   موٹیویشنل اسپیکرز کا تو حال ہی مت پوچھیں، آن لائن ھوم بیسڈ ورک کی پر کشش آفرز خواب و خیال بن کے رہ جاتیں،پھر بلاگرز کے بلاگ کون پڑھتا؟ سبھی اک ناکام شاعر کی طرح خود ہی لکھ کر خود کو بالکل میری طرح اپنی باتیں سنایا کرتے جیسا کہ “جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا”بس یہ ساری دنیا  فری لانسرز اوربلاگرز کے لئےاک جنگل بن کے رہ جاتی، چونکہ ٹیلی ویژن، ریڈیو تک نہ ہوتا تو نہ عوام کو حکومتیں جانتیں، نہ عوام کو حکومتوں کے آنے جانے کی خبر ہوتی،کاغذ بھی نایاب ھوتا تو اخبارات تک رسائی آسان نہ ہوتی، کیونکہ 1922 ھے۔  پتنگیں اڑائی جاتیں،کبوتر،بکریاں مرغیاں بلیاں پالنے کا مشغلہ ہوتا، تازہ ھوا کے جھونکوں سے لطف اندوز ہونے کوچَھتوں کے صبح شام کے پھیرے لازمی ہو جاتے،  سرِ شام ھی ہر طرف اک ھُوکا عالم ھوتا کیونکہ کرنے کو کوئی کام ہی نہ ہوتا تو سب رات کو میٹھی نیند لیتے،یاد ھے نا 1922 ھے موبائل اور انٹرنیٹ نہیں۔ ھے-گھروں کے باہر اعلی قسم کی سائکلیں، اونٹ بیل،گھوڑا،گدھا گاڑیاں ایسے موجود ہوتیں جیسی آج موٹر کاریں گھروں میں موجود ہیں۔  آئی ٹی انڈسٹری اور یونیورسٹیز  کی بجائے پاک وھند میں آٹے ،چاولوں کے بڑے بڑے بہترین گودام ہوتے۔ استاد بہترین آڑھتی ہوتے اور طالب علم بہترین مزدور بن کر بوریاں لادتے ظاہر ھے ہرکسی کی دسترس میں المشہور علیگڑہ جامعہ کا طالب علم ہونا کہاں نصیب ہوتا، خواتین  بلاگز لکھنے کی بجائے میزپوش ،چادریں کڑھائی کرتیں یا سویٹر بُنتیں،یاد رہے میں بہت ہی عام سا عوامی طبقہ ڈسکس کر رہی ہوں۔
اس دور کی روایت کے مطابق 5،7 برس کے بچوں کی اَمیاں ہی ان کی “نرسری” ہوتیں، بنا اسکول کے ھی پرائمری لیول کی ابتدائی تعلیم والدہ سے لینے کے بعد منشی فاضل کی ڈگری کے لئے اسکول جوائن کیا جاتا۔اور اس کے فورا بعد کلرک کی نوکری پانا ایسا ہوتا گویا چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ بن جانا۔پورے محلے واہ واہ ھو جاتی۔مٹھائیاں تقسیم ہوتیں اور بس راویہ یعنی میرا مطلب سعدیہ چین ہی چین لکھتی ھے  اب سب تصور کی کھڑکی بند کریں اور واپس آجائیں ، یہ 2022 ھےـموبائل بھی ھے، نیٹ بھی ھے بجلی بھی ھے پانی و گیس بھی ھے موٹر کاریں بھی ہیں ، سوشل میڈیا سے ھم سب کی ایک دوسرے تک رسائی بھی ھےـکیوں؟ کیونکہ یہ 2022 ھے۔

ملنگ کا اغواء


ملنگ کا اغواء
قارئین کرام
ایک لفظ بڑا سنتے ہیں “اغواء برائے تاوان” مگر کبھی بھی کہیں یہ عظیم الفاظ نہ سنے جو ایک اچھے معاشرے کی پہچان بنتے “اغواء برائے احسان،مہربان،قدر دان،مہمان،انجان،سچی یا جھوٹی شان، آن بان اور بہت کچھ ہو سکتا ھے۔اغواء کےبارے میں بچپن سے سنتے آرہے ہیں  بچوں کو اس حوالے سے خاص طور پر رہنمائی، guide کیا جاتا ھے 
کہ جو بچے اکیلے گلیوں میں پھرتے ہیں انہیں اغواء کرنے والے بوری میں بند کر کے لے جاتے ہیں اور لے جا کر بیچ دیتے ہیں۔  ہاتھ پیر توڑ دیتے ہں پھر بھیک منگواتے ہیں۔
مگر  فیصل آباد میں”ملنگ کا اغواء” وہ بھی ایک عدد پیر  کی میت اور  چندہ پیٹی سمیت ،فیصل آباد بھی نہ بس فیصل آباد ھے یقینی طور پر اغواء کے  ساتھ ساتھ چادریں، دریاں،  کھیس،
(تمبو) شامیانے،  ڈھول، بکرے، مرغیاں اور دیگیں و دیگر تبرکات بھی  اغواء کرنے والے  لے گئے ہوں گے شکر ھے کہ وہاں مزار پر حاضری دینے والے زائرین موجود نہ تھے ورنہ وہ بھی اغواء ھو جاتے.  اوراگر اغواء کار جناتی صلاحیتیں رکھتے تو ھو سکتا ھے کہ تاندلیانوالہ سے پورا مزار اکھاڑ کے اوکاڑہ کی زمین پر ہی فٹ کر لیتے ،پیر میت کے بیٹوں کے جھگڑے سے مریدین بھی تقسیم ہو گئے، اچھی بات ھے کہ اس جنگ و جدل میں مریدین نے پیر صاحب کی میت کی لاج رکھ لی کہیں اسے دو ٹکڑوں میں نہ کر لیا کہ ایک اوکاڑہ  اوردوسرا تاندلیانوالہ دفنائیں گے ۔ مغوی ملنگ بیچارہ ویسے ہی بھنگ کے نشے میں پڑا ھو گا ہوش آئی ھو گی تو پتہ چلا ھو گا میں اغواء ھو چکا ھوں بس پھر ایک نعرہ مستانہ بلند ھوا ھو گا اور ملنگ کی مغویانہ دھمال شروع ھوئی ھو گی ھاتھ پیر زنجیروں میں کَسے ھوں گے غائبانہ صدا آئی ھو گی ملنگی ان کے آگے دھمال نہ پائیں یہ تجھے اغواء کرنے والے ہیں یہ سنتے ہی ملنگ اور بھی جوش سے حق ،حق کا نعرہ لگاتا زمین پر دھمال کا قہر بپا کرنے لگا ھو گا اور  ہر طرف پکار ھو گی
؎ٹوٹ گریں گی یہ زنجیریں
زندانوں کی خیر نہیں ھے
انہی صداؤں ڈھول تھاپوں کے شور میں دھمال پاندے پاندے ملنگ اوکاڑہ سے واپس تاندلیانوالہ پیدل 8,9 گھنٹوں میں پرانی جگہ جاپہنچا ھو گا اور خود سے کہتا ھو گا edit غزل کے ساتھ
؎ چلے تو کَٹ ھی گیا سفر، آہستہ آہستہ
رستے ھم دھمال پاتے آئے مگر، آہستہ آہستہ
اور اغواء کار بھی جب  دھمال سے نڈھال ھو کے کہیں اِدھر کہیں اُدھر گرے ھونگے ؎اِدھر ڈوبے اُدھر اُبھرے کی مانند تو پھر ان میں سے ایک کو یاد آیا ھو گا” او ملنگ تا نِکل گیا ای”۔بس کفِ افسوس ملتے رھنا ان اغواء کاروں کا مقدر رہا ھو گا ، سوچا جائے تو ان اغواء کاروں نے اچھا خاصہ پورا ریڈی میڈ مزار کا ماحول بنا لیا تھا اسی چکر میں ملنگ کو بھی لے گئے کہ دھمال شغل میلہ لگا رہے گا، اور پھر ملنگ نے  انہیں چکمہ دے کے رنگ میں بھنگ ملا دی ، وہ  رنگ میں اور کیا ملاتا اس کے پاس بھنگ ہی تھی سو وہ ہی ملا دی۔اور خود ان کے چنگل سے آزاد ھو گیا۔یقیناًپیر میت بھی اپنے بیٹوں، ایسے مریدوں کوغائبانہ سخت وعیدوں سے نواز رھی ھو گی ویسے بھی بِلا اشد ضرورت کے قبر کو شق کرنا بہت گناھ کی بات تو ھے۔ افسوس کہ ان نام نہاد بیٹوں اور جھوٹے مریدین نے  پیر اھل طریقت کی شکل  کو بہت توڑ مروڑ کے پیش کیا انہی لوگوں کی وجہ سے مزارات کاتقدس تباھ ھوا ھے جو کہ نہیں ھونا چاہیئے۔

تحفہ


قارئین کرام!
تحفہ،(ہدیہ، Gift)ایک ایسا پُرکشش لفظ ھے جو  بیک وقت بچوں بڑوں عورت مرد سب پر ایک خوشگوار تاثر کا احساس پیدا کرتا ھے۔زندگی اور اس کی نعمتیں تحفہ خدا ہیں اس میں اللہ کا سب سے اسپیشل گفٹ مجھے باغ میں کھلے سُرخ بھینی بھینی خوشبو سے لبریز، بڑے بڑے تازہ  گلاب لگتے ہیں جوں ہی ان پر نظر پڑے تو لگتا ھے اللہ کا بہت ہی اسپیشل گفٹ آگیا ھے ھم انسانوں کے لئے،  بےشک یہ آیت ایسے تمام مواقع کے لئے ہی ھے
“اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے”
اب چاھے وہ میری دنیا تک محدود مٹی کے تیل کی خوشبو ہو یاعود کی خوشبو ھو، بارش کی بوندیں مٹی کو مہکایں، یا کوئی دلفریب  کوئی سوندھا ساعطر ہو،  برینڈڈ پرفیوم ھو،کوئلہ چائے بناتے وقت سُلگتے کوئلے کی خوشبو ھو یا پھر پکتے چاولوں کی خوشبو ھو،  کتنی قسم کی خوشبویات کااہتمام ھم ادنیٰ سے انسانوں کے ليے اللہ میاں نے کیا ھے۔ سوچا جائے تو ان رنگ برنگے ہلکے، گہرے رنگوں کے دیسی خوشبودار گلابوں، خوشبویات اور سونگھنے اور جی بھر کے دیکھنے  کی حِس سے بڑا اور کیا تحفہ ھو گا ھم انسانوں کے لئے؟ ایک اندازے کے مطابق  گلابوں کی 150 اقسام پائی جاتی ہیں ۔
سبحان اللہ
تحفے تحائف میں امیروں غریبوں، عام عوام سب کا الگ معیار ہوتا ھےـمگر تحفے کی سب سے بھیانک قسم وہ رشوت دینا لینا ھوتی ھے جو “تحفوں”کے نام پر دی یا لی جاتی ھے اسے آپ حرام کو حلال بنانا بھی کہہ سکتے ہیں اور ایسے تحفے تقریباًھر محکمے میں چل رہے ہوتے ہیں بخوشی قبول بھی کئے جاتے ہیں اورکہیں زبردستی وصول بھی کئے جاتے ہیں۔ تحفہ چاھے جیسا بھی ہو بس اسے وصول کرنے کے ساتھ ھی اِک ہلچل انسان محسوس کرتا ھے جیسا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے فیصل صالح حیات کا ایک مرتبہ الیکشن کے دنوں کا مشہور واقعہ ھے کہ ایک جگہ عوام کے ساتھ کہیں تشریف فرما تھے کہ ان کی خدمت میں ایک تحفے کا ڈبہ لایا گیا انہوں نے “عوام مجھ سے بہت محبت کرتی ھے” جیسے تاریخی الفاظ ادا کرتے ھوئے ڈبہ کھولا تو اندر سے ایک تسبیح اور  ایک عدد نیا لوٹا نکلا۔ نہیں معلوم فیصل صالح حیات کے چہرے کے تاثرات اس کے فوراً بعد کیا رھے ہوں گےمگر یہ  ثابت ھو گیا کہ واقعی عوام ان سے بہت پیار کرتی ھے بعد میں اطلاعات تھیں کہ ان کے مخالفین کی جانب سے ایسا کیا گیا تھا۔
بچپن میں ھم نے جب کبھی لاٹری کھولی تو زیادہ تر  try again  لکھا ہوتا تھا مگر اس دوران کبھی کبھی butter scotch ٹافی یا ایک کپ\گلاس اکثر انعام میں نکل آتے ان کی خوشی آج تک محسوس ہوتی ھے۔early classes studies میں ایک  دفعہ اسکول کی جانب سے 23 مارچ کے سلسلےمیں گورنر ہاؤس جانا ھوا تھا-  راستے میں ھم پیر پگارا کے خوبصورت تعمیر کردہ کنگری ہاؤس کودیکھتے گذرے ان دنوں “اے بھائی”کہنے والے مشہور فخرالدین جی ابراہیم کراچی کے گورنر تھے اور اس تقریب میں پہلی بار یہ خاص بات نوٹ کی کہ بچوں کی نشستوں کو فرنٹ پر رکھا گیا اور تمام بڑے مہمانانِ گرامی آخر میں تشریف فرما ہوئے اور ان میں سب سے آخر میں خود فخرالدین جی ابراہیم بیٹھے تھے خطاب کے لئے جب وہ تشریف لائے تو ہم بچوں کے گروپ کے پاس سے گذرتے سلام دعا ہوئی، بہت عجزو انکساری دیکھی تھی ان میں، اب سوچتی ہوں کہ بچپن میں اندازہ ہی نہ ھوا کہ ھم گورنرصاحب سے مل رہے ہیں نہ ہی “ہٹو بچو” کی صدائیں تھیں بڑا دلچسپ اور بچوں سے پیار بھرا خطاب تھا ان کا اللہ انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں آمین۔ گورنر ہاؤس میں انٹری بھی بڑی دلچسپ تھی سب بچے لائن بنا کے ایک ایک کر کر اندر جا رہے تھے اور پگڑی پہنے دونوں اطراف موجود خادمین بچوں کو دائیں بائیں ایک ساتھ جوس کے پیکٹ تھما رہے تھے میں نے جوس کا ایک پیکٹ لے کر دوسرا واپس کیا تو پگڑی والے انکل کہنے لگے کہ یہ آپکو لینے ہوں گے دونوں ہی آپکے لئے ھیں نہیں تو بیٹا آپ گھر لے جاؤ۔واپس نہیں کرتے۔ آگے ہی گورنر ھاؤس کا گیسٹ روم تھا جس میں قائد اعظم کی بڑی سی تصویر آویزاں تھی پھر اس سے دائیں طرف کچھ سیڑھیاں اترتے بے حد وسیع لان تھا جہاں اک “جہاں” سما جائے وہاں سب کے بیٹھنے کا  اہتمام کیا گیا تھا۔پروفیسر حسنین کاظمی،نعت خواں سہروردی،بہروز سبزواری محمد علی شہکی اور مقامی اسٹار بینڈ یہ ھمارے قریب ھی موجود تھے یہ سب ہی بہت شفقت سے ھم بچوں کے ساتھ پیش آئے تھے باقی بھی  کافی مشہور شخصیات تھیں جو ھم سے کافی فاصلے پر تھیں محمد علی شہکی بار بار ہم بچوں کو دلفریب مسکراہٹ سے نواز رہے تھے اور بہت سارے قومی ترانے میوزک کے ساتھ انہوں نے پیش کئے تھے ھم بچے بھی ان کے ھم آواز بنے تھے۔اس کے بعدتمام افراد کے لئے عصرانے یعنی (tea time) کا بندوبست کیا گیا تھا۔ اس میں دو  رنگوں سے بنی سبزاور سفید ایسی برفی تھی جو میں نے کراچی میں کہیں اور پھر دوبارہ نہ دیکھی نہ کھائی، گویا یوں سمجھ لیں کہ خوان کے نام تو اگرچہ عام سے ہی ہیں مگر لذت اور معیار ایسا جیسے واقعی ہم اچانک کسی بادشاہ کے دربار میں موجود ھوں اور سامنے شاھی دسترخوان سجا ھو۔ پاکستان میں بادشاہت ہو یا نہ ہو، جمہوریت ہو یا نان جمہوریت بڑے لوگوں کے بڑے دسترخوان ہی رہتے ہیں گویا جدید شاہی انتظام پر مبنی دسترخوان ھو جیسے، اور اس کا ذائقہ ھم عوام بلکہ ھم بچوں نے بھی گورنر صاحب کی بدولت چکھ ہی لیا  ۔  بہترین کراکری اور بہت اعلی نظام تھا دو تین اقسام کے بہت اعلی قسم کے سموسے، پکوڑے، کباب،سینڈوچ،شربت اور لذیذ چائے شامل تھی واپسی پر بچوں کو تحفے کے پیکٹ تھمائے جا رہے تھے اور رش کی وجہ سے گورنر ہاؤس سے باہر نکلنے میں تقریباً عشاء کا وقت ہو چلا تھا کیونکہ گورنر ہاؤس سے پہلے انکو باہر لایا جا رہا تھا جو اندرون سندھ سے شرکت کے لئے آئے تھے تو واپسی کا خیال کرتے ھوئے انکو ترجیح دی گئ تھی سو ھم ابھی واپسی کے انتظار میں تھے ھماری اسکول بس کا انتظام تھا اور سب بچے گھر پہنچنےکے بعد آخر میں ٹیچرز کو جانے کی اجازت تھی۔جب تک ھم گورنر ہاؤس سے باہر نکلتے ایک منظر نے ہمیں اپنی جانب متوجہ کیا کچھ بچوں کے سر پر انعامات کو چادروں میں باندھ کر  اٹھوایا گیا تھااوران سے سندھی میں انکی ٹیچرز باتیں کر رہی تھیں میں اور دیگر اسٹوڈنٹس ان بچوں کے پاس پہنچے اور پوچھاآپ نے سر پر یہ کیوں ایسے رکھا تو ان اسٹوڈنٹنس نے آئستہ آواز میں بڑی عجیب بات کہی یہ گفٹ ھم کو ملے ہیں مگر ٹیچرز نے کھولنے سے منع کر دیا ھے اور کہا  کہ یہ سب ان کا ھے جو کھولے گااسے مار پڑے گی  اور یہ سب ٹیچرز آپس میں بانٹنے کی بات کر رہےہیں اب ھم حیدرآباد جارہے ہیں وہاں کے اسکول سے ہیں ھم،  گویا بچوں کے تحفوں پر ڈاکہ ھم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا،اس کے کافی دیر بعد جب ھماری واپسی پر سبکو تحفے کا پیکٹ ملا ھماری ٹیچرز نےتو کہا سب بچے گھر لے جائیں مجھے جو پیکٹ ملا وہ بہت پھولا ھوا اور قدرے بڑا تھا دیگر دوستوں کے پیکٹ سے تو سبکو تجسس سا تھا سب نے فیصلہ کیا کہ تھوڑا تھوڑا  اپنا اپنا پیکِٹ کھول کے دیکھو تو کیا ھےجب پیکِٹ کارنر سے کھولا تو میرے پیکِٹ کے اندر2 الگ الگ آف وائٹ کپڑے نظرآئے۔مطلب یہ ڈبل جینٹس سوٹ کا گفٹ تھا اب سب کو سمجھ آئی کہ میرا پیکِٹ بڑا بڑا کیوں تھا جبکہ باقی دوستوں کے پیکِٹس میں لیڈیز یا جینٹس سنگل سوٹ تھا بس جی قسمت اپنی اپنی یہ تمام پیکٹ گُل احمد کے تھے،پھر میری دوست کہنے لگی مجھ سے پیکِٹ بدل لو  اس میں ریڈ سنگل لیڈیز سوٹ تھا،میں نے بدل لیا اور سب بچے خوشی خوشی گھر واپس آگئے۔

مچھر


قارئین کرام!
سُر،تال،قوال اور مچھر آپس میں بہت گہرا تعلق رکھتے ہیں ـ مچھر “بھیں بھیں” کا راگ الاپتا ہو یا راگ بہروی چل رہا ھو بہت غور کرنا پڑتا ھے کہ چل کیا رہا ھے؟کیا پتہ یہ دو راگ مل کے کوئیrock ٹائپ گانے کا میوزک ترتیب دے رہے ہوں کہ اچانک قوال کی چلتی تالی کی زد میں مچھر آکر اپنی زندگی ہار بیٹھتا ھے اور مچھر کی “بھیں بھیں” آخری “چیں یں یں” میں بدل جاتی ھے۔  اور راک شاک میوزک ایک طرف رہ جاتا ھےـ
بار بار ناک پر بیٹھی مکھی تنگ کرتی ہو یا کان میں مچھر تھوڑی دیر بعد بِھیں بِھیں کا راگ چھیڑے، دونوں انسان کے ہاتھ جَلد نہیں آتے جب تک کہ انسان ان کے  ہاتھوں چیں بہ جبیں  ہوتے ہوتے  بے بسی  کی تصویر نہ بن جائے، لطیفہ ھے کہ ایک  بندوق تھامےپٹھان صاحب کی ناک پر  بیٹھی مکھی بار بار تنگ کر رہی تھی پٹھان صاحب کو اتنا غصہ آیا  مکھی تو ہاتھ نہ آئی  اپنی ناک ہی فائر کر کے اڑا دی اور  مکھی سے کہنے لگے “او خانہ خراب خوچی اب بیٹھ کے دِکھا۔”
مچھر کی عمر ایک اندازے کے مطابق 6 تا 7دن سے لیکر 5 ماہ تک ہوتی ھے جبکہ مکھی اپنے ضروری  ماحول  میسر ہونے کی صورت  15 سے 30 دن جیتی ھےدونوں کی  مختصر مدت دورانیہ کی عمر اور تباھی پھیلانے کی رفتار دیکھیں ذرا ،اس کم مدت میں ہی  کافی شدت سے انسانوں اور بے زبان جانوروں کو یہ عفریت نشانہ بناتے ہیں کہیں گائے بھینس جُگالی کرتے اپنی گردن  مست ملنگ کی طرح گُھما گُھما کے یا دُم کا چابک گھما کے ان مَکھیوں مَچھروں کو دور بھگاتے نظر آئیں گی کہیں بکرا ناک سے پُھوں پُھوں کر کے دور بھگاتا نظر آئے گا جبکہ گدھا اپنے جسم میں تَھرتَھری پیدا کر کے ان کو دور ہٹنے پر مجبور کرے گا۔   اور رہا انسان تو کیا کیا نہیں کرتا ان سے بچنے کے لئے،اکثر  گھروں سے وقفے وقفے سے تالیاں پیٹنے کی گونج سنائی دے تو پہلاخیال  یہی گذرتا ھے کہ سالگریں منائی جا رھی ھوں گی تھوڑا غور کرنے پر معلوم ھو گا کہ نہیں سالگرہ نہیں مچھروں کے قتل عام کا بَگل بج رہا ھے اور ساتھ میں مچھروں کو یہ کہہ کے للکارا جاتا ھے ” ایک واری تو میرے ہتھ آ، تجھے چھوڑ دیا تو کئیں” ان عفریتوں سے نجات کے لئے گھروں میں دروازے،کھڑکیوں پر  باریک عمدہ قسم کی جالی لگائی جاتی ھے، مچھر دانیاں استمعال کی جاتیں ہیں، ،مارکیٹ میں ایک سے بڑھ کے ایک  دستیاب مکھی ،مچھر مار  اسپرے،  گلوب ،دیرپا اثر رکھنے والے مچھر مکھی دور بھگانے والے آئل استمعال ہوتے ہیں، لکڑیوں، کوئلے کا دھواں کیا جاتا ھے ان کو دور بھگانے کے لئے،خوشبو دار فینائل کے پوچے سے فرش چمکایا جاتا ھے مگر یہ نا معقول تمام سیکورٹی گھیرے توڑ کر سر پر آ دھمکتے ہیں گویا ھم انسانوں کو چیلینج کر رہے ہوں۔ ایک واحد قوال کے ھم نَوا بچتے ہیں جن کے تالیاں پیٹنے پر یہ قریب نہ جاتے ہوں گے بلکہ مچھر اپنے میں قبیلے میں اعلان کرتا ھو گا کہ اس طرف  نہیں جانا ورنہ ھماری موت یقینی ھے۔ پچھلے دنوں کی خبر سے معلوم ھوا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کو بھی کسی اجلاس وغیرہ میں مچھر نےتنگ کیا  ساری سیکورٹی ایک طرف اور وہ مچھر ایک طرف پھر آخر خان صاحب نے بھی تالی والا حَربہ ہی استمعال کیا اور مچھر سے نجات پائی۔ مگر کچھ نا معقول مچھر ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنا مِشن پورا کر کے کامیابی سے فرار ہو جاتے ہیں ایسے مفرور مچھروں کو اللہ پوچھے۔ میرا واسطہ بھی اس طرح کے مچھر سے پڑ چکا ھے گرمیوں کے دن تھے اور کالج کے لئے روز کلاسسز لینے جانا ہوتا تھا ایک رات آنکھ لگی تھی کہ کان میں وقفے وقفے سے مچھر کی بھیں بھیں سنائی دے میں بھی فضا میں ادھر ادھر تالیاں پیٹ کے نیند کی وادی گھومتی رہی اس صبح ویسے تو عام تعطیل تھی اور صبح اٹھنے پر چہرے پر مچھر کاٹنےکا تکلیف دہ احساس تو تھا مگراتنا خوفناک ٹائپ یہ تو سوچا نہیں تھا ھوا یوں کہ بالائی یعنی اوپر والے ہونٹ کے عین درمیان مچھر نے کاری وار کیا اور مجھے جاتے جاتے کسی حبشی کا رشتے دار بنا گیا جو کہ آئینہ دیکھنے پر مجھے محسوس ھوا، کمرے میں سامنے لگے آئینے پر جوں ھی میں نے اپنا چہرہ دیکھا تو ڈر کے فوراً پیچھے ہٹ گئی،پھر ڈرتے ڈرتے دوبارہ دیکھا کچھ دیر اپنے آپ کو پہچاننے میں لگی وہ حبشیوں جیسا بالائی سوجاھوا ہونٹ ما بدولت کا ہی تھا جو ایک مفرور مچھر سے مضروب ھوا میں نےمچھر کی شان  میں نا معقول سے لفظوں کا burst fire کیا اور کہا “تو میرے ہتھے چڑہ پھر دیکھ کچل کے نہ رکھ دیا تو میرا بھی نام نہیں” ہونٹ پر مچھر کاٹے کی تکلیف وہی محسوس کر سکتا ھے جو اس تکلیف سے گذرا ہو ،  سوجن کی وجہ سے میری  تو شکل ہی بدل گئی منہ بھی ٹھیک سے بند نہ ہو واقعی میں بڑا زہریلا مچھر تھا  لوگ ایویں ہی”Botox”
  کاسہارا لیتے پھرتے ہیں مچھروں سے بھی کام چلایا جا سکتا ھے مجھے اب اندازہ ہوتا ھے۔
؎نہیں کوئی چیز بیکار خانه خدا میں
اس دن تو چھٹی نے میرے بگڑے حُلیے کا پردہ رکھ لیا اگلے دن کالج جانے کا سوچ کر ہی “حبشن حبشن”کی دوستوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں سوچاکیوں نہ اس کا کوئی حل تلاش کروں گھر والوں نے بھی مجھے دیکھا تو خالہ کی تو ہنسی نہ رُکے مجھے دیکھ کر کہنے لگیں تم وہ “پاشا” لگ رہی ہو اب مجھے ان  فنکار کاپورا نام نہیں یاد آرہا ان دنوں کراچی ٹیلی ویژن سینٹر کے ڈراموں میں وہ بہت inn تھے اور ان کو زیادہ کردار ٹینشن والے یا رونے دھونے والے ملتے تھے تو ٹینشن اور رونے کے انداز میں ان کے منہ کا انداز وہی تھا جو مچھر کاٹنے کے بعد میرا حلیہ بن گیا تھا، اب تو وہ فنکار فوت ہو چکے بہت  یاد کرنے پر بھی مجھے ان کا پورا نام نہیں یاد آرہا ان کے نام میں پاشا آتا تھا اتنا ہی یاد ھے۔
اچھا پھر میں نے خالہ اور امی کے مشورے سے اس مچھر کاٹے پر سرسوں کا تیل اورنمک کا ٹوٹکا استمعال کیا اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد آئینہ بھی دیکھتی جاؤں کیا بتاؤں یوں سمجھ لیں کہ اس ٹوٹکے کے بعد تو سوجن اس قدر بڑہ گئی کہ اوپر والے ہونٹ نے chin تک کے ایریا پر اپناقبضہ کر لیا مگر مجھے بھی اب جنون ہو چلا تھا اس حبشی حُلیے سے نجات کامیں نے بھی لگا تار 4 سے 5 مرتبہ یہی ٹوٹکا شام تک آزمایا اور بار بار آئینے میں دیکھتی جاؤں شکر اللہ کا واقعی شام تک میرا اصلی حُلیہ واپس آگیا اور مچھر کاٹنے کی سوجن واقعی اتر گئی ورنہ مجھے یہی ڈر تھا میری کالج کی دوستوں نے تو میری واٹ لگانی تھی کہ بس۔
کہتے ہیں کہ دودہ میں مکھی گر جائے تو شاید اسے پورا ڈبو کے باہر نکال کے پھینک کر دودہ استمعال کیا جا سکتا ھے اس کے ایک پرَ  میں اگر بیماری ھے تو دوسرے پَر میں اللہ نے شفا رکھی ھے مگر اس بارے میری معلومات محدود ہیں۔مگر ایک واقعہ پتہ ھے کہ ہمارے پڑنانا “میاں جی” نے سب کے منع کرنے کے باوجود مکھی دودہ میں ڈبو کے  باہر پھینکی اور پھر وہ دودہ نوش کر لیا اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی، دودہ نوش کرنے کے بعد  میاں جی کی دوڑ واش روم تک رہی پوری رات۔پھر بعدازعلاج وہ شفایاب ہوئے تھے۔
بلند آواز طویل تان  باندھنا بھی ہر ایک کے بس کی بات نہیں مگر یہ بات مجھے سوچ میں مبتلا کرتی ھے کہ اس دوران کوئی مکھی مچھر میاں تان بان لگان کے منہ کا وزٹ کرے تو کیا ہو گا؟؟؟لازماً تان ٹوٹ جائے گی منہ پر لگانے والے ماسک سے کورونا وائرس اور مکھی مچھر کو بھی خود سے دور رکھا جا سکتا ھے پھر چاھے جتنی مرضی اونچی تان باندھو منہ پر ماسک کاڈھاٹا مکھی مچھر کو دور رکھے گا۔
بقول شاعر محبوب راہی کے:
؎ آیا ہے لے کے موسم سوغات مچھروں کی
ہر سمت ہو رہی ہے برسات مچھروں کی
کم ذات مچھروں کی بد ذات مچھروں کی
ہم خوب جانتے ہیں اوقات مچھروں کی
دیتے ہیں حسب عادت بیماریوں کو دعوت
کر کر کے ہم ضیافت دن رات مچھروں کی
ہے ماجرا یہ کیسا کیا قہر ہے خدا کا
نازل جو ہو رہی ہیں آفات مچھروں کی
آتی ہیں ہنستی گاتی جاتی ہیں گنگناتی
افواج مچھروں کی بارات مچھروں کی
بچھو سے بھی زیادہ زہریلے ہو چکے ہیں
کچھ بڑھ چکی ہے اتنی اوقات مچھروں کی
پھیلا کے کیوں غلاظت آلودگی نجاست
کرتے ہیں پرورش کیوں حالات مچھروں کی
ہر چیز سے انوکھی ہر شے سے ہیں نرالی
اطوار مچھروں کے حرکات مچھروں کی
چلتی ہیں سائیں سائیں جب تیز تر ہوائیں
بنتی ہیں بن بنائے کچھ بات مچھروں کی
اس دور میں ہے قلت ہر چیز کی مگر ہے
افراط مچھروں کی بہتات مچھروں کی
اپنا لہو پلا کر ہم لوگ راہیؔ اکثر
کرتے رہے تواضع دن رات مچھروں کی-

ہارن


قارئین کرام!
پاکستانی قوم کے مزاج کے رنگ بھی کیا کیا نرالے ہیں  پاکستانی حضرتِ انسان کے مزاج کا اک رنگ یہ بھی ھے، جو سڑک پر اپنے سے آگے کھڑی سواری کو کچھ دیر ہونے پر بے ہنگم ہارن پہ ہارن دیکر warn کرتا ھے، گاڑیوں، بسوں، رکشوں کے سائڈ mirror سے ہاتھ کے اشاروں سے لعن طعن شروع ہوتی ھے پھر گالم گلوچ ہوتی ھے ایک دوسرے کے اَن دیکھے خاندانوں کے کچھے چَھٹے کھولے جاتے ہیں پھر برداشت ختم ہو جائے تو wrestler کی طرح سواریوں سے اتر کر ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سڑک پر ہی wrestling کے مفت تماشے  کی سب کو دعوت عام دے دیتے ہیں۔ اور ان ہی سواریوں پر کچھ یوں درج ہوتا ھے ” وَکھرا سواگ” درس قرآن ڈاٹ کام” فخرِ پاکستان”  “تو لَنگ جا ساڈی خیر اے”(تم گذر جاؤ،ہماری خیر ھے)  “ضدی پختون”، “ہمت ھے تو پاس کر نہیں تو برداشت کر” “بہادر سپوت” جیسے جملے تحریر ہوتے ہیں جن میں سے ایک پر بھی عمل نہیں ہوتا اور ان میں پڑھے لکھے،ان پڑھے قوم کے سب رنگ اپنی اپنی حیثیت سے حصہ لیتے ہیں بندہ پوچھے نہ بات نہ بات کا سِرا یہ کوئی بات ھے بھلا “مجھے پہلے گذرنا ھے”، “مجھے ہی پہلے جانا ھے” پھر فضول کی ضد آگے سے سواری نہیں ہٹانی وجہ”میری مرضی” ہا ہا ہا سڑکوں پر مرضی بھی انہیں کرنی ہیں جن کی گھروں پر ایک نہیں سنی جاتی،پرسوں ایک تماشہ میں نے بھی دیکھا پختون بھائی کا رکشہ اور ایک کار والے کی ضد وہ بھی گنجان آباد سڑک پر کار والے نے ضد پکڑی کار نہیں ہٹانی پختون بھیا ہارن نہ بند کرے کار والے نے کہا ہارن بندکر پختون “ضدی پختون”  میں ڈھل چکا تھا کہنے لگا”اَمارا چیز ھے اَماری مرضی اَم بجائے گا تم روک کے دِکاؤ کار والا بھیا کون سا کم تھا وہ کہنےلگا بجاے جا میں نہیں ہٹاتا گاڑی ساتھ ھی گالیاں۔۔۔۔(حذف کر دی گئیں،غیرتِ پاکستانی کا تقاضہ ھے) پھر سواریوں سےاتر کر ایک دوسرے کے گریبان پکڑنےہی لگے تھے کہ کچھ خدائی فوجدار کود پڑے اور بیچ بچاؤ کرایا مجھے وہاں کچھ کہنے کا مَن کیا تھا مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا اگر سنتے تو مجھے کہنا تھا میرے عزیز ھم وطنو کسی بڑی بات پر لڑو اور ٹکٹ  بھی لگاؤ مفت سڑک کیwrestling  ابھی بہت سوں نے نہیں دیکھی آپکی، پھر جو آپ میں سے جیتے اسے تمغہ شجاعت و جوانمردی سے نوازا جائے گا۔نہیں تو میرا بس چلے تو  آپ دونوں کو کراچی کے چڑیا گھر بھیج کر میں نے ٹکٹ لگا دینا ھے ویسے بھی کراچی چڑیا گھر سے تو بہت عرصے سے بری خبریں ھی سننے کو مل رہی تھیں مثلاً کچھ مطالبات کے منوانے کے لئےجانوروں کا کھاناروک دینا اور  نایاب سفید شیر کی موت تو حالیہ واقعہ ھے جب کہ کچھ عرصہ قبل یہ خبر معلوم ہوئی تھی کہ جن جانوروں کی خوراک میں حلال گوشت شامل تھا وہ جانوروں کی بجائے انتظامیہ کے کرتا دھرتا لوگوں کے گھروں میں پہنچایا جا رہا تھا بتاؤ جانوروں کا حق کھا کر بھی کبھی پیٹ بھر سکتا ھے؟بھوک نہیں مٹتی ایسے گناہوں سے پیٹ بھلے بھر جائے نیت نہیں بھر سکتی لاھور کے خوبصورت چڑیا گھر کے ٹور کی بات تو پھر کبھی کروں گی مگر ابھی ذکر ھے آٹھ نو سال قبل کراچی کا چڑیا گھر میں نے دیکھا تھا خستہ حالی دیکھ کر دوبارہ جانے کو دل نہ کیا بڑی بُری حالت تھی جانوروں کی زیادہ تر پنجرے خالی پڑے تھے ایک پنجرے میں پر جھڑا کمزور شتر مرغ تھا  اس سے کچھ فاصلے پر پیاری سی لال آنکھوں  والا سفید خرگوش میلی حالت میں موجود تھا اسے بھی بال جَھڑ ھوا ھوا تھا لگتا ھے “پیر بھائی” کی طرح  بال جھڑ بھائی ہونے پر انہیں ایک ہی پنجرے میں رکھا گیا تھا، کچھ فاصلےپر ہرن اور لومڑی کا پنجرہ تھا بھوکے سے جانور لگ رہے تھے ایک جگہ ہاتھی کا بچہ نہلایا جا رہا تھا اور اس دوران وہ  فٹبال سے کھیلتا جا رہا تھا جبکہ کچھ  انسانی بچے بڑے ہاتھی کی سواری کررہے تھے ایک بزرگ بندر  یا پھر بن مانس تھاشاید اپنے پنجرے کے فرنٹ ایریا پر ہی ھم سے کچھ فاصلے پر ایک سیمنٹ کے تھڑے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے نیم دراز تھا اسے بلانے کے لئےاور کیلے کھلانے کی کوشش کی مگر وہ بہت سنجیدگی سےنہ معلوم کون سی گُھتی سلجھاتا کسی گہری سوچ میں مگن تھا ہماری طرف دیکھے ضرور مگر کوئی ریسپانس نہ دے اگلے پنجرے میں ایک بندروں کا جوڑا تھا جو شاید لڑ کر بیٹھے ہوئے  تھے کیونکہ ایک بندر  سیڑھی نما مچان پر دوسری طرف منہ کئے بیٹھا تھا اور دوسرا بندر پنجرے کے دوسری طرف منہ جھکائے بیٹھا تھا ہمارے پچکارنےپر آکے چپ چاپ کیلے وصول کئے اور پھر اپنی جگہ بیٹھ گیا دوسرا بندر مچان پر ہی سب سے بیزار بیٹھا رہا لوگوں کی طرف نہیں آیا، چیتا لوگوں کے ہجوم سے گھبرا کر اپنی کمرہ نما کچھار ٹائپ چیز میں جا کےچھپ بیٹھا بہت دیر اس کے پنجرے پہ کھڑے انتظار کیا مگر چیتے کے پاس ھم انسانوں کے لئے بالکل وقت نہ تھا وہ باہر نہیں نکلا ۔ واحد چیز جو قابل ذکر تھی کچھ فاصلے پر ایک پنجرے کے آگے ہم رک گئے اور اللہ کی صناعی دیکھ کر حیران پورا سفید رنگ کا مور  پنجرے کے قریب لوگوں کے آگے پیروں سے خاص تکنیک سے ڈانس step کرتا نظر آیا،سر پر بنا پیارا سا قدرتی تاج، چمکیلے بڑے بڑے سفید پروں کے ساتھ سفید مور بہت خوبصورت لگ رہاتھا۔  اصلی تاج مور کوmore خوبصورت بناتا ھے جبکہ دنیا میں کئی بادشاہوں کے سر نقلی تاج سجتے ہیں مگر پھر بھی روپ نہیں آتا اوپر سے مزید اگر تاج ہٹا بھی دیا جائے تو چمکیلی ٹِنڈ کا درشن ہوتا ھے جس سے آنکھیں ہی چندھیا جاتی ہیں  اس سے اچھا ایسی ٹنڈ کو نقلی مخملی تاج کا غلاف چڑھا کے چھپا دیا جائے تاکہ انسان مزیدhurt نہ ہوں۔ ایک پنجرے میں ایک بڑا  پرندہ مرا ھوا پڑا تھا بدبو کی وجہ سے اس پنجرے کی طرف قدم نہ اٹھائے۔ باقی پنجرے خالی تھے ہاں تو میں کہہ رہی تھی کراچی کے چڑیا گھر سے جانور تو کم ہوتےہی جارہے ہیں کیوں نہ جانور نما انسانوں کو وہاں جمع کرا دیا جائے تفریح کی تفریح اور ٹکٹ کے پیسوں سے فلاحی کام کروائے جائیں۔پاکستان کے حق میں شاندار بزنس رہے گا اور جن لوگوں کو سڑکوں پر بہت غصہ آتا ھے وہ بھی پنجروں میں رہ کر ٹھنڈا ہو جائے گا۔

چور


چور
قارئین کرام چور کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک عدد جذبات سے عاری  چھری، چاقو،  یا پھر پستول تھامے ہٹے کٹے سفاک انسان کا سا خاکہ ابھرتا ھے اس خیالی خاکے  میں آپ نے غور کیاچور نے ڈنڈا نہیں تھاما ھوا کیونکہ چور کو خدشہ ہو گا کہ ڈنڈا کسی نے اگر ضبط کر لیا تو اسی مولا بخش ڈنڈے سے چور کی گرما گرم تواضع ہو جائے گی جبکہ چھری پستول خنجر پر دوسرے انسان کا قابو gپانا کچھ مشکل سا ہوتا ھےـچوروں سے ہر انسان کا واسطہ پڑتا ھے کچھ چور مالی چوری میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ وہیں کچھ چور جسمانی چوریوں میں ملوث پائے جاتے ہیں اور حضرتِ انسان کی بھی کیا ہی نیچرھے  مالی چوری میں ملوث چور ہتھے چڑھ جائے تو  ہمارے مُلک میں جوتیوں کے ہار کا پہناوا پھر منہ کالا کرنے کی رسم کے ساتھ گدھے پر بِٹھا کر بازار گُھمانا عام ھے سمجھ نہیں آیا کہ اونٹ یا گھوڑے  کَشتی یاجہاز  اور موٹر کار  کو یہ شرف کیوں نہیں حاصل؟کیا گدھا چوری کی وارداتوں میں چور کانصف شریک کار ھے کہ چور کو اس کی سواری کروائی جائے گی اور پھر جن چوروں  کا منہ ہو ہی کالا تو اس پر کالک لگا بھی دی تو کیا ہو گا؟کیا اس کی بجائے سفیدی استمعال ہوسکتی پھر بڑا اُجلا سا  نمایاں سا چور ہو جائے گا۔ ہمارے ملک میں ڈھکے چھپے انداز سے گُردہ چوری عروج پر ھے جبکہ دل چوری وہ واحد چوری ھے جس پر گیت لکھے جاتے ہیں فلمیں بنتی ہیں اور چور کو جی کھول کے خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ھے اور چور چوری کے باوجود مجرم نہیں مانا جاتا پولیس میں رپورٹ نہیں کروائی جاتی  کوئی عدالت میں مقدمہ نہیں لڑتا، عموماًچور ایک جگہ ایک ہی بار چوری میں ملوث پائے جاتے ہیں پکڑے جانے کے خوف سے وهاں واپس نہیں

اگر  چور اسی جگہ پردوبارہ چوری کرنے آئے تو چور کا مقصد اس طرح ہوتا ھو گا (گیت میں ایڈیٹنگ معذرت  کے ساتھ)
؎جو بچا تھا وہی لوٹنے کے لئے پِھر آئے ہیں۔
ھم تو مجرم ہیں پھر چوری کے لئے آئے ہیں
چوری کا سامان کچھ بھولے تھے
وہی لینے دوبارہ آئے ہیں ـ”
ھو سکتا ھے چور جلدی میں قیمتی چیزیں بھولے سے چھوڑ گیا ہو وہی دوبارہ لینے کے لئے واپس آیا ہو۔عادی اور معمولی چور ہو تو گٹروں کے ڈھکن،عوامی جگہوں سے پانی پینے کے گلاس،بیت الخلاء کے لوٹے، ٹرین کی سیٹوں کے فوم،  اورٹرین میں سوتے وقت اوڑھنے والے کمبل ،چادریں ناشتے کی ٹر ے سے چمچے،موٹر کار اور موٹر سائکلوں کے سائڈ شیشے گاڑی کی بیٹریاں و ٹیپ ریکارڈر،مسجد کے نل،موٹریں، نمازیوں کی جوتیاں،سائیکلوں کی گھنٹیاں،بآسانی غائب کر لے گا،حتی کہ جنازہ پڑھنے کے دوران تک جیب کاٹ لینے سے بھی نہ گھبرائے ، اگر اس سے اوپر والے رینک کا چور ہو تو پھر ووٹوں کی چوری، شاعروں کی شاعری بلکہ پورا دیوان ہی لے اُڑے،میرٹ کی چوری، مقالوں کی ہیرا پھیری میں ملوث پایا جائے گا  اس سے بھی  بڑھ کر چور ھوا تو کرپشن کابازار شرفاء کے لبادے میں سجا لے گا۔بڑا مشہور لطیفہ ھے کہ چور ایک گھر میں چوری کر رہے تھے تو ایک بچےکی آنکھ کھل گئی چوروں کو کہنےلگا میرا کتابوں والا بستہ بھی چوری کر کے لے جاؤ ورنہ شور مچا کے سب کو جگا دوں گا۔ ہماری کزن باجی کا واقعہ پورے خاندان میں بڑا مشہورھوا تھا کہ وہ دوسری کزن باجی کی شرٹ کا ڈیزائن دیکھنے کیے لئے لائی تھیں اور اس کے اگلے دن انکے گھر چوری ہو گئی چور بھی رَج کے چور تھے سب کچھ لوٹ کر لے گئے انکے اسکول کایونیفارم اور وہ ڈیزائن والی شرٹ تک بھی چوری ہو گئ تھی۔ہمارے گھر بھی بہت ہی کوئی واہیات چوروں کی آمد ہو چکی ہے پہلی دفعہ چور جب چوری کے لے آئے توان دنوں  کراچی کے حالات  بہت خراب چل رہے تھے جس کی وجہ سے ہم اپنے ایریا سے دوسرے ایریا میں مقیم تایا کے گھر رہنے آئے ہوئے تھے  اس مکان میں چونکہ ہماری فیملی نہیں تھی تو  چوروں نے بہت اطمینان سے گھر پر صفایا کیا تھا جاتے ہوئے ایک عدد میز اور ایک پردہ ہی چھوڑ گئے  تھے شام کو ابو نے ادھر کا وزٹ کیا تھا اور چوری کی یہ تفصیل بتائی،  پھر اگلے دن شام کو ابو کا ادھر جانا ھوا  تو پردہ اور میز بھی غائب ہو  چکا تھا مطلب پردہ اور میز بھی چور دوبارہ آ کے لے گئے تھے، جبکہ دوسرا واقعہ جو کہ دوسرے گھر میں پیش آیا اس میں کوئی پلمبر ٹائپ کا پیشہ ور “نل چور ” تھا جو چھت کے اوپر سے آیا اور چھت پر جتنے نل کھول کے وہ لے جا سکتا تھا لے گیا اور  اپنے کام کا بڑا ماہر چور تھا غسل خانوں سے نل اتارنے کے بعد ان میں لکڑی کے ٹکڑے بھی ٹھوک گیا۔ادہر ہی واشنگ مشین بھی پڑی تھی چونکہ وہ تو اٹھا کے نہیں لے جا سکتا تھا تو وہ اس چور نے ویسے ہی پڑی رہنے دی۔ پلمبر ٹائپ چور کی یہ چوری ھمارے گھر تک محدود نہ تھی گلی میں تقریباً تمام گھروں کی مشترکہ کہانی تھی جب سب گلی والوں نے تحقیق کادائرہ وسیع کیا تو معلوم ھوا کہ چار سے دس گلیوں کے رہائشی اس پلمبر ٹائپ چور کا شکار ہوئے تھے لہذا پھر سیکورٹی  کا دائرہ وسیع کر دیا گیا یوں اس عجیب وغریب چور سے سب نے نجات پائی۔  حالیہ دنوں میں چوروں کے سب سے نچلے درجے کے چور بھی پاکستان میں ہی پائے گئے ہیں،سابق ہاکی پلیئرسمیع اللہ کے مجسمے سے مرحلہ وار چوری کرتے ہوئے ہاکی اور گیند بھی لے اڑے اور اس کے بعد قائداعظم کے مجسمے سے عینک کی چوری کی خبر سننے میں آئی ھے جس پر وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے نوٹس لیتے ہوئے مجسمے پر عینک لگانے کے احکامات جاری کئے افسوس، بابائے قوم کے مجسمے کے ساتھ چور کا یہ بے ہودہ رویہ ھے اور  ھم سب کے لئے باعث شرمندگی ھے ،ایسے چور کے تو ہاتھ کاٹنے کے ساتھ سزا کے طور پر آنکھیں بھی نکال دینا چاہئے اور چوک پر بھیک مانگنے بٹھا دینا چاہئے پھر۔  چوروں کی بھی لا تعداد اقسام ہیں جن میں سے کچھ پر ہی بات ہو سکی  یہ ایسا موضوع ھے جسے سمیٹ کر اختتام پر لانا آسان نہیں ویسے بھی ہمارے ہاں اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹتا ھے اور چور کی داڑھی میں تنکا ہوتا ھے وہ بھی جھاڑو کا، چور چوری کر کے شور بھی مچاتا ھے کہیں چوری ہونے کے بعد جب چور چور کی صدائیں بلند ہوتی ہیں تو چور بھی چور چور کہتا اس بھیڑ میں شامل ہو جاتا ھے پھر اسی بھیڑ سے چُپکے سے نظر  بچا کے گُم ہو جاتا ھے۔ اور عوام چور چور کرتی رہ جاتی ھے۔ مگر اکثر چھوٹ چور پکڑے بھی جاتے ہیں اور سزا بھی بھگت لیتے ہیں مگر بڑے چور چھپن چپائی کھیلتے ہیں اور “ڈھونڈو تو جانیں” کھیلتے رہتے ہیں ڈھونڈنے کا ڈھنڈورا قوال کی تالی کی طرح پیٹا جاتا ھے مگر بڑے چور نہیں ملتے۔

مشاہدہ


قارئین کرام!
ہر انسان اپنے اندر ایک مکمل داستان ھے، ہر  ایک کی مختلف کہانی ھے  اگرچہ میں سائنس کی اسٹوڈنٹ تو نہیں ہوں مگر اتنا جانتی ہوں  جیسے خدا کی قدرت کہ اربوں کھربوں کی تعداد میں نسلِ انسانی کا وجود جس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی ھے اور آج تک ایک بھی انسان کا finger print دوسرے انسان سے  کبھی بھیmatch نہیں ھوا، اللہ اکبرـ
DNA or ( deoxyribonucleic acid)
سے اس کی جسمانی حالت و انفرادیت اجاگر ھوتی ھے اسی طرح  ھم کہہ سکتے ہیں ہر انسان اپنی ذات میں ایک مکمل
  school of thought ھے، ہر انسان کا تجربہ
مشاہدہ ،حساسیت،ارد گرد کے ماحول کو سمجھنے پرکھنے کا انداز مختلف ہو سکتا ھے ہر انسان اپنے تمام گذرے وقت اور تجربات سے ہی grow کرتا ھے وہ اچھائی کی جانب بھی جا سکتا اور گناہوں کا راستہ بھی چن سکتا اگرچہ کسی کے اچھے برے ہونے میں اس کی ذات کے ساتھ ساتھ خاص طور پر اس کے والدین ،خاندان اور  اس کے دوست احباب سے اس کی شخصیت کا اندازہ کیا جاتا ھے مگر پیدائشی طور پر  نہ کوئی نیک ہوتا ھے نہ بُرا۔ایک انسان کا زندگی میں کئی اچھے برے کرداوں سے واسطہ رہتا ھے اور جن کا مشاہدہ ذرا strong ہو تو وہ ان کرداروں سے بہت گہرا اثر لیتے ھیں مجھے نہیں معلوم میرا  اب تک کامشاہدہ strong کہلائے جانے کے لائق ھے یا نہیں، میں اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات جو کہ اکثر میں آپ سے شیئر بھی کرتی ہوں  تو قارئین خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ میرا یہ مشاہدہ strong رہا اب تک یا میں نے ایویں ھی بونگیاں ماری ہیں۔
اگرچہ پاکستان میں 90s کے اوائل اور mid تک  کئی کمپنیاں اور offices کی سطح پر اپنے ملازمین کو basic کمپیوٹرسِکھانے کا رواج ہو چکا تھا اور ابو جی نے بھی اپنے آفس کی طرف سے یہ کمپیوٹر کا بنیادی کورس کیا تھا اور انہیں یہ کورس آفس میں russian team کے لوگ سِکھا رہے تھے جو ان دنوں پاکستان آئے ہوئے تھے یہیں سے میری کمپیوٹر سے وابستگی شروع ہوئی تھی کیونکہ ابو جی جو کچھ سیکھ رہے تھے وہ سب ہمیں اپنے notes کی مدد سے بتاتے رہتے ظاہر ھے ابھی کمپیوٹر گھروں میں ان دنوں عام نہ تھا۔
میری خوش قسمتی ھے کہ ھم 90s دہائی کےآخر کے سالوں کی نسل میں سے ھیں جنہوں نے کمپیوٹر، موبائل وغیرہ عام ہونے سے کچھ عرصہ قبل کا وہ شاندار زمانہ دیکھا ھے جسے ہم ٹیپ ریکارڈ، ٹیلی ویژن والا زمانہ کہہ سکتے ہیں جب فیملی، خاندان، اسکول مدرسہ،گلی محلہ کا ماحول بہت صاف ستھرا اور بااعتبار سا تھا ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ سے سب لوگوں کا لینا دینا تھا چونکہ گلی محلوں کا ماحول اچھا تھا تو ایک 1-2 سال کے بچوں سے لے کر 14-15 سال کی لڑکیاں تک گلی میں چُھپن چُھپائی hide and seek اور رسی کودنے  jump rope جیسے صحتمند کھیل کھیلتی تھیں ایک بچہ گلی میں گُم جاتا تو پوری گلی کے لوگ مِل کر اس کو ڈھونڈا کرتے تھےکوئ بچہ ویڈیو گیم کی دکان پر دیرکرتا تو پڑوسی ہی اس کی خبر لے لیتے اور کان سے پکڑ کر گھر چھوڑ دیا کرتے تھے ریٹائرڈ انکل آنٹیاں مفت میں اسکول کے ھوم ورک کے ساتھ ٹافیاں، مٹھائیاں بچوں کو کھِلا کے خوشی محسوس کرتے،  اسپیشل پکوان جیسے بریانی، زردہ ،قورمہ کڑی،کھیر وغیرہ  کسی کے ہاں بنتے تو گلی والوں کی پلیٹ پہلے تیار ہوتی تھی اور کوئی اندرون شہروں سے اپنے پیاروں سے مل کر  آتا تو اپنے علاقے کی فصل کے حساب سے ،گنے ،چاول، خربوزے ،ٹماٹر یا پھر اچار، مٹھائی پوری گلی میں تقسیم ہوتی کوئی بیرون ممالک سے آتا تو لا تعداد ٹافیاں اور چاکلیٹس گلی میں وافر مقدار میں سب بچوں کو ملتیں ، رمضان عید اور یوم آزادی سمیت دیگر تہوار مل کر منائے جاتے یوم آزادی پر اپنے ہاتھوں سے گلیاں صاف کرنا اور پھر جھنڈیوں سے گھر سے لیکر پوری گلی کو سجایا جاتا اور سب بچوں میں  برابر کا کام بچوں کا لیڈر تقسیم کر دیتا تھا جو حکلم عدولی کرتا اسے بچہ ٹیم سے فارغ کر دیا جاتا جب تک وہ معافی تلافی کر کے دوبارہ ٹیم نہ جوائن کر لیتا، میٹھی عید پر عید کارڈ کے ساتھ اسکول اور محلےکی دوستوں  میں مہندی،بالیاں،چوڑیاں،رومال لاکٹ چین اور نقد عیدی بھی ساتھ بھجوانے کا اہتمام ہوتا تھا یہ سب چیزیں اب نہیں، کھو گئیں ہیں کہیں۔  ایک گھر شادی ہوتی تو شادی کے دنوں تک گلی والوں کے کھانا نہ پکتا شادی کے گھر والے افراد کھانے کے ٹائم خود بلا بلا کر اپنے گھر کھانا کھلاتے پھر بھی اتنی برکت کہ دیگ کے کھانے  گلیوں میں بانٹ دیئے جاتے،اور آج کئی قسم  کی  quick service for food delivery ایپس موبائلز میں download ہیں اور کھانے کی لذت ان دیگ کے کھانوں کے half بھی نہیں،
   آج تو ایک ھی گھر میں سب “لئےديئے”رہتے ہیں ایک ھی گھر میں رہتے ہوئے اپنے اپنے کمروں میں الگ الگ دنیائیں ضرور آباد ہیں اور گھر کے t.v lounge کہلانے والے حصے ویران پڑے ہیں ہفتے ہفتے ایک دوسرے کی شکلیں نہیں نظر آتیں اور پھر بھی بیزاری سی بیزاری ھے کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں عجیب بے اعتباری اور مفاد پرستی معاشرے میں پھیل رہی ھے۔ اب چھوٹے بچے بچیاں آزادی سے گلی میں نہیں کھیل سکتے مجھے بہت افسوس ھے اس بات کا کاش میں ان سب کو اپنے جیسا بچپن دے پاتی اب نہ وہ گلیاں نہ وہ گھر نہ وہ گھروں کے مکین ھیں۔
افوہ  کچھ فضا میں گُھٹن سی نہیں  بڑہ گئی؟  یہ میں کہاں نکل گئی بس بات سے بات نکلے ہی چلی گئی چلیں چھوڑیں اب آپ سے میں اپنا ایک ہلکا پُھلکا observation کا شاندار تجربہ شیئر کرتی ہوں
مجھے وہ دیگ یاد آرہی ھے جو گلی میں تیار ہوتی تھی بریانی کی اور ھم بچے اس میں شوق شوق سے اپنے قد جتنا بڑاوالا(چمچہ) کفگیر پھیر کر ایک فخرسا محسوس کرتے کہ ھم نے بھی دیگ پکائی۔   دیگ کی تیاری بڑے شوق سے دیکھا کرتے تھے۔ دیگ کا احوال کچھ یوں ھے کہ 3 عدد بڑے سائز  کےسیمنٹ کے بلاکس کی مدد سے ایک چولہا تیار کر کے اس کے درمیان میں لکڑیاں اور کوئلہ ڈال کر مٹی کا تیل چِھڑکا جاتا اور اسے آگ دکھائی جاتی  کوئلہ ولکڑیاں   چَٹاخ پَٹاخ کرتی سُلگنے لگ جاتیں ، ایک انکل گھر سے باہر چارپائی ڈالے اس پر بڑی مہارت سے پانچ سات کلو پیاز چھیل اور کاٹ رہے ہوتے اور ایک انکل لوہے کے امام دستے میں لہسن ادرک کوٹ رہے ہوتے وہ “ٹَھک ٹَن” بڑی پیاری لگتی اِک بڑے سے دھاتی ٹب میں گوشت کو بِھگو کر صاف کیا جاتا اور ایک ٹب میں چاول بھیگے ہوتے، دو آدمی تیزی سے چار پانچ کلو ٹماٹر  سلائس میں کاٹتے اور اتنے ہی آلو بڑے ٹکڑوں میں کاٹتے جاتے تین چار کلو دہی ایک جگ میں موجود ہوتا، دیگ یا دیگوں کے حساب سے تلو یا ڈالڈے گھی کے 5 کلو کے ایک دو ڈبے پاس دھرے ہوتے ،  خشک آلو بخارا  گرم مصالحے کی پُڑیاں نمک مرچ دھنیا پاؤڈر کھول کر ایک پلیٹ میں رکھتے جاتے ایک طرف پودینہ ہری مرچ اور لیموں موجود ہوتے جبکہ کچھ گرم مصالحہ جات کا ایک حصہ پاؤڈر بنا لیا جاتا فَضا میں سُلگتی لکڑی کوئلے اور تمام مصالحہ جات کی وہ خوشبو ناک کے نتھنوں سے ہوتی بھوک کو جگاتی دماغ روشن کرتی رہتی جب تک وہ دیگ تیار نہ ہو جاتی انتظار کی سُولی دیکھنا پڑتی۔ پھر دو آدمی چولہے پر ایک دیگ میں پانی چاولوں کے حساب سے ڈالتے  اس میں نمک، تیز پات،لونگیں  اور دار چینی  شامل کر کے اُبالتے، چاول شامل کر تے پھر چاول ایک کنی ابال کر کے بڑی سی کھجوری چھال کے ٹوکری میں انڈیل کر کے پانی نتھارتےاور چارپائی پر رکھ دیتے اُدھر دوسرے انکل گھی کے ڈبے کھول کر بریانی کے حساب سے دوسری چولہا چڑھی دیگ میں انڈیلتےاور اس میں پیاز کڑکڑاتے پھر باری باری نمک مرچ دھنیا پاؤڈر لہسن ادرک کا بہت سارا پیسٹ شامل کرتے جاتے مجھے یہ سب جادو سا لگتا اتنی بڑی دیگ اتنی ساری مرچی نمک وغیر ہ دیگ میں جاتا پھر گوشت اس میں ڈال کر بھونتے دہی شامل کرتے اور چمچہ چلتارہتا  پھر آخر میں ٹماٹر آلو پودینہ ہری مرچ، لیمن آلو بخارا ، زردہ رنگ ڈال کر اور چاول ڈال کر دم دیا جاتا جب دیگ کا ڈھکن کھلتا تو آہاہاہا یہاں نور جہاں کی غزل معذرت اور کچھ ردوبدل کے ساتھ
؎ہماری سانسوں میں آج تک وہ دیگ کی خوشبو مہک رہی ھے
بیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے
بھوک کی بلی مَچل رہی تھی ـ”
کیا بتاؤں بس الفاظ ھی نہیں میرے پاس،وہ لذت وہ خوشبو۔ وہ شاندار ذائقہ
  اب آجکل جو دوکانوں پر دیگیں تیار ہوتی ہیں وہ سب مجھے artificial سا ذائقہ لئے لگتی ہیں  دیسی touch غائب ہوتا جارہا ھے چائنہ پیاز چائنہ آلو،لہسن ٹماٹر اور پریشر والا گوشت ان سب کی بدولت دیسی کھانوں کا ذائقہ تباہ ہو کر رہ گیا ھے۔
لیجیئے میں نے آپ کو دیگی بریانی کی مکمل recipe بھی بتا دی آپ چاہیں تو اپنے گھروں میں اب یہ ترکیبب try کر سکتے ہیں بمعہ اصلی دیسی چیزوں کے ساتھ۔

موٹاپا


( تصویر شکریئے کے ساتھ ڈان نیوز اردو چینل)
پاکستان کے 61 فیصد ڈاکٹر
موٹاپے کے شکار، تحقیق

پاکستان میں ماہرین امراض قلب سمیت 61 فیصد ڈاکٹر موٹاپے کی بیماری کا شکار ہیں جبکہ ساڑھے سات فیصد ڈاکٹر سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ اس بات کا انکشاف قومی ادارہ برائے امراض قلب کے محقق ڈاکٹر سالک احمد میمن کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں کیا گیا۔

قارئین کرام کل ایک خبر نظر سے گذری
21 نومبر 2021 ڈان نیوز کی خبر کے مطابق موٹاپے اور سگریٹ نوشی نے ڈاکٹرز کو بھی نہیں بخشا اس پر عوام کو تشویش کا شکار ہونے کی بجائے ڈاکٹرز کا مزید شکر گذار ھونا چاہئے کہ موٹاپے کا شکار عوام کا ساتھ دینے کے لئے ڈاکٹرز ان کے شانہ بہ شانہ وسیع جائیداد کی سی توند اور سگریٹ نوشی کی لت کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ساتھ کھڑے ہیں تاکہ عوام کو حوصلہ ملتا رہے کہ ایک وہ ہی اکیلے تھوڑی موٹاپے کا شکار ہیں یا سگریٹ کی لت میں مبتلا ہیں ڈاکٹرز تو وہ بعد میں ھوں گے پہلے تو روایتی پاکستانی ھی ہیں نا اور وہ پاکستانی کیا جو  موٹاپا و توند اور سگریٹ لت کے بغیر نظر آئے عوام  تو خود موٹاپے کو دعوت دیتےرہتے ہیں  اور ڈاکٹر صاحبان کو عوام کی خدمت سے  فرصت نہیں ملتی کرسیوں کا سفر کرسیوں تک رہ جاتا ساتھ اور پھر سگریٹ کے چند کش۔۔۔تازہ دم کر کے اگلے اسپتال کی منزل آسان بنا دیتے ھیں,exercise machines منتظر رہ جاتیں،  jogging, walking خواب میں ہی ھو جاتی۔ یہی وجہ ھے کہ اسپتالوں کی کار پارکنگ پر تقریباً ہر کار سے ایک عدد توند پہلے برآمد ہوتی ھے پھر باقی کا انسان،  یہی حال کسی entrance پر بھی نظر آتا ھے پہلے توند کی تشریف آوری ہوتی ھے پھر باقی پورے انسان کی۔ کبھی کبھی یہ موٹاپا بھی خبر بن جاتا ھے جب دروازے میں کوئی موٹا انسان پھنس جائے تو دروازہ توڑ کر نکالنا پڑ جاتا ھے جبکہ بہت عرصہ پہلے یہ بھی خبر پڑھی تھی کہ راولپنڈی کی ایک دیوار کے درمیان ایک موٹاپے کا شکار انسان ایسے پھنس گیا کہ دیوار توڑنا پڑی جب جا کے وہ وہاں سے نکلا مجھے اس پر عدنان سمیع کا ایک گیت یاد آرہا ھے کچھ edit کر کے
اصلی بول ہیں گانے کے
؎ کہاں بس گئے ہو سپنوں کے ساگر میں(عدنان سمیع سےمعذرت کے ساتھ یہ ایڈیٹینگ)
؎کہاں پھنس گئے ہو دیوارِ آہن میں
بچپن میں ایک بار سگریٹ ہم بہن بھائیوں نے مل کر ٹرائی کی تھی کیونکہ ھمارے  ماموں جی  سگریٹ پیا کرتےتھے تو ہم متاثرینِ سگریٹ ہو گئے اور سب بچہ پارٹی نے بڑوں سے نظر بچا کے ایک سگریٹ سلگائی اور  سب نے لگایا ایک لمبا کَش ساتھ ہی حلق شدید کڑوا ھو گیا اور کھانسی کا ایسا اٹیک کہ ال امان الحفیظ جس میں مابدولت کی کھانسی کسی ہیروئینچی جیسی زور زور سے شروع ہو گئ باقی بہن بھائ  کچھ ہلکے کھانستے کہنےلگے اب پکڑے جائیں گے تمہاری آواز سے اتنے میں خالہ کی آمد ھو گئی خالہ نے پہلا سوال کیا یہ سگریٹ کون پی رہا ھے ھم بچے جھٹ بولے ماموں اٹھ کر گئے ہیں تب تک وہ سگریٹ زمین پر بھائی نے پھینک کر پاؤں کے نیچے دبا لی تھی وہ ہم سب کا پہلا اور آخری سگریٹ ثابت ھوا شکریہ اس کھانسی کے اٹیک کا جس نے ہمیں آئندہ کے لئے محفوظ کر دیا شاپنگ مالز میں اکثر ایسے uncles کا سامنا ھوا ھے کہ اچانک سامنے سے ایک بے ہنگم  بڑی سی توند بر آمد ہوتی ھے اور اس پر کچھ مقدار میں لگا ھوا انسان اک شان بے نیازی لئے چل رہا ہوتا ہے
کہ
  بقول نشتر امروہوی
؎”جسم پر نشترؔ کوئی بھی سوٹ فٹ آتا نہیں
ہو گئی ہے توند کی کچھ ایسی گولائی کہ بس۔”
  اب یہی کہہ سکتی ہوں اللہ ھم سب کو وسیع توند  و موٹاپے اور سگریٹ جیسی بری عادات سے بچائے رکھے۔
نوٹ: تحریر کا حق ما بدولت کی جاگیر ھے۔

دانت


قارئینِ کرام!
خوبصورت اور چمکدار دانت کسی بھی شخصیت میں چار چاند لگا سکتے ہیں اور  یہی  دانت اس بات کے بالکل اُلٹ ہوں تو  پھر وہ چار چاند کبھی نہیں نکلتے اور ہو سکتا ھے کہ اس کی بجائے چار دانت منہ سے نکل جائیں اور تازہ ھوا کے جھونکے اس خَلا سے حلق تک پہنچیں جیسے
؎ دل کے افسانے نگاھوں کی زبان تک پہنچے
بس یہاں سےافسانے اگلی ٹرین نگاھوں کے بعد  دانتوں کی بھی لے سکتے ہیں ، نہیں معلوم دنیا میں اب تک  کتنے لوگ محبتوں کی داستانوں میں ایک “بتیسی” پہ دل ھار بیٹھے  ھوں گے  اور بعد میں اس جعلی بتیسی کا راز کھلنے پر ان کا دل خون کے آنسو رویا ہو گا ٹوٹے دل کی بجائے ٹوٹے دانتوں کے ساتھ ، بالکل اس طرح جیسا زیڈال کا اشتہار اخبار میں کبھی آیا کرتا تھا
؎ “یہ کیا ساس نے دولہے کے سر پہ ہاتھ پھیرا وِگ ہاتھ میں آگئی، شرمندگی سے بچیئے آج ہی زیڈال استمعال کریں بالوں کو مضبوط گھنا بنائے”  غرض جتنی بتیسیاں اتنے افسانے۔دانتوں کے ساتھ ہی آخر میں جو داڑھیں موجود ہوتی ہیں ان میں اوپر نیچے دو دو داڑھوں پر مشتمل کُل چار داڑھوں کا ایک set موجود ہوتا ھے عقل داڑھ,  بےعقل داڑھ , بیوقوف داڑھ اور پاگل خبطی داڑھ بس جس انسان میں جو داڑھ زیادہ active ہو گی وہی خوبیاں اس انسان میں موجود ھوں گی ۔ Dentist کے پاس کبھی آپکا جانا ہو تو دیکھئے گا ایک عدد جگمگاتی سی بتیسی آپکو welcome کہنے ٹیبل پر موجود ہو گی آپ کو بھی چاہئے اس سے حال احوال پوچھ لیں- مشہور شخصیات کی یادگاروں میں ان کے زیر استمعال کپڑوں سے لے کر قلم تک نیلام ہوتے ہیں اب یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی کہ  کسی خاص و عام کی جانب سے کبھی بھی کوئی  بتیسی نہ نیلام ہوئی ۔
teeth braces treatment 
   سے یا اب اور بھی جدید میڈیکل ٹیکنالوجی کی بدولت ٹیڑھے میڑھے دانتوں کو اچھے بچوں کی طرح بڑ ے آرام سے ایک ترتیب میں بٹھایا جا سکتا ھے۔ جبکہ شکل و صورت و جبڑے کی ساخت  سے ملتی جلتی پوری نقلی بتیسی مارکیٹ میں بالوں کی وِگ کی طرح بھی مل جاتی ھے سامنے کے دو یا اوپر تلے چار،چھ دانتوں کے set  بھی بآسانی مارکیٹ میں دستیاب ہیں کیا ہی اچھا ہوتا ان نقلی دانتوں کے ساتھ ایک زبان بھی دستیاب ہوتی وہ زبان جو “دے کر” کبھی نہ بدلی جاتی جیسا کہ آجکل زبان دے کے مُکر جانا عام ھے تو یہ دوسری زبان کام آ جاتی۔خیر ابھی تو ھم ذرا دانتوں کی بات کر لیں ایک مرتبہ گرمیوں کی چُھٹیاں تھیں میں اپنی پھوپھو کے گھر میں رہنے گئی۔ پھوپھو، میں اور میری کزن ہم سب ایک بڑے بیڈ پر سو رہی تھیں اور سونے سے پہلے پھوپھو نے ڈریسنگ ٹیبل پر اپنی بتیسی ایک باؤل میں بھگو کے رکھی تھی جس کا مجھے اس وقت نہیں معلوم تھا آدھی رات کا ٹائم تھا میں اٹھ کے واش روم جانے لگی ڈریسنگ ٹیبل پر نظر پڑی وہ جسے کہتے ہیں نا ڈر کے گھِگِھی بند گئی وہ حال میرا ھوا نہ منہ سے کوئی آواز نکلےاور قدم لگا کہ زمین نے جکڑ لئے کچھ نیند میں بھی تھی کتنی دیر سوچتی رہی کہ یہ عجیب سی کیا چیز ھے بڑا ڈر لگا پھر پھوپھو نے کروٹ لی تو مجھے لگا وہ جاگ گئی ہیں میں نے بھی زور زور سے ان کو آواز دی پھو پھو نے کہا کیا ھوا میں نے باؤل میں بھیگی عجیب شے کے بارے پوچھا تو پھوپھو نے بتایا کہ ارے کچھ نہیں بس دانت رات کو منہ میں تکلیف دیتے تو میں نکال کے ایسے رکھ دیتی ہوں۔مگر میں وہاں جتنے دن رہی رات کو اکثر اس بتیسی سے ڈر  جاتی تھی۔ اوپر سے پھوپھو کو غور سے دیکھا تو دانتوں کے بغیر پھوپھو کا چہرہ بدلا بدلا سا تھا جبکہ دِن میں  اس چمکدار نقلی بتیسی کے ساتھ پھوپھو کی ہنسی بڑی بَھلی لگتی تھی۔  اصلی دانت  اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہیں ہم ان کی حفاظت کر کے ان کی عمر اور بھی بڑھا سکتے ہیں۔
دانتوں کو چمکدار بنانے کے لئے مارکیٹ میں ایک سے بڑھ کے ایک  پراڈکٹ موجود ہے مگر یہ بات سمجھ سے باہر ھے کہ جانور چوپائے جو  گھاس اورچارے وغیرہ کااستمعال کرتے ہیں نہ کوئی ٹوتھ برش نہ ٹوتھ پیسٹ استمعال کر تے ہیں، نہ کوئی اور دادی اماں کا ٹوٹکا پھر  بھی اتنے چمکدار ایک  جیسے ترتیب والے دانت ہوتے ہیں اُن کے، اور آپ یقین مانیں ان سب میں گدھا سب سے آگے ھے ہاتھی دانت اتنے خوفناک سے لگتے اور پھر بھی پوری دنیا میں  ہاتھی دانت کی چوری  ہوتی ھے  جبکہ اتنی خوبصورت چمکدار گدھے کے دانتوں کی بتیسی کی چوری ہو گئی یہ  کبھی نہ سنا ، بس نصیب اپنا اپنا ، آخر گدھے کے پاس دانتوں کی دلکشی کا کیا راز ھے یہ تو ماھرین دانتیات کو چاہئے کہ اس پر ریسرچ کریں اورگدھے کی خوراک میں شامل اس گھاس پر اور جڑی بوٹیوں پر تحقیق کریں کہ جو گدھا روزمرہ اپنے کھانے کی روٹین میں رکھتا ھے پھر ان جڑی بوٹیوں پر مشتمل کوئی اچھا سا ٹوتھ پیسٹ\ ٹوتھ پالش بنا کر انسانوں کے لئے متعارف کروا کے مارکیٹ لانا چاہئیے- اور پراڈکٹ کو مشہور کرنے کےلئے پراڈکٹ کا نام کسی ہالی ووڈ اسٹار پر رکھ لیں مثلاً جیسے کہ   mariyln monroe toothpaste
یا
tom cruise tooth polish
            باقیوں کا نہیں معلوم  مگرمتاثرینِ اسٹاریات
star= stariyaat پاکستانی قوم دھڑا دھڑ خریدے گی۔بس  یا تو پھر قوم کے دانت چمکیں گے یا کسی کی جیب چمکے گی۔
ہمارے ہاں ٹوتھ پیسٹ کی دو چار اقسام اب بھی ایسی موجود ہیں جو کہ معیاری کہلائے جانے کے لائق ہیں اور مزے کی بات ان کا اشتہار ٹی وی پر بھی نہیں آتا مطلب ان کی تشہیر کی ضرورت نہیں پڑتی، مارکیٹ میں اس کے بغیر بھی اس پراڈکٹ کی مانگ ھے۔ کچھ بات مسواک کے حوالے سے بھی ھے کہ
گذشتہ دس بارہ سالوں سے مسواک کے استمعال کی میری عادت ھے اور ان سالوں کے تجربے کی بنیاد پر میں کہہ سکتی ہوں کہ دانتوں کی بیماریوں سے بچاؤ کا یہ بہترین طریقہ ھے ٹوتھ برش پیسٹ کے استمعال کے ساتھ ساتھ مسواک کااستمعال دانتوں کے لئے بہترین ھے اور ایک مزید چھوٹی سی بات کا خیال کر کے دانتوں کی بیماریوں سے بچا سکتا ھے کسی بھی قسم کا میٹھا استمعال کرنے کے بعد کُلی کرنا نہ بھولیں چاھے آپ نے ایک چاکلیٹ اِسٹک یا کوئی میٹھی سِپاری ہی کیوں نہ لی ہو۔ رات کو دانت صاف نہ کر سکیں تو سادہ پانی کی کلیاں کرنی چاہئے اس کے بغیر کبھی مت سوئیں روز مرہ روٹین میں مسواک کا استمعال کریں شروع میں کچھ مشکل ہو گی مگر جب  مسواک کی عادت ہو جائے گی تو اس کے فائدہ مند نتائج  آپ خود دیکھیں گے ۔ مسواک کا جب پیکٹ کھولو تو تازہ مسواک کی خوشبو بہت اعلی ہوتی ھے پورا ایک دن تو بہت تیز رہتی پھر مدھم پڑتی جاتی مسواک کے بے حد فوائد ہیں اس کے علاوہ ایک دادی اماں کا آسانی سے بننے والا ٹوٹکا بھی gums مسوڑھوں کی بیماریوں سے نجات دیتا ھے اور دانتوں کو مضبوط چمکدار بناتا ھے اس کےلئے سات یا  آٹھ ٹیبل اسپون کوئی سا بھی نمک لے لیں باریک ہو تو بہتر ھےپھر اس میں دو ٹی اسپون سرسوں آئل اور ایک ٹی اسپون کوکونٹ آئل مکس کر لیں چاہیں تو سرسوں کے بجائے زیتون آئل بھی لے سکتے ہیں اب اسے کسی خشک بوتل میں محفوظ کر لیں نمک میں آئل کی مقدار ایسی رکھنی ھے جس سے یہ ایک گاڑھا سا پیسٹ سا بن جائے، اس مکسچر کا کچھ حصہ دانتوں پر مل لیں اور پھر کلیاں کر لیں، اس کو رات سونے سے قبل کرنا زیادہ بہتر ھے،  اگر سات آٹھ چمچوں کا مکسچر بنانا مشکل ھو تو آپ فوری استمعال کےلئے 1/4 سے تھوڑاسا زیادہ چمچ  اپنی ہتیھلی پر  لے کر سرسوں کھوپرا یا زیتون کےتیل چند قطرے مکس کر کے دانتوں کے لئے استمعال کر سکتے ہیں یہ مکسچر دانتوں کو چمکدار بھی بناتا اور مضبوط بھی۔ اور gums کے لئے بھی بہترین ھے۔آپ اسے ایک  ہفتے میں چاہیں ایک دو بار یا روزانہ بھی استمعال کر سکتے ہیں۔