ترکیب


ربڑی یا قُلفی

قارئین کرام!
کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی امی جی ھے پھر تو دریافت ایجادکی چھوٹی بہن ھو گی ۔حضرتِ انسان روزِ اول سے ھی  تجسس کے ھاتھوں شدید مجبور ھو کر تجربہ تجربہ کھیلتاچلا آیا ھے اور اپنی اسی متجسس طبیعت کے باعث بالآخرجنت سے بھی نکالا جا چکا ھے  مگر پھر بھی ابھی تک   تجسس اور اچھے برے  تجربات انسانی زندگی کے ساتھ جاری وساری ھیں ۔تجربات میں ھم  اتفاقی تجربات، توکبھی  دریافتوں کو ظہور پذیر ہوتا دیکھتے ہیں اتفاقیہ ایجادات کے تجربات کی اگرچہ طویل  فہرست ھے ، لا تعداد انواع واقسام کی اشیاء اس میں آجاتی ہیں ۔کھانا پکانا بھی وہ فن ھے جس میں آئے روز نت نئے تجربات  کی وجہ سے کھانوں کی  نئی ترکیبیں ظہور پذیر ہوتی  ہی رہتی ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کےتمام انسانوں+ شاید جانوروں کی بھی پسندیدہ خوراک بن جاتی ہیں جس میں ھم ایک جیتی جاگتی مثال آلو کی چپس کی لے سکتے ہیں جو مجھ نا چیز نے اپنے تجربے کے بعد اسے یکساں طور پر انسانوں سمیت بلیوں بندراور لنگوروں کا من پسند “کھاجا” پایا ھےـ یو ٹیوب کی تجرباتی دنیا میں ھم نے جو غوطہ زن ھو کے دیکھا تو جناب یہاں تفریحی ویڈیوز (ماہانہ 15 لاکھ کمائیں وہ بھی گھر بیٹھے) ھے نا تفریح !!اس بات سے لیکر گھر میں خود اپنا ذاتی ھوائی جہاز بنانے تک کے طریقے  دستیاب ہیں ما بدولت بھی اسی کام پر لگ گئ اور گھر میں موجود  اضافی صوفے کو چار پہیوں کی گاڑی میں تبدیل کرنے کی لگی ویڈیوز ڈھونڈنے کہ ھو نہ ھو انہی ویڈیوز کو دیکھ کر میں کم از کم اپنا ذاتی رکشہ تو تیار کر ہی لوں گی۔ خیر میرا یہ پراجیکٹ تو ابھی زیر غور تو تھا ہی کہ کھانے کی نت نئی  ترکیبوں کے ایسی ایسی خوبصورت ویڈیوز موجود ھوتی ہیں “صرف 10 منٹ میں جھٹ پٹ تیار، کھانے میں مزیدار” ان ترکیبوں پر نظر پڑتے ہی گھر پر  میں نے “صوفہ رکشہ پراجیکٹ” کو دور پرے رول کر کے رکھا اور  صرف “10 منٹ میں تیار”  کی  لا تعداد ترکیبیں دیکھتے ایک ترکیب آزمانے کا سوچا یہ وہ ترکیب تھی جس کی شان میں ویڈیو بنانے والے  جھوٹوں کے بادشاہ یہاں تک کہہ گئے کہ یہ گھریلو پیمانے کا ایک کامیاب کاروبار ھے جسے خواتین بھی بآسانی کر سکتی ہیں کھویا بنائیں اور مارکیٹ کی دکانوں پر سپلائی شروع کر دیں میں نے یہ سب دیکھنے کے بعد خود کو ننھے منے کاروبار سے لے کر پاکستان کی بڑی بزنس وومین کی فہرست میں پایا مگر ابھی یہ سب تصور تھا اور اسی تصور کے ساتھ میں نے کچن کارخ کیا جیسے جیسے جھوٹے یو ٹیوبرز نے کہا ویسے ویسے  میرے ہاتھوں ترکیب چلتی رہی ،چلتی رہی۔۔۔۔بس کچھ نہ پوچھیں وہ دس منٹ نہیں پورے 2 گھنٹے لگ گئے ترکیب کیا تھی جی کہ گھر میں موجود فریش  دودہ سے جھٹ پٹ کھویا بنانے کی ترکیب جسے بس چولہے پر پکانا تھا اور کچھ نہیں ملانا تھا وہ دودہ پک کر ، کر اُبل کر، جب صرف آدھی پیالی رہ جائے گا تو کھویا تیار ھو جائے گا آنچ کم نہیں کرنی ہاتھ روکنا نہیں چمچہ گیری کرنی ھے بس مطلب چمچہ دودہ میں یوں چلانا ھے جیسے سمندر میں کشتی میں بہت سارے لوگ مل کر چپو چلاتے ہیں بس ویسے ہی یہ سب میں نے کیا اورمجھے”تندرستی ھزار نعمت ھے” والی کہانی یاد آگئی جس میں ایک سست اور کاھل آدمی کے علاج کے لئے گاؤں کا حکیم ایک خالی کمرے کو آگ کی مدد سے خوب گرم کر کے پھر ننگے پاؤں اس سست آدمی کو اس میں بند کردیتا ھے اور وہ پیروں کے جلنے پر اچھل اچھل کر پسینے میں شرابور ھو جاتا ھے پھر جب اسے باہر نکالا جاتا ھے تو اس کی سستی کاھلی دور ھو جاتی ھے اور اسے بھوک بھی خوب لگتی ھے۔ خیر جب میں نے دودہ میں چپو چلاتے پسینے میں شرابور ھونے کے بعد دیکھا کہ دودہ کافی گاڑھا ھو چکا ھے تو اسے اتار کر  روم ٹمپریچر پر ٹھنڈا کرنے چھوڑ دیا اگرچہ مجھے اب بھی doubt تھا کہ کھویا تو ایسا نہیں ھوتا مگر ترکیبب کو تو اب  follow کرنا ہی تھا نہ جب دودہ ٹھنڈا ہوا تو ایک پیالی میں نکالا تو فوراً منہ سے تان نکلی” اے قلفی قلفی قلفي ی ی کھوئے والی قلفی” اور ساتھ ھی کالی بُجھنگ  خالی پتیلی دیکھی کھویا بنانے کے چکر میں پتیلی کا چمکتا دمکتا روپ سَڑ  کے سوا (راکھ) ھو چکا تھا وہ توشکر ھے کہ دیگچی سلامت رہی کہیں احتجاجاً پھٹ نہ گئی ٹھاہ کر کے ورنہ تیار کردہ یاایجاد کردہ کھویا ھمارے منہ پر چپکنے کے بعد افریقہ کے کسی پارلر کی یاد تازہ کر دیتا۔ خیر مجھے تو اسے دیکھ کر کہیں سے بھی کھوئے کا گمان نہ ھوا جب کھا کر دیکھا تو کبھی ربڑی کا ذائقہ آرہا تھا کبھی قلفی کا سا۔بہرحال یہ اتفاقیہ یو ٹیوبی ترکیب جو بنی سو بنی آئندہ کے لئے دس منٹ کی ترکیبوں سے ہمیشہ کی توبہ کر لی اور سوچا اتنی دیر میں تو میرا ذاتی رکشہ پراجیکٹ تو آدھا مکمل ھو جانا تھا یا اپنی ترکیبوں سے ان دو گھنٹوں میں میں 2 ڈشز آرام سے بنا سکتی تھی۔اب تو جو ھونا تھا ھو گیا ۔ اس ترکیب کے آزمانے کے بعد  مجھے  بعد میں خیال آیا کیوں نہ میں ربڑی کا کاروبار شروع کر لوں آخر ربڑی بھی تو ایسے ہی تیار ہوتی ھے نا۔کیا خیال ھے آپکا قارئین کرام۔

مزاحیہ شاعری


1

عظیم شاعر فرحت عباس شاہ کا مشہور زمانہ کلام ھے جسے میں بہت معذرت کے ساتھ کچھ ردوبدل کے ساتھ پیش کر رہی ھوں اور ایڈوانس میں تمام اھل توند مگر نازک طبع لوگوں سے معذرت کرلیتی ھوں کہ اگر میرے الفاظ ان پر گراں گذرے اگرچہ میرا مقصد ہرگز کسی کی دل آزاری نہیں ھے ہاں جو اھل توند نہیں ہیں ان سے کوئی معافی نہیں ھے اور انہیں خواہ مخواہ بُرا منانا تو بالکل نہیں بنتا۔ صرف ظریفانہ طبیعت کے باعث میرے منہ پر کل سے یہ الفاظ خود بہ خود یوں اترے چلے آرہے ہیں جیسا کسی شاعر پر شاعری کی آمد آمد ہوتی ھے اگرچہ آجکل میں اپنی زندگی کے بس یوں سمجھ لیں کہ ” بُرا وقت آیا ھوا” کے تحت کچن میں مصروفیت کے سنگ گذار رہی ہوں اور اکثر میری حس ظرافت کچھ دن ڈاؤن ضرور رہتی ھے مگر وہ جو ہاک ھوگن ریسلر ھے نا اس کی طرح میں دوبارہ تازہ دم ھو کے مزید ظریفانہ طبیعت کے ساتھ رِنگ میں واپس آتی ھوں لِکھنے کی عادت مجھے ایسے ھی ھے جیسے بقول شاعر
؎چُھٹتی نہیں ھے منہ سے، یہ کافر لگی ھوئی،
تو چلیں اب آپ بھی پڑھیں کل سے کیا میرے منہ پر بار بار آرہا ھے:
؎ تونے دیکھا ھے کبھی خود کو، توند بڑھ جانے کے بعد،
کتنا بے ڈھنگا سا لگتا ھے انسان، توند بڑھ جانے کے بعد،
البتہ کم بے ڈھنگا کہ جب تک مہ جبیں ھے لا عِلم،
چھوڑ جائے گی وہ بھی تجھے،
بڑھی توند کا عِلم ہونے کے بعد،
تونے وہ وہ کھابے بیکار میں ھے کھائے،
بڑھ جائے توند، ھو جائے بے ڈھب انسان جِسے کھانے کے بعد،
شام سے پہلے وہ مست رہا اپنے کھاپے شاپے میں،
جس کے ھاتھوں میں تھا بس لوٹا خرابئ پیٹ کے بعد،
رات بیتی تو گِنے، کھائے کتنے نان و چنے؟
پھر سوچا، اچھا تو یہ تھی وجہ باعث خرابئ پیٹ شام کے بعد،
ارے تو ھے نِرا پیٹو
تجھے معلوم کہاں بھوک کا دُکھ
احساسِ ڈائیٹنگ تو ہی اب اتر اِس کے گھر شام کے بعد،
یہی سوچ کے خوب ٹھونستا ھے یہ کھانا،
کل سے کروں گا ڈائٹنگ پَکّا، شام کے بعد ۔

2

ٹِنڈ
اگر کسی کا ہیئر کٹ خراب ھو جائے تو ٹِنڈ تو پھر لازمی بنتی ھے۔گرمی بھی ٹِنڈ کروانے کی ایک بڑی وجہ ھے کبھی شرط جیتنے کے لئے بھی ٹنڈ کروالی جاتی ھے مگر سمجھ سے باہر ھے خواتین پاکستان میں سارے کے سارے فیشن آزماتی ہیں واحد ٹنڈ فیشن ھے جس پر اب تک مردوں نے قبضہ کر رکھا ھے وہ خواتین جو برابری کے حقوق کی دعویدار ہیں وہ آگے آئیں اور گنجی ٹنڈ کروا کر یہ میدان بھی مردوں سے چھین لیں ۔ گنجے ھونے کی وجہ سے ہو سکتا ھے وہ مسائل بھی حل ھو جائیں جو گرمی سے سَر میں پھنسےہوئے ہیں منیر نیازی کیا خوب کہہ گئے
؎اشک رواں کی لہر ھے اور ھم ہیں دوستو
اس پر مابدولت کی شرارتی کاروائی حاضر ھے عرض کیا ھےمگر رکئیے
(منیر نیازی اور تمام اھل گنج گراں مایہ سے پیشگی معافی کی درخواست کے ساتھ)
اب عرض کیا ھے:
؎گنجی ٹِنڈ کا عَجب سَحر ھے،اور ھم ہیں دوستو
چٹیل میدان، صَفا چَٹ ھے اور ھم ہیں دوستو
یہ اجنبی سا رَن وے اور ہائے وہ ہیئر اسٹائل
ٹھنڈے جھونکوں کا یہ کیسا اٹیک ھے اور ھم ھیں دوستو
کس قدر تیزی سے سر پہ پڑا ھے ٹھاہ کے ساتھ
برکھا رُت،ٹِنڈ، اُولے، اور ھم ہیں دوستو
پھِرتے ہیں مِثلِ اسٹیو آسٹن شہر شہر میں،
گنجی ٹِنڈ کا یہ قِہر ھے اور ھم ہیں دوستو
شامِ بالم ڈھلی تو لشکی چندھیا جیسے کوئی مِہر،
راتوں کی پِچھلا پہر ھے اور ھم ہیں دوستو
آنکھوں میں اُڑ رہی ھے اُجڑے بالوں کی دُھول
عبرت سرائے یہ ٹِنڈ ھے اور ھم ہیں دوستو

3

گدھا گاڑی
المشہور کھوتا گڈی
معزز قارئین میں نے دو تین دن پہلے دن پہلے مہنگائی کی وجہ سے ایک پوسٹ شئیر کرتے ہوئے گدھا گاڑی چلانے کی بات کی تھی مجھے نہیں معلوم تھا کہ ما بدولت کی اس بات کی تقلید عوام شروع کر دے گی۔
مجروح سلطان پوری سے معذرت کے ساتھ
؎ میں اکیلی ہی چلی تھی جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
نہیں معلوم اب “کاروانِ کھوتا گڈی”کا آخری نشانِ منزل اسٹاپ کون سا ھو گا ابھی تو ہمارے وطن میں یہ سفر شروع ھوا ھے جس کا آغاز مابدولت کے عظیم الشان الفاظ سے ھو چکا ھے۔
( ہائے خوش فہمیاں )
اب جیسا کہ پی آئی اے کے آفیسر نے دفتر آنے جانے کے لئے گدھا گاڑی کی اجازت کی درخواست اپنے متعلقہ دفتر جمع کروائی ھے کچھ منچلوں نے تفریحاً سڑکوں پر گدھا گاڑی اور گھوڑے دوڑا دیئے ہیں گویااب دورِ گدھا گاڑی شروع ھوا ھی چاہتا ھے۔غنیمت ھے اجی سب غنیمت ھے جب تک مہنگائی کا بے رحم جن اسے بھی ختم نہ کر دے کیا پتہ کل پرسوں ترسوں تک مہنگائی کا یہ حال ھو کہ لوگوں کے لئے گدھا رکھنا بھی محال ھو جائے اور سب جدید ٹیکنالوجی سے خود کو لیس کرتے ھوئے گدھے کی بجائے گدھا گاڑی میں خود ہی فٹ نہ ھو جائیں جی ھاں ایسا ھی ھے غریب عوام کا حال۔
تمام منحوس قسم کی پابندیاں عوام پر ہی بجلی بنا کر گرائی جاتی ہیں اور خواص تو ان حالات میں بھی کاروں جہازوں، چاند گاڑیوں، راکٹوں و ہیلی کاپٹروں سے ہی نیچے نہیں آتے ادھر دوسری طرف پیٹرول کا درآمدی بل کم کرنے کیلئے حکومت نے کورونا لاک ڈاؤن جیسے اقدامات پر غور شروع کر دیا ھے جبکہ سرکاری ذرائع کے مطابق کئی تجاویز زیر غور ہیں، جن میں کورونا کے دنوں میں لاک ڈاؤن جیسے اقدامات، ہفتے کو سرکاری دفاتر میں چھٹی، 3 دن ورک فرام ہوم اور اتوار کو شہروں میں کاروں کے داخلے پر پابندی کی تجاویز شامل ہیں۔ جبکہ خواجہ آصف نے جمعے کی آدھی چھٹی کی تجویز بھی دے ڈالی ھے یہی حال رہا تو یہ بھی ھو سکتا ھے “لوگوں کا صرف ایک دن باہر نکلنا ھو” جیسی کوئی تجویز نہ رکھ دی جائے اور اس کے بعداگلا قدم یہ نہ ھو کہ گھروں پر عوام کو نظر بند کر دیا جائے۔
مفتاح اسمعیل وزیر خزانہ ہیں نا؟ویسے کونسا خزانہ؟ خزانہ تو حسب معمول ہر حکومت کا رٹو طوطے والا جواب “خالی ھے عوام پُر کریں” ہے ۔
مفتاح اسمعیل نے مہنگائی بھگاؤ کے فارمولے بنانےپر غور فرماتے فرماتے یہ بھی فرما دیا کہ” پٹرول کی قیمت میں دو بار اضافہ کرنے کے بعد اقتصادی بحران سے نکل آئے ہیں۔” اچھا مذاق کیا ھے مفتاح اسمعیل صاحب ایسے ھی دو چار بار اور پٹرول مہنگا ھوا تو عوام اپنی موت آپ مر جائے گی سوچ لیں آپ کے باقی ماندہ مہنگائی کےبوجھ کو کون ڈھوئےگا۔ نہ رھے گی عوام نہ ھو گی بار بار مہنگائی۔
90 کی دھائی تک پی ٹی وی سے کرکٹ ون ڈے اور ٹیسٹ میچز کے کھانے کے وقفے دوران یا نشریاتی رابطہ منقطع ہونے پر بھی 4,5 گیت یا غزلیں نشر ہوتی تھیں جن میں اکثر نور جہاں، نیرہ نور ،مہدی حسن، ناہید اختر شہکی، طاہرہ سید ،مسرت نذیر کے گانوں یاغزلوں کو نشر کیا جاتا تھا۔ ادھر نشریاتی رابطہ بحال ھوا نہیں کہ گانا یا غزل اچانک بیچ میں روک کے کرکٹ کے میدان کا درشن کروایا جاتا تھا جھاں “ویلکم بیک” کی آواز کان میں پڑتی اور موسیقی کا سارا مزا ہی کرکرا ہو جاتا تھا۔مسرت نذیر کی غزل اتنی بار نشر ھوئی کہ ھم نے زبانی ھی یاد کر لی تھی
؎چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آئستہ آئستہ
یہ مصطفے زیدی کی غزل ھے وہ مصطفی زیدی جن کا کراچی میں غالباً قتل ھوا تھا اور اس قتل کی خبر کا تذکرہ پہلی بار ھم نے والدہ سے سنا تھا بے فکری لا ابالی کا زمانہ تھا تو یہ خبر یاداشت سے محو ھوتی گئی پھر مصطفی زیدی کا تذکرہ ھمارےایک محترم ٹیچر نے بھی دوران لیکچرکیاتھا وہ قصہ سننا تھا ھمارے لئے مصطفی زیدی کی شخصیت ابھی تک ایک پراسرار ہستی ھے میری یاداشت میں پراسرار سی شخصیت میں پہلا نمبراب بھی عظیم شخصیت رئیس امروھوی کا ھے جوجون ایلیا کے بڑے بھائی ہیں ان شخصیتوں کے حوالے سے تفصیل تو پھر کبھی بیان ھو گی مگر ابھی تو آپ “چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر” کا ما بدولت کا ری ِمکس کلام پڑھیں اور حکومت کو اکیس۔۔۔۔۔کی سلامی دیں۔
(خالی جگہ خود پر کرلیں معززقارئین)۔
؎چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر، آئستہ آئستہ
ہم روز دفتر آتے جاتے ہیں مگر،
آئستہ آئستہ
ابھی کھوتے سے کھیلوں، اس کی سواری کا لطف اٹھا لوں،
غور کرنےپر ملے گی کسی چہرے کی جھلک،
آئستہ آئستہ،
مہنگائی تو دیکھو،سیاست دانوں کے راز تو سمجھو،
اٹھیں گے پردہ ہائے کرپشن مال و زَر،
آئستہ آئستہ،
ارےسن بڈھے ٹھرکی مِنسٹر،
اپنی بے ایمانی کا قصہ بھی سنا دینا،
بمع
پوپلا منہ خطاب آئستہ آئستہ، دھندلی نظر
آئستہ آئستہ۔

15.06.22 نمبر 4 پوسٹ الیکشن
قارئین کرام ایک مرتبہ پھر الیکشن کا تذکرہ زبان زد عام ھے کب ھونا ھے اس کا فیصلہ ھونا باقی ھے ۔سب سے دلچسپ چیز الیکشن میں تجویز کردہ انتخابی نشان ھوتا ہےاور خاص طور پر علاقائی سطح کے الیکشن میں انفرادی حیثیت میں ایک فرد کو نشان دیا   جاتا ھے وہ بہت شاندار ہو تاھے مثلاً “قطب الدین انتخابی نشان لال ٹین”  حلقہ نمبر فلاں فلاں کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں کسی کو  انتخابی نشان بجلی کا کھمبا،کسی کو سیب،کسی کو قلم کسی کو بالٹی،اسی طرح ترازو،ٹرک،ریل ، پنکھا، لڈو یا برفی، سیاھی،دوات، لاٹھی،عینک،گلاس جگ،کرسی،لٹو، چارپائی،میز اور سیڑھی وغیرہ کے نشانات  شامل ہوتے ہیں اب مثلاً سیڑھی کا نامزد کردہ شخص عوام سے کہتا ھے “اپنے ووٹ کی مہر سیڑھی پر ہی لگائیں اور سیڑھی کو کامیاب بنائیں”بھلا سیڑھی کو کامیاب کیسے بنائیں وہ تو خود کامیابی عطا کرتی ھے کہتے ہیں ھے نا کہ کامیابی کی سیڑھی چڑھتے جاؤ اُ دھر دوسری طرف قطب الدین لال ٹین والے کہتے ہیں کہ ووٹ صرف لال ٹین کا کیونکہ لال ٹین ھی آپ کے مسائل کا حل ھے اور ساتھ مارکیٹ کے عین بیچوں بیچ ایک بڑی سی لال ٹین بھی لٹکا دی  اب بھلا لال ٹین کیا مسئلے حل کرے گی  وہ تو خود ایک بہت بڑا مسئلہ ھے جب بھی جَلانے لگو تو۔ اسی طرح اب کرسی کو کیا کامیاب بنائیں کامیاب تو خود کرسی پر بیٹھتا ھے کرسیوں پر تو جنگیں ھو جاتی ہیں اور الیکشن ہو یا سیلیکشن یہ تو ھے  ھی اصل میں کرسی کی جنگ ۔   سیب، گلاس،جگ یا  بالٹی کا نشان اس لئے بہتر ھے کہ اس نے اپنے ہر ووٹر کو ایک ایک سیب اور گلاس یا جگ بانٹا ووٹ دینے کے بعد . لڈو برفی کے نشان بھی ٹھیک ہیں ویسے بھی کامیابی کے بعد فاتح ہوں یا ھارے کھلاڑی ،جواری  سب مٹھائی پر ٹوٹ پڑتے ہیں ھاں وہ مشکل میں جنہیں ریل ،کھمبا، ٹرک وغیرہ کے نشان ملے شکرھے کہ چھری ،خنجر بندوق یا پستول کا نشان سننے میں نہیں آیا، اب تک شاید کسی کو نہیں ملا، اچھا ہی ھے ورنہ اس کا آزادانہ استمعال ووٹر شوٹر اور لوٹَر سب کے لئے نقصان دہ ھو سکتا تھا۔
یہ ھیں کچھ بیتے وقت میں ھوئے بلدیاتی  الیکشنوں  میں سے کچھ کا ذکر ۔
مُلک میں پچھلے سال گدھوں کی تعداد 56 لاکھ تھی جو کہ اس سال  سنئہ 2022 میں بڑھ کے 57 لاکھ ہو گئی ھے ایک لاکھ گدھوں کا اضافہ کوئی معمولی بات نہیں ھے جبکہ خچر گھوڑے اونٹ اب بھی گدھوں سے تعداد میں کہیں  پیچھے ہیں گدھوں نے ایکبار پھر ترقی کی فہرست میں اپنا  نمایاں نام ومقام بنا لیا ھے
ایک ضروری اعلان:
  جو اپنا نام اس ترقی کی لسٹ میں شامل کرنا چاھیں اسے میری طرف سے عام اجازت ھے علیحدہ سے اجازت مانگ کر وقت ضائع نہ کریں 
اعلان ختم
تو گدھوں کی ترقی کی رفتار دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو میری مؤدبانہ معصومانہ درخواست ھے کہ ووٹرز کے لئے اس بار انتخابی نشان گدھا بھی شامل کر لیا جائے۔
گدھے کی شان بھی بڑھ جائے گی اس کی عزت وحوصلہ افزائی کی ابتداء کی داغ بیل بھی پڑجائے گی۔
اب ملک بھر میں الیکشن کا شور اٹھنا شروع ھوا ھے۔
پی ٹی وی سے ہی 80-90 کی دھائی میں ایک غزل اکثر نشر ھوتی تھی
ھم تم ھونگے جنگل ھو گا اس کا ری مکس پیش خدمت ھے۔
؎ سنا ھے اک دن آخر ھو گا،
سیلیکشن کہ الیکشن ھو گا؟
ہاں،
ہم تم ھونگے
الیکشن دنگل ھو گا،
رقص میں سارا جنگل ھو گا،
آئی ایم ایف کی شرطیں،
اور اتنی بھاری،
شاید مُلک پھر
فہرستِ ڈیفالٹ نہ ھو گا
رقص میں ساراجنگل ھو گا
ھم تم ھونگے ،
قید کیا ھے، قرضوں نے ھم کو،
ان سب سے وطن پھر آزاد ھو گا؟
خواب تو سب کا آخر ھو گا،
رقص میں سارا جنگل ھو گا،
بجٹ بنا کے، اور، مہنگائی کرنے والو،
غریب اب کیا سیٹل ھو گا،
پھر بھی الیکشن دنگل ھو گا ،
ہم تم ھونگے
الیکشن ھو گا
ورنہ کوئی سیلیکشن ھو گا،
رقص میں ساراجنگل ھو گا۔
ختم شد

الیکشن
قارئین کرام ایک مرتبہ پھر الیکشن کا تذکرہ زبان زد عام ھے کب ھونا ھے اس کا فیصلہ ھونا باقی ھے ۔سب سے دلچسپ چیز الیکشن میں تجویز کردہ انتخابی نشان ھوتا ہےاور خاص طور پر علاقائی سطح کے الیکشن میں انفرادی حیثیت میں ایک فرد کو نشان دیا   جاتا ھے وہ بہت شاندار ہو تاھے مثلاً “قطب الدین انتخابی نشان لال ٹین”  حلقہ نمبر فلاں فلاں کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں کسی کو  انتخابی نشان بجلی کا کھمبا،کسی کو سیب،کسی کو قلم کسی کو بالٹی،اسی طرح ترازو،ٹرک،ریل ، پنکھا، لڈو یا برفی، سیاھی،دوات، لاٹھی،عینک،گلاس جگ،کرسی،لٹو، چارپائی،میز اور سیڑھی وغیرہ کے نشانات  شامل ہوتے ہیں اب مثلاً سیڑھی کا نامزد کردہ شخص عوام سے کہتا ھے “اپنے ووٹ کی مہر سیڑھی پر ہی لگائیں اور سیڑھی کو کامیاب بنائیں”بھلا سیڑھی کو کامیاب کیسے بنائیں وہ تو خود کامیابی عطا کرتی ھے کہتے ہیں ھے نا کہ کامیابی کی سیڑھی چڑھتے جاؤ اُ دھر دوسری طرف قطب الدین لال ٹین والے کہتے ہیں کہ ووٹ صرف لال ٹین کا کیونکہ لال ٹین ھی آپ کے مسائل کا حل ھے اور ساتھ مارکیٹ کے عین بیچوں بیچ ایک بڑی سی لال ٹین بھی لٹکا دی  اب بھلا لال ٹین کیا مسئلے حل کرے گی  وہ تو خود ایک بہت بڑا مسئلہ ھے جب بھی جَلانے لگو تو۔ اسی طرح اب کرسی کو کیا کامیاب بنائیں کامیاب تو خود کرسی پر بیٹھتا ھے کرسیوں پر تو جنگیں ھو جاتی ہیں اور الیکشن ہو یا سیلیکشن یہ تو ھے  ھی اصل میں کرسی کی جنگ ۔   سیب، گلاس،جگ یا  بالٹی کا نشان اس لئے بہتر ھے کہ اس نے اپنے ہر ووٹر کو ایک ایک سیب اور گلاس یا جگ بانٹا ووٹ دینے کے بعد . لڈو برفی کے نشان بھی ٹھیک ہیں ویسے بھی کامیابی کے بعد فاتح ہوں یا ھارے کھلاڑی ،جواری  سب مٹھائی پر ٹوٹ پڑتے ہیں ھاں وہ مشکل میں جنہیں ریل ،کھمبا، ٹرک وغیرہ کے نشان ملے شکرھے کہ چھری ،خنجر بندوق یا پستول کا نشان سننے میں نہیں آیا، اب تک شاید کسی کو نہیں ملا، اچھا ہی ھے ورنہ اس کا آزادانہ استمعال ووٹر شوٹر اور لوٹَر سب کے لئے نقصان دہ ھو سکتا تھا۔
یہ ھیں کچھ بیتے وقت میں ھوئے بلدیاتی  الیکشنوں  میں سے کچھ کا ذکر ۔
مُلک میں پچھلے سال گدھوں کی تعداد 56 لاکھ تھی جو کہ اس سال  سنئہ 2022 میں بڑھ کے 57 لاکھ ہو گئی ھے ایک لاکھ گدھوں کا اضافہ کوئی معمولی بات نہیں ھے جبکہ خچر گھوڑے اونٹ اب بھی گدھوں سے تعداد میں کہیں  پیچھے ہیں گدھوں نے ایکبار پھر ترقی کی فہرست میں اپنا  نمایاں نام ومقام بنا لیا ھے
ایک ضروری اعلان:
  جو اپنا نام اس ترقی کی لسٹ میں شامل کرنا چاھیں اسے میری طرف سے عام اجازت ھے علیحدہ سے اجازت مانگ کر وقت ضائع نہ کریں 
اعلان ختم
تو گدھوں کی ترقی کی رفتار دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو میری مؤدبانہ معصومانہ درخواست ھے کہ ووٹرز کے لئے اس بار انتخابی نشان گدھا بھی شامل کر لیا جائے۔
گدھے کی شان بھی بڑھ جائے گی اس کی عزت وحوصلہ افزائی کی ابتداء کی داغ بیل بھی پڑجائے گی۔
اب ملک بھر میں الیکشن کا شور اٹھنا شروع ھوا ھے۔
پی ٹی وی سے ہی 80-90 کی دھائی میں ایک غزل اکثر نشر ھوتی تھی
ھم تم ھونگے جنگل ھو گا اس کا ری مکس پیش خدمت ھے۔
؎ سنا ھے اک دن آخر ھو گا،
سیلیکشن کہ الیکشن ھو گا؟
ہاں،
ہم تم ھونگے
الیکشن دنگل ھو گا،
رقص میں سارا جنگل ھو گا،
آئی ایم ایف کی شرطیں،
اور اتنی بھاری،
شاید مُلک پھر
فہرستِ ڈیفالٹ نہ ھو گا
رقص میں ساراجنگل ھو گا
ھم تم ھونگے ،
قید کیا ھے، قرضوں نے ھم کو،
ان سب سے وطن پھر آزاد ھو گا؟
خواب تو سب کا آخر ھو گا،
رقص میں سارا جنگل ھو گا،
بجٹ بنا کے، اور، مہنگائی کرنے والو،
غریب اب کیا سیٹل ھو گا،
پھر بھی الیکشن دنگل ھو گا ،
ہم تم ھونگے
الیکشن ھو گا
ورنہ کوئی سیلیکشن ھو گا،
رقص میں ساراجنگل ھو گا۔
ختم شد

الیکشن
قارئین کرام ایک مرتبہ پھر الیکشن کا تذکرہ زبان زد عام ھے کب ھونا ھے اس کا فیصلہ ھونا باقی ھے ۔سب سے دلچسپ چیز الیکشن میں تجویز کردہ انتخابی نشان ھوتا ہےاور خاص طور پر علاقائی سطح کے الیکشن میں انفرادی حیثیت میں ایک فرد کو نشان دیا   جاتا ھے وہ بہت شاندار ہو تاھے مثلاً “قطب الدین انتخابی نشان لال ٹین”  حلقہ نمبر فلاں فلاں کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں کسی کو  انتخابی نشان بجلی کا کھمبا،کسی کو سیب،کسی کو قلم کسی کو بالٹی،اسی طرح ترازو،ٹرک،ریل ، پنکھا، لڈو یا برفی، سیاھی،دوات، لاٹھی،عینک،گلاس جگ،کرسی،لٹو، چارپائی،میز اور سیڑھی وغیرہ کے نشانات  شامل ہوتے ہیں اب مثلاً سیڑھی کا نامزد کردہ شخص عوام سے کہتا ھے “اپنے ووٹ کی مہر سیڑھی پر ہی لگائیں اور سیڑھی کو کامیاب بنائیں”بھلا سیڑھی کو کامیاب کیسے بنائیں وہ تو خود کامیابی عطا کرتی ھے کہتے ہیں ھے نا کہ کامیابی کی سیڑھی چڑھتے جاؤ اُ دھر دوسری طرف قطب الدین لال ٹین والے کہتے ہیں کہ ووٹ صرف لال ٹین کا کیونکہ لال ٹین ھی آپ کے مسائل کا حل ھے اور ساتھ مارکیٹ کے عین بیچوں بیچ ایک بڑی سی لال ٹین بھی لٹکا دی  اب بھلا لال ٹین کیا مسئلے حل کرے گی  وہ تو خود ایک بہت بڑا مسئلہ ھے جب بھی جَلانے لگو تو۔ اسی طرح اب کرسی کو کیا کامیاب بنائیں کامیاب تو خود کرسی پر بیٹھتا ھے کرسیوں پر تو جنگیں ھو جاتی ہیں اور الیکشن ہو یا سیلیکشن یہ تو ھے  ھی اصل میں کرسی کی جنگ ۔   سیب، گلاس،جگ یا  بالٹی کا نشان اس لئے بہتر ھے کہ اس نے اپنے ہر ووٹر کو ایک ایک سیب اور گلاس یا جگ بانٹا ووٹ دینے کے بعد . لڈو برفی کے نشان بھی ٹھیک ہیں ویسے بھی کامیابی کے بعد فاتح ہوں یا ھارے کھلاڑی ،جواری  سب مٹھائی پر ٹوٹ پڑتے ہیں ھاں وہ مشکل میں جنہیں ریل ،کھمبا، ٹرک وغیرہ کے نشان ملے شکرھے کہ چھری ،خنجر بندوق یا پستول کا نشان سننے میں نہیں آیا، اب تک شاید کسی کو نہیں ملا، اچھا ہی ھے ورنہ اس کا آزادانہ استمعال ووٹر شوٹر اور لوٹَر سب کے لئے نقصان دہ ھو سکتا تھا۔
یہ ھیں کچھ بیتے وقت میں ھوئے بلدیاتی  الیکشنوں  میں سے کچھ کا ذکر ۔
مُلک میں پچھلے سال گدھوں کی تعداد 56 لاکھ تھی جو کہ اس سال  سنئہ 2022 میں بڑھ کے 57 لاکھ ہو گئی ھے ایک لاکھ گدھوں کا اضافہ کوئی معمولی بات نہیں ھے جبکہ خچر گھوڑے اونٹ اب بھی گدھوں سے تعداد میں کہیں  پیچھے ہیں گدھوں نے ایکبار پھر ترقی کی فہرست میں اپنا  نمایاں نام ومقام بنا لیا ھے
ایک ضروری اعلان:
  جو اپنا نام اس ترقی کی لسٹ میں شامل کرنا چاھیں اسے میری طرف سے عام اجازت ھے علیحدہ سے اجازت مانگ کر وقت ضائع نہ کریں 
اعلان ختم
تو گدھوں کی ترقی کی رفتار دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو میری مؤدبانہ معصومانہ درخواست ھے کہ ووٹرز کے لئے اس بار انتخابی نشان گدھا بھی شامل کر لیا جائے۔
گدھے کی شان بھی بڑھ جائے گی اس کی عزت وحوصلہ افزائی کی ابتداء کی داغ بیل بھی پڑجائے گی۔
اب ملک بھر میں الیکشن کا شور اٹھنا شروع ھوا ھے۔
پی ٹی وی سے ہی 80-90 کی دھائی میں ایک غزل اکثر نشر ھوتی تھی
ھم تم ھونگے جنگل ھو گا اس کا ری مکس پیش خدمت ھے۔
؎ سنا ھے اک دن آخر ھو گا،
سیلیکشن کہ الیکشن ھو گا؟
ہاں،
ہم تم ھونگے
الیکشن دنگل ھو گا،
رقص میں سارا جنگل ھو گا،
آئی ایم ایف کی شرطیں،
اور اتنی بھاری،
شاید مُلک پھر
فہرستِ ڈیفالٹ نہ ھو گا
رقص میں ساراجنگل ھو گا
ھم تم ھونگے ،
قید کیا ھے، قرضوں نے ھم کو،
ان سب سے وطن پھر آزاد ھو گا؟
خواب تو سب کا آخر ھو گا،
رقص میں سارا جنگل ھو گا،
بجٹ بنا کے، اور، مہنگائی کرنے والو،
غریب اب کیا سیٹل ھو گا،
پھر بھی الیکشن دنگل ھو گا ،
ہم تم ھونگے
الیکشن ھو گا
ورنہ کوئی سیلیکشن ھو گا،
رقص میں ساراجنگل ھو گا۔
ختم شد

الیکشن
قارئین کرام ایک مرتبہ پھر الیکشن کا تذکرہ زبان زد عام ھے کب ھونا ھے اس کا فیصلہ ھونا باقی ھے ۔سب سے دلچسپ چیز الیکشن میں تجویز کردہ انتخابی نشان ھوتا ہےاور خاص طور پر علاقائی سطح کے الیکشن میں انفرادی حیثیت میں ایک فرد کو نشان دیا   جاتا ھے وہ بہت شاندار ہو تاھے مثلاً “قطب الدین انتخابی نشان لال ٹین”  حلقہ نمبر فلاں فلاں کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں کسی کو  انتخابی نشان بجلی کا کھمبا،کسی کو سیب،کسی کو قلم کسی کو بالٹی،اسی طرح ترازو،ٹرک،ریل ، پنکھا، لڈو یا برفی، سیاھی،دوات، لاٹھی،عینک،گلاس جگ،کرسی،لٹو، چارپائی،میز اور سیڑھی وغیرہ کے نشانات  شامل ہوتے ہیں اب مثلاً سیڑھی کا نامزد کردہ شخص عوام سے کہتا ھے “اپنے ووٹ کی مہر سیڑھی پر ہی لگائیں اور سیڑھی کو کامیاب بنائیں”بھلا سیڑھی کو کامیاب کیسے بنائیں وہ تو خود کامیابی عطا کرتی ھے کہتے ہیں ھے نا کہ کامیابی کی سیڑھی چڑھتے جاؤ اُ دھر دوسری طرف قطب الدین لال ٹین والے کہتے ہیں کہ ووٹ صرف لال ٹین کا کیونکہ لال ٹین ھی آپ کے مسائل کا حل ھے اور ساتھ مارکیٹ کے عین بیچوں بیچ ایک بڑی سی لال ٹین بھی لٹکا دی  اب بھلا لال ٹین کیا مسئلے حل کرے گی  وہ تو خود ایک بہت بڑا مسئلہ ھے جب بھی جَلانے لگو تو۔ اسی طرح اب کرسی کو کیا کامیاب بنائیں کامیاب تو خود کرسی پر بیٹھتا ھے کرسیوں پر تو جنگیں ھو جاتی ہیں اور الیکشن ہو یا سیلیکشن یہ تو ھے  ھی اصل میں کرسی کی جنگ ۔   سیب، گلاس،جگ یا  بالٹی کا نشان اس لئے بہتر ھے کہ اس نے اپنے ہر ووٹر کو ایک ایک سیب اور گلاس یا جگ بانٹا ووٹ دینے کے بعد . لڈو برفی کے نشان بھی ٹھیک ہیں ویسے بھی کامیابی کے بعد فاتح ہوں یا ھارے کھلاڑی ،جواری  سب مٹھائی پر ٹوٹ پڑتے ہیں ھاں وہ مشکل میں جنہیں ریل ،کھمبا، ٹرک وغیرہ کے نشان ملے شکرھے کہ چھری ،خنجر بندوق یا پستول کا نشان سننے میں نہیں آیا، اب تک شاید کسی کو نہیں ملا، اچھا ہی ھے ورنہ اس کا آزادانہ استمعال ووٹر شوٹر اور لوٹَر سب کے لئے نقصان دہ ھو سکتا تھا۔
یہ ھیں کچھ بیتے وقت میں ھوئے بلدیاتی  الیکشنوں  میں سے کچھ کا ذکر ۔
مُلک میں پچھلے سال گدھوں کی تعداد 56 لاکھ تھی جو کہ اس سال  سنئہ 2022 میں بڑھ کے 57 لاکھ ہو گئی ھے ایک لاکھ گدھوں کا اضافہ کوئی معمولی بات نہیں ھے جبکہ خچر گھوڑے اونٹ اب بھی گدھوں سے تعداد میں کہیں  پیچھے ہیں گدھوں نے ایکبار پھر ترقی کی فہرست میں اپنا  نمایاں نام ومقام بنا لیا ھے
ایک ضروری اعلان:
  جو اپنا نام اس ترقی کی لسٹ میں شامل کرنا چاھیں اسے میری طرف سے عام اجازت ھے علیحدہ سے اجازت مانگ کر وقت ضائع نہ کریں 
اعلان ختم
تو گدھوں کی ترقی کی رفتار دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو میری مؤدبانہ معصومانہ درخواست ھے کہ ووٹرز کے لئے اس بار انتخابی نشان گدھا بھی شامل کر لیا جائے۔
گدھے کی شان بھی بڑھ جائے گی اس کی عزت وحوصلہ افزائی کی ابتداء کی داغ بیل بھی پڑجائے گی۔
اب ملک بھر میں الیکشن کا شور اٹھنا شروع ھوا ھے۔
پی ٹی وی سے ہی 80-90 کی دھائی میں ایک غزل اکثر نشر ھوتی تھی
ھم تم ھونگے جنگل ھو گا اس کا ری مکس پیش خدمت ھے۔
؎ سنا ھے اک دن آخر ھو گا،
سیلیکشن کہ الیکشن ھو گا؟
ہاں،
ہم تم ھونگے
الیکشن دنگل ھو گا،
رقص میں سارا جنگل ھو گا،
آئی ایم ایف کی شرطیں،
اور اتنی بھاری،
شاید مُلک پھر
فہرستِ ڈیفالٹ نہ ھو گا
رقص میں ساراجنگل ھو گا
ھم تم ھونگے ،
قید کیا ھے، قرضوں نے ھم کو،
ان سب سے وطن پھر آزاد ھو گا؟
خواب تو سب کا آخر ھو گا،
رقص میں سارا جنگل ھو گا،
بجٹ بنا کے، اور، مہنگائی کرنے والو،
غریب اب کیا سیٹل ھو گا،
پھر بھی الیکشن دنگل ھو گا ،
ہم تم ھونگے
الیکشن ھو گا
ورنہ کوئی سیلیکشن ھو گا،
رقص میں ساراجنگل ھو گا۔
ختم شد

میمز


Memes
میمز کا ھے زمانہ

قارئین کرام!
زمانہ بہت ہی تیزی سے بدل رہا ھے جس کااثر ہر شعبے میں بار بار پڑ رہا ھےبالخصوص
(technology) ٹیکنالوجی کے حوالے سے تو کیا ہی کہنے سب چیزیں ہی جدت کی جانب رواں دواں ہیں پرانا تو بس انسان ہی رہ گیا ھے جونِت نئے فیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے سنگ خود کو ڈھال کر جدید بننے جا رہا ھے اب یہ ہی دیکھ لیں کوئی سال پہلے لانچ ہونے والا موبائل ہو یا ابھی ہفتہ بھر پہلے مارکیٹ کی رونق بننے والے نیا موبائل۔ آپشنز کے
اعتبارسے ایسا لگتا کہ جیسے 10,20 سالوں کا فرق پڑ گیا ھے اگر ترقی کی یہی رفتار رہی تو بہت جلد وقت آنیولا ھے جدید ٹیکنالوجی کی عُمر اِن چکروں میں صرف ایک ھفتہ ہی رہ جانی ھے۔یا پھر گلی گلی آواز سننے کو ملے گے جیسے سُنتے ہیں:
؎ پانڈے قلعی کرالوؤ
پرانے نویں بنا لوؤ
بس پانڈے(برتنوں کی جگہ) “موبیل نویں کرالوؤ” کی صدائیں ھوا کریں گی۔(میری مستقبل کے حوالے سے اِک ٹھنڈی پیشن گوئی) انسانی نفسیات میں ہر ایک انسان کے مزاح کا لیول کسی دوسرے انسان سے مختلف، کم یا زیادہ ھو سکتا ھے۔مزاح کسی بھی صورت میں ہو بس اگر سمجھنے والی رگِ ظرافت انسان کی عقل شریف میں پائی جاتی ھو تو طبیعت " گارڈن گارڈن" ہو جاتی ھےاور بندہ اگر کراچی میں ھو تو اس " گارڈن"طبیعت کے ساتھ گاندھی گارڈن نکل جاتا ھے۔

ایک اچھا مزاح انسان کی طبیعت میں شگفتگی اور ترو تازگی پیدا کرتا ھےـ
آج کے دور میں مزاحیہ memes مقبول عام ہیں ھم کہہ سکتے ہیں مزاح کی جدید شکل memes ہی ہیں اب پاکستان میں تو ویسے بھی کتاب پڑھنے کا رواج کم ہی تھا جو مزید کم ھوتا جا رہا ھے تو ان میں مزاح بھی شمار ھے ۔جبکہ میمز انکی جگہ لیتی جا رہیں اور یہ آجکل پوری دنیا میں مقبول ہیں۔ مُستقل بنیادوں پر اس پر کام کرنا بلاشبہ ایک اچھا آئیڈیا ھے۔ میں بھی کبھی کبھی memes بنانے کی کوشش تو کرتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ ا سں میں کچھ بھی ھو، چاھے ذرا سا بھی ھو بس کچھ نیا سا ھو۔ میمز انگلش کی ھوں یا اردو میں بنی یقین کریں ان میں پنجابی زبان کا تَڑکہ ان کو اک نئی زندگی بخشتا ھے اور اپنی قومی زبان میں میمز سے محظوظ ھونے کا الگ ھی مزا ھے کیونکہ مذاق کے جس لیول کو memes میں ھم اپنے مُعاشرتی کلچر کے بیک گراؤنڈ میں جس حِساب سے پیش کر سکتے ہیں اس کاسَواد “انگریزی ٹَچ” میں نہیں۔
بے شک آپ میری اس بات سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر پھر اس کی وضاحت کے لئے thesis کی طرح causes بھی بتانا ھوں گی۔
میں نے آج ایک میم بنائی ھے سعدیہ عرف half memer امید ھے آپ سب پڑھنے،دیکھنے والوں کو یہ کام پسند آئے گا اور اگر۔۔۔۔ نہ بھی پسند آیا تو مجھے کیا۔ھا ھا ھا.

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا جھوٹ پر مبنی پھیکا بیان:
پاکستان میں معیشت درست سمت میں ہے۔
میں یہ جھوٹی خبر سننے کے بعد:
پاکستانی قوم حکومت کے نِت نئے ٹیکسز کے تجربات اور مہنگائی کے ہاتھوں دم توڑنے کے بعد، ممی کی شکل غور سے دیکھیں وہ سوال کرتا نظر آرہا ھے کیا نیا پاکستان بن گیا؟ مہنگائی ختم ہو گئ؟
پاکستانی حکومت کا مذبح خانہ
عوام پِٹرول کم استمعال کریں۔
وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز۔اور پھر عوام شبلی مِنسٹر کو یہ والی👎 شاباش دیتے ہوئے:
سعدیہ اُڑن کھٹولا بوٹ پیش خدمت ھے۔ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان عوام کے لئے یہ سروس ابھی صرف کراچی میں شروع کی گئی ھے عوام کا تعاون رہا تو ملک کے دوسرے شہروں میں بھی جلد اس کا آغاز ہو گا۔ اب پِٹرول بس ختم ٹا ٹا بائے بائے گیا۔
سمندری پانی اور ھوا کی ھوائی ٹیکنالوجی سے اِک سستی سروس کا آغاز پٹرول کے بغیر ہی ۔
عامر لیاقت کی وجہ سے آسٹریلیا کے جنگلات میں لگی آگ سے نکل کر واحد بچ جانے والا شخص اخباری نمائندوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے

تمام شادی شدہ افراد کا مستقبل جب وہ ریٹائر ہونے کے بعد فِری زندگی گذاریں گے اور ان کا واحد ہتھیار ڈنڈا (لاٹھی) ہو گا 😄

عوام کی کہانی، میری زبانی


قارئینِ کرام!
بیمار پڑجانا بھی بندے کے حق میں ایک رحمت ھے  اس سے  انسان کے گُناہ جَھڑ جاتے ہیں مگر اس کے باوجود اس کا بار(بوجھ) کوئی بھی خوشی خوشی نہیں اٹھاتا۔ چونکہ میں بھی ابھی تک تو انسانوں میں  ہی شمار ھوں آگے کا پتہ نہیں ہا ہا ہا۔پچھلے پانچ چھہ دن سے  بخار، سردی لگنااور جسمانی درد نے بے حال کر رکھا تھا حالانکہ کورونا وغیرہ تو نہیں ھے ویسے بھی کورونا ویکسین تو مکمل ھے میری۔
  اب خدا کا شکر ھے کافی بہتری ھے۔بخار کے باعث بستر پر پڑے پڑے اِک شام  ایک سوچ آئی اور میں خود ہی ہنستے چلی گئی شکرھےکہ کسی نے دیکھا نہیں ورنہ یہی سوچتے کہ بخار  کا اثر شایددماغ پر ہو گیا ھے خیر  “جب تک سانس تب تک آس ” کی طرح میری تحریریں آپ سب تک پہنچتی رہیں گی ۔اور جس سوچ کو لئے میں ہنسی اور جس نتیجے پر پہنچی اس ہی سوچ کو پوسٹ پر آگے بڑھاتے ہیں۔
بچپن میں بڑوں سے جو کہانیاں سنتے تھے ان میں (کچھ ایڈیٹ ھے)  ایک کہانی یوں تھی کہ ایک بادشاہ کی سات مَلکائیں تھیں مگر کسی سے اولاد نہیں تھی پھر کسی  نے بادشاہ کو ایک بزرگ کا بتایا انہوں نے بادشاہ کو سات لڈو  دیئے کہ ہر ملکہ ایک لڈو کھا لے تو اللہ انہیں اولاد دیں گے اب چھہ ملکاؤں نے تو فوراً لڈو کھا لئے مگر سب سے چھوٹی ساتویں ملکہ کسی وجہ سے فوری طور پر لڈو نہ کھا سکی اور اس کا آدھا لڈو کھڑکی کود کر ایک نیولا آکر کھا جاتا ھے اور جَھٹ واپس بھی چلا جاتا ھے پھر چھوٹی ملکہ کی نظر اس آدھے لڈو پر پڑتی ھے اور وہ اپنی قسمت کا سمجھ کر وہ آدھا لڈو کھا لیتی ھے اب چھہ ملکاؤں کو اللہ بیٹے سے نوازتا ھے جبکہ چھوٹی ساتویں ملکہ کے ہاں آدھے نیولے اور آدھے انسان جیسا بیٹا پیدا ہوتا ھے۔ادھ پَجَد ھونے کی وجہ سے باقی ملکائیں اور شہزادے اس نیولے نما سے امتیازی سلوک کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے مگر بادشاہ اور چھوٹی ملکہ اسے اپنی قسمت کا سمجھ کر شاکر رہتےہیں اور یوں ہی وقت گذرتا رہتا ھے کہ بادشاہ بہت بوڑھا ہو جاتا ھے اور چاہتا ھے میں بادشاہت اور تخت اس شہزادے کے حوالے کروں جو سب سے عقل مند ھو سب مَلکاؤں کی خواہش ہوتی ھے کہ ان کے بیٹا ہی تخت کا وارث بنے جبکہ  سب سےچھوٹی مَلکہ اس دوڑ سے خود کو باہر محسوس کرتی ھے جبکہ نیولا نما شہزادہ جو کہ کافی عقلمند بھی ہوتا ھے اپنی ماں کی ڈھارس بندھاتا ھے  پھر اپنی قسمت آزمائی کے لئے کسی دوسرے شہر جاتا ھے اور  وہ کوئی کاروبار شروع کرتا ھے اللہ اسے بہت برکت دیتا ھے اور اس کی شہرت دور دور تک پھیل جاتی ھے۔ باقی شہزادے تخت کے لئے بادشاہ کی نظر میں اچھا بننے کی جو بھی کوشش کرتے ہیں وہ سب رائیگاں جاتی ھے اتنے میں نیولا نما شہزادہ بہت سارے مال و دولت اور ایک گدھے کی رسی تھامے محل واپس پہنچتا ھے اس کی شان و شوکت اور دولت کے انبار سے باقی مَلکاؤں اور شہزادوں کے سینے پر سانپ لوٹ جاتے ہیں  اور انہیں سانپ سونگھ جاتا ھے ھاھاھا مطلب خاموش ہو جاتے ہیں۔جبکہ نیولے نما شہزادے کی ملکہ ماں اور بادشاہ حقیقت میں بہت خوش ھوتے ہیں بادشاہ دِل میں فیصلہ کر چکا ہوتا ھے کہ میرے تخت کا وارث میرا یہ نیولا شہزادہ ھی بنے گا کہ اتنے میں نیولا نما شہزادہ “کراماتی گَدھا”بادشاہ کے رُوبرو پیش کردیتا ھے جس کی کرامت دیکھ کر بادشاہ عَش عَش کر اٹھتا ھے اور پھر بادشاہت کا تاج نیولے نما شہزادے کے سر سَجتا ھےـوہ کرامت جاننا چاہیں گے؟ جی ہاں گدھے کو رسی سے اُلٹا لٹکا کر جتنا پیٹا جاتا ھے اتنے ہی اس کے منہ سے اشرفیاں جَھڑتی ہیں بس نیولا نما شہزادہ اسی سبب دور دور تک مشہور ھو جاتا ھے اب وہ باقی چھ ملکائیں اور شہزادے نیولے نما شہزادے کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو بادشاہت تم کو مل گئی ھے اب یہ گدھا ہمیں دے دو ھم تمہاری بادشاہت میں کبھی دخل اندازی نہیں کریں گے ۔ نیولا نما شہزادہ اس حقیقت سے آشنا ہوتا ھے جسے باقی نہیں جانتے لہذا وہ اس بات کے عِوض کہ یہ چھ ملکائیں اور شہزادے ہمیشہ کے لئے محل چھوڑ دیں گے وہ گدھے کاسودا کر لیتا ھے نیولے  شہزادے نے تو ایک جادوگر کی مدد سے گدھے کو اشرفیاں کھلا رکھیں ہوتی ہیں جبکہ یہ بات صرف وہی جانتا تھا۔ادھر باقی شہزادے محل تخت و تاج سے دستبردار گدھے کی رسی تھامے “جہاں گدھے کے سینگ سمائے چل دیئے کی مانند چلتے گئے”  پھر ایک جگہ پڑاؤ ڈالتے ہیں اور گدھے کو الٹا لٹکا کر پٹائی شروع کرتے ہیں مگر گدھا کوئی بھی خزانہ نہیں اُگلتا  جبکہ ہر شہزادہ الگ الگ طبع آزمائی کرتا ھے کہ اچانک گدھا روتے ھوئے منہ سے کچھ اگلتا ھے جس کی آواز سن کر باقی شہزادوں کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور سب ایک ساتھ زمین پر دیکھتے ہیں کہ ایک پُھوٹی کوڑی مطلب old expired coin  پڑا ہوتا ھے اور کچھ نہیں۔یہ سب دیکھ کر ملکائیں اور شہزادے زور زور سے رونے لگ جاتے ہیں اُدھر دوسری طرف نیولا نما شہزادہ ملکہ اور بادشاہ محل میں شاندار جشن یہ گا گا کر منا رھے ہوتے ہیں
“جَشَن مَنایئے، پَنگڑا پائیے،آجا کُڑیئے آجا،نہ جا کُڑیئے نہ جا”
اب اس کہانی کے تناظر میں پاکستانی عوام  کی حالت اس سے مختلف نہیں۔پاکستان میں  چور، لٹیروں، بدمعاشوں، شریفوں کی حکومت رہے یا نہ رھے جو بھی حکومت رھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا  البتہ مہنگائی کااوپر جاتا تیز ترین گراف  ،طرح طرح کے ٹیکس اور آئی ایم ایف کی نت نئی پابندیوں نے پاکستانی عوام کو اشرفی اگلنے والا کراماتی گدھا سمجھ رکھا ھے جو آتا ھے عوام کی دھنائی شروع کر دیتا ھے اور عوام کبھی ہنس کر کبھی رو رو کر، جیبوں کو جھاڑ جھاڑ کے حکومت کا سدا بھوکا کاسہ بھرتی ھے  جو ہمیشہ خالی ہی عوام کا منہ چڑاتا ھے حالات یہی رھے تو وہ دن دور نہیں جب عوام روتے ہوئے کھوٹا پیسہ اُگل کے اگلے جہاں کا ٹکٹ کٹا لے گی جب عوام ہی نہ رہے گی تو حکومتیں ،  آئی ایم ایف ان سب کا وہ عبرت ناک حشر ھونا ھے کہ جسے دیکھنے کو کوئی زندہ نہیں بچے گا اور یہ سب ظالم اپنی موت آپ مر جائیں گے۔سودی نظام کی نحوست نے پوری دنیا کو جکڑ رکھا ھے۔آغاحسن عابدی صاحب بہت یاد آئے ان جیسے پانچ سات افراد اب کے دور میں ہونے چاہئے تھے، انہوں  نے جس کام کا بیڑا اٹھا رکھا تھا اگر وہ کامیاب ھو جاتے تو معاشی دنیا کا آج ایک اور ہی نقشہ ہوتا۔ آغاحسن عابدی کے بارے میں مجھے تھوڑا بہت ہی علم تھا، مگر آج یہ خبر دیکھ کا حیرت کا جھٹکا لگا اور اتفاق کہہ لیں ادھر میں نے پوسٹ آغا حسن عابدی تک مکمل کی اور  صبح کے7:06 کے ٹائم ، ادھر یہ لِنک میری آنکھوں کے سامنے آگیا۔ہر جوان کو اس سے آگاھی ھونی چاہئے میں شکرئیے کے ساتھ tribune لنک شئیر کر رہی ھوں اسے ضرور دیکھیں۔
https://www.google.com/amp/s/tribune.com.pk/article/2528/agha-hasan-abedi-the-man-who-dared-to-dream-big%3famp=1

خوشی


خوشی
قارئین کرام!
خوشی کیا ھے؟جب آپ کا موڈ اچانک خوشگوار ہو جائے اور آپ خود کو پر سُکون محسوس کریں یقیناً اسے ہی کہتے ہیں خوشی۔ اور یہ انسانی روئیے کی بڑی خالص کیفیت ہوتی ھے ،جبکہ ظاہری طور پر خوش نظر آنا یا کاروباری مسکراہٹ یا یوں کہہ لیں کہ مصنوعی خوشی قطعی طور پر انسانی نظر سے چُھپ نہیں سکتی فوراً بھانپ لی جاتی ھے۔ اگر حقیقت کو سامنے رکھ کر بات کی جائے توخوشی اور اداسی دو ایسے جذباتی روئیے ہیں جو انسانوں اور جانوروں دونوں پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
خوشی کے اظہار کے مختلف طریقے ہوسکتے  ہیں مثلاً چھلانگیں مارنا،لُڈیاں یا ڈانس کرنا،بے ہنگم آوازیں نکالنا یا چیخ وپکار کرنا،کبھی کبھی خوشی کی وجہ سے بھوک زیادہ لگتی ھے اور کھانا بھی زیادہ کھایا جاتا ھے۔ جبکہ
کبھی خوشی کی وجہ سے بھوک اور نیند دونوں ختم ہوجاتی ھیں اورعجیب بات ھے کہ اداسی کی کیفیت میں بھی بھوک اور نیند ختم ھو جاتی ھے۔
ھم آج ایک ایسے دور میں زندگی گذار رہے ہیں جہاں ہر بات، ہر کام کو صرف اور صرف “فائدے” کی نظر سے سوچا اور پَرکھا جاتا ھے۔  مگر فوائد سے ہٹ کر بھی سوچنا چاہئےاورکبھی کبھار رِسک لینے میں کوئی حرج نہیں،  رِسک لے کر دیکھیں جس کام سے آپکو ایک پائی بھی نہ ملے مگر حقیقی سکون ملے تو اس سے بہتر اور کیاچیز ھو گی۔
  مثبت سوچ کے لئے یہ بھی ضروری ھے اپنے اندر  سے کبھی بچپنا نہ ختم ہونےدیں۔جہاں موقع ملے فوراً بچے بن جائیں اور زندگی انجوائے کریں۔ ایک مثبت سوچ کی علامت چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونا ھے اس لئے چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونا سیکھیں۔  مثلاً مجھے سب سے زیادہ خوشی اسوقت محسوس ہوتی ھے جب بلی کے بچے نظر آئیں یا پھلوں سے بھرا درخت نظر آئے، ایک بار  گلی کا راستہ طے کرتے میری نظر اچانک ایک چیکو سے  بھرے درخت پر گئی اور چیکو دیکھ کر ایک انجانی خوشی اور تشکر کی کیفیت دل میں آئی حالانکہ اس چیکو کے درخت سے میرا براہِ راست کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میں گلی میں رُک کر چیکو اتار کےکھانے بیٹھ گئی تھی۔مگر دیکھنے سے ہی اللہ کی نعمت کا احساس ھوا ۔یہی حال گملے میں لگی ہری مرچ دیکھ کر ہوتا ھے۔ اور بلی کے بچے تو سب کو پیارے لگتے ہیں مگر میں نے ایک دن بہت چھوٹا سا گدھے کا بچہ دیکھ لیا وہ اتنا پیارا تھا کہ فوری طور پر خوشی کے مارے اسے گود میں اٹھا لینے کا دل کیا۔ کسی روتے ہوئے بچےکو ھنسا دینا آپ کے دل کاسکون بن سکتا ھے۔  مگر اس میں کچھ محتاط روئیے کی ضرورت ھے  جیسا کہ ایک لطیفہ ھےکہ ایک بچہ اُچھل اُچھل کر ایک گھر کی گھنٹی بجانے کی کوششش کر رہا ھوتا ھے کہ ایک بڑے میاں نمودار ہوتے ہیں اور مسکراتے ہوئے بڑے اطمینان سے اس گھر کی گھنٹی بجا کے کہتے ہیں  ھاں بیٹا اور کچھ؟ بچہ کہتا ھے بس، اب آپ  بھی بھاگ جائیں  دادا ابا،میں بھی بھاگ رہا ہوں گھنٹی ہی بجانی تھی بج گئی ـ
   ہا ہا ہا
  ںپسند کا کھانا ہو یا پسندیدہ موسم، کوئی اچھی موسیقی ہویا  پسندیدہ کتاب یا پھر فلم یہ سب ہی انسان کے موڈ کو بہتر کر کے تروتازگی برقرار رکھتے ہیں اور اس وجہ سے سوچ کازاویہ بھی مثبت رہتا ھے اور جب سوچ مثبت رہے گی تو یقینی طور پر انسان خود سے جُڑے کاموں کو بہتر طور پر انجام دے سکے گا۔  ان سب کے علاوہ ایک چیزاور بھی ھے ھو سکتا ھے آپ کے لئے یہ کوئی اھم بات نہ ہو مگر میں نے
جب زندگی میں پہلی مرتبہ گدھے کو قلابازیاں کھاتے دیکھا تو بہت محظوظ ہوئی یا پھر ہو سکتا ھے بالکل ایسا ہی آپ کا بھی تجربہ رہا ہو۔
      گدھے کا مٹی میں  قلابازی کھانا،donkey
rolling
            گدھے کے اس behave کے پیچھے آپ وجہ جانتے ہیں؟ اظہار تشکر!  جی ہاں گدھے کا پسندیدہ خوراک سے پیٹ بھرا ہونا اور پھر گدھا مست ہو کر مٹی میں جو لوٹنیاں لگا کے مٹی اڑاتا ھے۔آہا ہا
ہا کیا ہی نظارا ہوتا ھے بالکل ایسے جیسے کسی  پاکستانی فلم میں رومانوی گیت کے دوران ھیرو کسی ھری بھری پہاڑی یا برف میں قلابازیاں کھا رہا ہوتا ھے۔ اور ہیروئن کو پتہ نہیں کیوں دَمے کااٹیک ھو جاتا ھے۔ جو کہ گیت ختم ہونے کے بعد خود بہ خود ٹھیک بھی ہو جاتا ھے۔
اب یہ بات تو گدھا ھی بہتر جانتا ھو گا کہ اس کے اس  “قلابازیانہ” اندازِ تشکر سے اس کے  مالک پر کیا اثر پڑتا ھے یا تو اس اظہار کے بعد گدھے کی پسندیدہ خوراک میں اضافہ کر دیا جائے گا نہیں تو وہ ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا مزید سامان ڈھونے لگے گا۔
بلی اپنےپسندیدہ کھانے کے بعد آنکھوں  کو میچ  کر یعنی آنکھیں چھوٹی کر کے اور ایک پر سکون سانس لے کر اپنی خوشی و سکون کا اظہار کرتی ھے اور انسان کے behave کا ذکر تو پہلے ہو چکا ھے میرا ذھن تو اب تک یہی تک پہنچا ھے چھوٹی سی خوشی کی فہرست میں بہت کچھ شامل ہو سکتا ھے آپ چاہیں تو  اس کی فہرست بنائیں، اور دیکھیں اس موضوع میں مزید  کیا کچھ شامل کیا جا سکتاھے۔  پھر ان کی تعداد دیکھیں کہ کون کون سی ایسی چھوٹی باتیں ہیں جن سے خوشی وسکون ھم پاتے ہیں۔ یقیناً ایک لمبی فہرست تیار ہو گی۔چھوٹی خوشیوں کو ھرگز معمولی سمجھ کر نظر انداز مت کریں یقین کریں  یہ ہی چھوٹی خوشیاں آپکی زندگی میں بہت دیرپا اثر رکھتی ہیں مگر سب کو اس کا ادراک نہیں ہوتا۔

شہد کی مکھیاں اور طوفانی جھکڑ


قارئین کرام!
کیاآپکا سامنا اچانک سامنے آجانے والی کسی  آفت سے پڑا ھے اور اس وقت آپکاردِ  عمل(reaction)کیسا ہوتا ھے؟
میرے ساتھ بھی جمعرات کی شام ایساھوا،میں حسبِ معمول شام میں گیزر(geyser) آن ھے کہ نہیں یہ دیکھنے چَھت پر گئی، اور ابھی صرف لکڑی کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ میرے منہ سے زور سے “ھاااا” نکلا اور ایک مرتبہ پھر ڈر کے میری گِھگّھی بند گئی ،زمین نے قدم  جکڑ لئے اور کچھ دیر تک “اسٹاپ اسٹاپ والے” گیم کی سی کیفیت رھی جس سے میں چند سیکنڈ میں نکلی اور جلدی سے دروازہ بند کر دیا اور پھر چند لمحوں بعد دوبارہ ہلکا سا دروازہ کھول کے اس بات کی تصدیق چاھی اور جب تصدیق کی پکی رسید میرے دماغ میں گَھنٹی کی طرح بجی تو پھر تیزی سے دروازہ بند کر کے الٹے قدموں سیڑھیوں سے واپس بھاگی، کہاں کا گیزر کیسا گرم پانی مجھے سب بھول گیا  ـ ھوا کچھ یوں کہ لکڑی کے دروازے کے ساتھ ہی موجود لوھے کے گیٹ کے اوپر والے حصے پر شہد کی مکھیوں نے ایک بڑا سا چھتہ(beehive) بنا لیا تھا جبکہ میں بدھ کی شام چَھت پر گئی تھی تو ایسا کچھ نہ تھا چونکہ مکھی کے چَھتے میں بیک وقت 5 سے 8 ھزار مکھیاں کام کرتی ہیں جن میں ملکہ مکھی ،کارکن مکھیاں اور  نِکھٹو جو کہ غالباً  مردانہ( male) مکھیاں ہوتی ہیں سب اکٹھی رہتی ہیں جب ھی یہ بڑا سا اونی ٹوپی نما  چَھتہ تعمیر ھوا ھو گا۔  پہلے مجھے یہی خیال آیا کہ یہ اونی ٹوپی کس نے یہاں لٹکا دی مگر اس میں مکھیاں اُڑتی دیکھ کر میری سٹی گم ھو گئی ، اور ایسا ھونا تو نہیں چاہئے مگراس وقت خوف کے ساتھ  شدید کراہت بھی محسوس ھوئی۔
  واقعے کو ٹھیک سے سمجھنےکے لئےگیٹ کی تفصیل بتانا ضروری ھے ۔  چَھت پر جانے کے لئے ایک لکڑی کا دروازہ تو موجود ھےمگر اس کے ساتھ ہی ایک لوھے کے گیٹ کا اضافہ حفاظتی اقدام کے طور پر کیا گیا ھے اور یہ حفاظتی قدم چور والے واقعے کے بعد کیا گیا تھا جس کا ذکر  میری “چور”والی پوسٹ میں موجود ھے۔ ان دو دروازوں کے بیچ بند ھونےکے بعد کچھgap بھی موجود رہتا ھے اور یہی گیپ شہد کی مکھیوں کو رہنے کی source لگا ھو گا۔ اور لوھے کے گیٹ کے کچھ گیپ والے حصے سےمکھیوں کی آمدورفت ہوتی رہی اور چھتے کی تعمیر جوش ولولےاور زوروشور سے جاری رہی اور اب صرف  گویا مکھیاں میرے اجازت نامے (permit) کا ہی انتظار کررہی تھیں کہ کب مابدولت گیزر آن کرنے کے بہانے چھت پر تشریف لائیں اور یہ” نو گوایریا” دیکھ کر واپس بھاگ جائیں اور جانے سے بیشتر انڈین فلم مغلِ اعظم کے اکبر بادشاہ کی طرح انارکلی کو”اجازت ھے”کہہ کر رقص کی کُھلی چھٹی دیں اور میرے” ٹھاہ”  سے دروازہ بند کرتے ہی مکھیاں تو رقص کرنے لگیں ھوں گی اور پھرتھک ہار کے اس نئے تعمیر شدہ بہترین آرکیٹیکچر شاہکار چَھتے میں آرام سے نیند کی وادی میں اتر گئی ھوں گی جس کا ما بدولت نے بن بلائے اسپیشل گیسٹ کی طرح لکڑی کا دروازہ کھول کے افتتاح کر دیا تھا۔مگر میری نیند اڑ چکی تھی اب کیا ھو سکتا تھا اچھی بات یہ رہی کہ بجلی نہ گئی اور میری بھی یہی دعا تھی کہ بجلی نہ جائے کیونکہ گیس کی لوڈ شیڈنگ تو ہوتی ھی ھے مگر بجلی بند ہونے سے جب جنریٹر گیس پر چلتے ہیں تو گیزر خود ھی گیس پریشر کم ھونے سے آف ھو جاتے ہیں چاھے انہیں کچھ دیر پہلے ہی گیس آنے پر آن کیا ھو۔اب شام اور رات کا حصہ تو  گیزر میں بَچے ھوئے گرم پانی سے نکل سکتا تھا شہد کی مکھیوں کے بارے جو ہونا  اب وہ صبح ھی ہونا تھا۔ صبح ھونے پر میری تو ہمت نہ ھوئی کہ دوبارہ شہد کی مکھیوں سے آنکھیں چار کروں، یہ کام یوں آسان ھوا کہ ھماری عظیم و بہادر ورکر نے ایک مضبوط لوھے کے ڈنڈے پر کپڑا باندھ کر اس پر آگ لگا کے دھواں کیا اور شہد کی مکھیوں کے خلاف آپریشن کلین اپ کیا مگر شہد کی مکھی کے بارےمیں مشہور ھے یہ آسانی سے نہ راستہ بھولتی ہیں نہ ہی چَھتہ چھوڑتی ہیں ،وہی ہوا، آگ کے دھوئیں سے مکھیاں اُڑیں ضرور مگر اس لوھے کے گیٹ سے اوپر باہر  چَھت کی طرف چوکھٹ پر منڈلاتی رہیں تھک ہار کے ھماری ورکر بھی واپس آگئی اسی دوران بجلی جا چکی تھی اور بجلی آجانے پر احتیاطاً گیزر چیک کرنے کے لئے مجھے پھر چَھت کا رخ کرنا پڑ گیا مگر شہد کی مکھیوں نے راستہ بلاک کر رکھا تھا،اور میری مکھیوں کے ساتھ چُھپن چھپائی  جاری تھی جس کےدو راؤنڈ کھیلے جا چکے تھے  پہلاجمعےکی دوپہر اور دوسرا جمعے کی شام کھیلے گئےـ  دونوں مرتبہ  میں ما بدولت پھر دل مضبوط کر کےچھت پر گئی اور ذرا سا لکڑی کا دروازہ کھول کے دیکھوں تو شہد کی مکھیاں وہاں رقص میں ھی نظر آئیں میں نے اکبر بادشاھ بن کے انہیں حکم دیا بس بند کرو یہ رقص بہت ہو چکاجاؤ کہیں اور جا کے چَھتہ بناؤ یہاں یہ چھتہ بھتہ نہیں چلے گا، ورنہ دیوار میں چُنوا دوں گی وہ الگ بات ھے کہ شہد کی مکھیوں کے زہریلے  ڈَنگ کا سوچ کے ہی مجھ نقلی اکبر بادشاہ کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں حالانکہ میں نے پورا سلطانہ ڈاکو کا سا روپ دھار کے خود کو چادروں سے ایک آنکھ کے سوا مکمل کور کیا ھوا تھا۔مگر نہ جی کوئی بات نہ بنی۔میں واپس چَھت سے ناکام آگئی اور بھائی کی منتیں کیں کہ تم ھی گیزر آن کر دو مگرآخر کو  وہ بھی مجھ سا نقلی
اکبر بادشاہ کا ہی بھائی ھے نا اپنی شاھی طبیعت سے مجبور بولا “کر دوں گا، ایک گیزر ھی آن کرنا ھے اور تو کچھ نہیں یہ کون سا بڑا کام ھے کر دوں گا” مطلب نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ،سو بھائی نے اپنی مرضی سے جا کے گیزر دیکھاجب تک رات کے 10 بج گئے تھے  اور  ادھر شام ھی سے کراچی میں طوفانی ھوائی جَھکڑ چل رہے تھےیہ جھکڑ کی شدت ہی تھی جس کی وجہ سے  شہد کی مکھیاں مُنتشر ہوئیں۔                  
یہ ھوائی جھکڑ سردیوں میں اکثر چلتے ہیں ـ  پچھلی سردیوں میں ان طوفانی جَھکڑوں سے گیزر کے گرد ما بدولت کے ہاتھوں لپیٹی  دھاتی شیٹ اور اس کے اِرد گِرد باندھی گئی رسی کا زیادہ حصہ تیز ھواؤں سے اُڑکرنہ جانے کہاں چلا گیا بس رسی کا تھوڑا سا ٹکڑا گیزر کے پاس ایسے موجود رہا بقول ضمیر جعفری ( بمعہ بالکل تھوڑی سی ایڈیٹنگ)
؎”جو کالر تھا گردن میں، ‘لر’ رہ گیا ہے
ٹماٹر کے تھیلے میں ‘ٹر’ رہ گیا ہے
خدا جانے مرغا کدھر رہ گیا ہے
بغل میں تو بس ایک پر رہ گیا ہے۔
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ھے
اور طوفانی جھکڑ کا ذکر ہو رہا ھے۔”

پھر شاہانہ طبیعت بھائی سے کہہ کہہ کر تھک گئی کہ دھاتی شیٹ لا کر دے دو میں گیزر کو cover کر لوں مگر  وہ بادشاہ جو ٹھرے اپنی مرضی کے مالک۔
  مشہور مقولہ ھے “ضرورت ایجاد کی ماں ھے”  گیزر کی حفاظت کے لئے  اور تو مجھے کچھ سمجھ نہ آیابس  ایک چھوٹا خالی گملا ملا تھا چھت پر تو میں نے وہ گیزر کے چولہے کے آگے ایسے رکھ دیا جیسے وہ ہاتھ جوڑے گیزر کی پوجا کر رہا ہو اورکہہ رہا ھو”دیکھ اس سردیاں  تجھےچلتے جانا ھے بند نہیں ھونا” اس کے ساتھ میری نظر چھت پر رکھے کپڑے دھونے والے ایک عدد اضافی دھاتی سِلور رنگ  کے ٹب پر گئی جسےمیں نے اٹھاکے گملے کے آگے ٹِکا دیا  تاکہ ھوا کے جھونکوں سے گیزر محفوظ رہے۔  پچھلے سال گیزر کی دھاتی شیٹ اُڑ جانے  کے بعد سے اور اس سال  گملے اور ٹب کی پوزیشن گیزر کے آگے ایسے موجود ھے جیسے گویا کسی سڑک کنارے نصب سنگِ میل ۔ بس یہ کہ کبھی کبھی ٹَب ھوا کے جھونکوں سے ” ٹنگ ٹرنگ ٹرنگ”کی آوازیں نکالتا لڑکھڑا کے گِر جاتا ھے جسے میں پھر سیدھا کر کےگیزر کے  پاس ٹِکا دیتی ھوں ۔ دیکھا ما بدولت نے کیسے کیسے گیزر کے لئے حفاظتی اقدامات کئے ہیں۔
تیز جھکڑوں کے تو کیا ہی کہنے لاؤنج کا دروازہ بند کرتے وقت تیز طوفانی ھوا کی ایسی رفتار  تھی کہ دروازے کے ساتھ ہی میں بھی باہر کی جانب یوں نکل گئی گویا کسی نے لاؤنج سے دھکیل کے باہر نکال دیا ھو ایساھوا کا زور تھا۔طوفانی جھکڑ میں اگر یہ گھر کے لاونج کے دروازے کی صورتحال ھے تو اس دوران کھلی جگہوں اور سڑکوں کا کیا حال ہوتا ہو گا یہی وجہ ھے کہ اس دوران کراچی میں6  ہلاکتیں اور 3 مچھلی کے شکار کے لئے کیٹی بندر پورٹ میں لانچیں ڈوب گئیں۔کیونکہ ھوا کے زور سے سمندر کی لہروں میں طغیانی آچکی تھی۔کئی ماہی گیر جو بلاشبہ اچھے تیراک بھی ہیں لا پتہ ہیں۔اللہ مرنے والوں کی مغفرت فرمائیں، ہم سب کو ایسی آفات سے حفظ وامان میں رکھیں اور لاپتہ ماھی گیر اپنے گھر صحیح سلامت لوٹ آئیں۔

1922 اور 1920


قارئین کرام!
2022 کی شروعات ہوئے نصف ماہ ہو گیا  ھے۔تصور کی آنکھیں ماضی کی کھڑکیاں کَھٹ کَھٹ کر کے کھولتی جاتی ہیں اور 1922 یعنی سو سال پہلے کا خیال ذھن میں آتا ھے چلیں ھم سب آج کچھ دیر کے لئے سب کی سب “جدیدیات” چھوڑ کے 1922 کا تصور باندھ لیتے ہیں، اور اس تصور میں صرف اور صرف بالکل بہت عام سی کلاس “عام عوام”  کو ڈسکس کرتے ہیں۔ میں نے تو ڈبل رسی سے تصور باندھ لیا ھے،آپ بھی تیاری پکڑیں، جب بر صغیر پاک و ھند میں پانی و بجلی کی کیا صورتحال ھو گی؟ بھاپ سے چلنے والے ریل انجن اور لکڑی کوئلے سےگھروں کے چولہے و آتش دان جلتے ھوں گے، محلے کے حکیم بیک وقت ڈاکٹرز و اسپیشلسٹ کی جگہ سنبھالتے ہوں گے، 1922کے دنوں میں برصغیر پاک وھند میں تحریک خلافت عروج پر تھی حتیٰ کہ خطبہ الہ آباد 1930 ہونے کو  بھی ابھی پورے 8 سال باقی رہتے ہیں  اور ظاہر سی بات ھے 1922 تک ھم سب کے والدین بھی پیدا نہیں ہوئے تھے تو دادا ،دادی،نانا،نانی کا طرز زندگی کیسا ھوتا ہو گا؟ رات کی خاموشی میں لالٹین کی روشنی میں کوئی طالب علم اپنے امتحانات کی تیاری کرتا ھو گا۔ کیسا سادہ سا طرز زندگی ہوگا بِنا فون موبائل انٹرنیٹ و بجلی گیس کے خالص سا۔ زیادہ فکر مند ھونے کی ضرورت نہیں پاکستانی حکومتیں ہمیں بتدریج اُسی دور میں واپس لیجانا چاہ رہی ہیں ویسے بھی آئے دن زیر سمندر انٹرنیٹ کیبل کا مسلہ بھی بڑھتا جا رھا ھے بجلی مہنگی سے مہنگی ھوئے جا رہی گیس کی قلت سردیوں کا خاصہ بنتا جا رھا آئے دن کی مہنگائی  کی وجہ سے حالات ہو سکتا پرانے والے بارٹر سسٹم پر چلے جائیں اور عوامی تاریخ اپنے آپ کو  دھراتی ہمیں لالٹین کے زمانے امتحانات کی تیاری کے ساتھ کینڈل ڈنر کے لئے لے چلے۔ پھر عوام کاموں سے فارغ ھو کر سردیوں میں آگ تاپنے اور گرمیوں میں اجتماعی محافل وجلوس منعقد کرتے،بجلی گیس اور  انٹرنیٹ موبائل فون  یہ کیا ھوتا سب بھول جاتے۔اس سے سب سے زیادہ نقصان فری لانسرز اور بلاگرز کو ھوتا،   موٹیویشنل اسپیکرز کا تو حال ہی مت پوچھیں، آن لائن ھوم بیسڈ ورک کی پر کشش آفرز خواب و خیال بن کے رہ جاتیں،پھر بلاگرز کے بلاگ کون پڑھتا؟ سبھی اک ناکام شاعر کی طرح خود ہی لکھ کر خود کو بالکل میری طرح اپنی باتیں سنایا کرتے جیسا کہ “جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا”بس یہ ساری دنیا  فری لانسرز اوربلاگرز کے لئےاک جنگل بن کے رہ جاتی، چونکہ ٹیلی ویژن، ریڈیو تک نہ ہوتا تو نہ عوام کو حکومتیں جانتیں، نہ عوام کو حکومتوں کے آنے جانے کی خبر ہوتی،کاغذ بھی نایاب ھوتا تو اخبارات تک رسائی آسان نہ ہوتی، کیونکہ 1922 ھے۔  پتنگیں اڑائی جاتیں،کبوتر،بکریاں مرغیاں بلیاں پالنے کا مشغلہ ہوتا، تازہ ھوا کے جھونکوں سے لطف اندوز ہونے کوچَھتوں کے صبح شام کے پھیرے لازمی ہو جاتے،  سرِ شام ھی ہر طرف اک ھُوکا عالم ھوتا کیونکہ کرنے کو کوئی کام ہی نہ ہوتا تو سب رات کو میٹھی نیند لیتے،یاد ھے نا 1922 ھے موبائل اور انٹرنیٹ نہیں۔ ھے-گھروں کے باہر اعلی قسم کی سائکلیں، اونٹ بیل،گھوڑا،گدھا گاڑیاں ایسے موجود ہوتیں جیسی آج موٹر کاریں گھروں میں موجود ہیں۔  آئی ٹی انڈسٹری اور یونیورسٹیز  کی بجائے پاک وھند میں آٹے ،چاولوں کے بڑے بڑے بہترین گودام ہوتے۔ استاد بہترین آڑھتی ہوتے اور طالب علم بہترین مزدور بن کر بوریاں لادتے ظاہر ھے ہرکسی کی دسترس میں المشہور علیگڑہ جامعہ کا طالب علم ہونا کہاں نصیب ہوتا، خواتین  بلاگز لکھنے کی بجائے میزپوش ،چادریں کڑھائی کرتیں یا سویٹر بُنتیں،یاد رہے میں بہت ہی عام سا عوامی طبقہ ڈسکس کر رہی ہوں۔
اس دور کی روایت کے مطابق 5،7 برس کے بچوں کی اَمیاں ہی ان کی “نرسری” ہوتیں، بنا اسکول کے ھی پرائمری لیول کی ابتدائی تعلیم والدہ سے لینے کے بعد منشی فاضل کی ڈگری کے لئے اسکول جوائن کیا جاتا۔اور اس کے فورا بعد کلرک کی نوکری پانا ایسا ہوتا گویا چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ بن جانا۔پورے محلے واہ واہ ھو جاتی۔مٹھائیاں تقسیم ہوتیں اور بس راویہ یعنی میرا مطلب سعدیہ چین ہی چین لکھتی ھے  اب سب تصور کی کھڑکی بند کریں اور واپس آجائیں ، یہ 2022 ھےـموبائل بھی ھے، نیٹ بھی ھے بجلی بھی ھے پانی و گیس بھی ھے موٹر کاریں بھی ہیں ، سوشل میڈیا سے ھم سب کی ایک دوسرے تک رسائی بھی ھےـکیوں؟ کیونکہ یہ 2022 ھے۔

ملنگ کا اغواء


ملنگ کا اغواء
قارئین کرام
ایک لفظ بڑا سنتے ہیں “اغواء برائے تاوان” مگر کبھی بھی کہیں یہ عظیم الفاظ نہ سنے جو ایک اچھے معاشرے کی پہچان بنتے “اغواء برائے احسان،مہربان،قدر دان،مہمان،انجان،سچی یا جھوٹی شان، آن بان اور بہت کچھ ہو سکتا ھے۔اغواء کےبارے میں بچپن سے سنتے آرہے ہیں  بچوں کو اس حوالے سے خاص طور پر رہنمائی، guide کیا جاتا ھے 
کہ جو بچے اکیلے گلیوں میں پھرتے ہیں انہیں اغواء کرنے والے بوری میں بند کر کے لے جاتے ہیں اور لے جا کر بیچ دیتے ہیں۔  ہاتھ پیر توڑ دیتے ہں پھر بھیک منگواتے ہیں۔
مگر  فیصل آباد میں”ملنگ کا اغواء” وہ بھی ایک عدد پیر  کی میت اور  چندہ پیٹی سمیت ،فیصل آباد بھی نہ بس فیصل آباد ھے یقینی طور پر اغواء کے  ساتھ ساتھ چادریں، دریاں،  کھیس،
(تمبو) شامیانے،  ڈھول، بکرے، مرغیاں اور دیگیں و دیگر تبرکات بھی  اغواء کرنے والے  لے گئے ہوں گے شکر ھے کہ وہاں مزار پر حاضری دینے والے زائرین موجود نہ تھے ورنہ وہ بھی اغواء ھو جاتے.  اوراگر اغواء کار جناتی صلاحیتیں رکھتے تو ھو سکتا ھے کہ تاندلیانوالہ سے پورا مزار اکھاڑ کے اوکاڑہ کی زمین پر ہی فٹ کر لیتے ،پیر میت کے بیٹوں کے جھگڑے سے مریدین بھی تقسیم ہو گئے، اچھی بات ھے کہ اس جنگ و جدل میں مریدین نے پیر صاحب کی میت کی لاج رکھ لی کہیں اسے دو ٹکڑوں میں نہ کر لیا کہ ایک اوکاڑہ  اوردوسرا تاندلیانوالہ دفنائیں گے ۔ مغوی ملنگ بیچارہ ویسے ہی بھنگ کے نشے میں پڑا ھو گا ہوش آئی ھو گی تو پتہ چلا ھو گا میں اغواء ھو چکا ھوں بس پھر ایک نعرہ مستانہ بلند ھوا ھو گا اور ملنگ کی مغویانہ دھمال شروع ھوئی ھو گی ھاتھ پیر زنجیروں میں کَسے ھوں گے غائبانہ صدا آئی ھو گی ملنگی ان کے آگے دھمال نہ پائیں یہ تجھے اغواء کرنے والے ہیں یہ سنتے ہی ملنگ اور بھی جوش سے حق ،حق کا نعرہ لگاتا زمین پر دھمال کا قہر بپا کرنے لگا ھو گا اور  ہر طرف پکار ھو گی
؎ٹوٹ گریں گی یہ زنجیریں
زندانوں کی خیر نہیں ھے
انہی صداؤں ڈھول تھاپوں کے شور میں دھمال پاندے پاندے ملنگ اوکاڑہ سے واپس تاندلیانوالہ پیدل 8,9 گھنٹوں میں پرانی جگہ جاپہنچا ھو گا اور خود سے کہتا ھو گا edit غزل کے ساتھ
؎ چلے تو کَٹ ھی گیا سفر، آہستہ آہستہ
رستے ھم دھمال پاتے آئے مگر، آہستہ آہستہ
اور اغواء کار بھی جب  دھمال سے نڈھال ھو کے کہیں اِدھر کہیں اُدھر گرے ھونگے ؎اِدھر ڈوبے اُدھر اُبھرے کی مانند تو پھر ان میں سے ایک کو یاد آیا ھو گا” او ملنگ تا نِکل گیا ای”۔بس کفِ افسوس ملتے رھنا ان اغواء کاروں کا مقدر رہا ھو گا ، سوچا جائے تو ان اغواء کاروں نے اچھا خاصہ پورا ریڈی میڈ مزار کا ماحول بنا لیا تھا اسی چکر میں ملنگ کو بھی لے گئے کہ دھمال شغل میلہ لگا رہے گا، اور پھر ملنگ نے  انہیں چکمہ دے کے رنگ میں بھنگ ملا دی ، وہ  رنگ میں اور کیا ملاتا اس کے پاس بھنگ ہی تھی سو وہ ہی ملا دی۔اور خود ان کے چنگل سے آزاد ھو گیا۔یقیناًپیر میت بھی اپنے بیٹوں، ایسے مریدوں کوغائبانہ سخت وعیدوں سے نواز رھی ھو گی ویسے بھی بِلا اشد ضرورت کے قبر کو شق کرنا بہت گناھ کی بات تو ھے۔ افسوس کہ ان نام نہاد بیٹوں اور جھوٹے مریدین نے  پیر اھل طریقت کی شکل  کو بہت توڑ مروڑ کے پیش کیا انہی لوگوں کی وجہ سے مزارات کاتقدس تباھ ھوا ھے جو کہ نہیں ھونا چاہیئے۔

تحفہ


قارئین کرام!
تحفہ،(ہدیہ، Gift)ایک ایسا پُرکشش لفظ ھے جو  بیک وقت بچوں بڑوں عورت مرد سب پر ایک خوشگوار تاثر کا احساس پیدا کرتا ھے۔زندگی اور اس کی نعمتیں تحفہ خدا ہیں اس میں اللہ کا سب سے اسپیشل گفٹ مجھے باغ میں کھلے سُرخ بھینی بھینی خوشبو سے لبریز، بڑے بڑے تازہ  گلاب لگتے ہیں جوں ہی ان پر نظر پڑے تو لگتا ھے اللہ کا بہت ہی اسپیشل گفٹ آگیا ھے ھم انسانوں کے لئے،  بےشک یہ آیت ایسے تمام مواقع کے لئے ہی ھے
“اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے”
اب چاھے وہ میری دنیا تک محدود مٹی کے تیل کی خوشبو ہو یاعود کی خوشبو ھو، بارش کی بوندیں مٹی کو مہکایں، یا کوئی دلفریب  کوئی سوندھا ساعطر ہو،  برینڈڈ پرفیوم ھو،کوئلہ چائے بناتے وقت سُلگتے کوئلے کی خوشبو ھو یا پھر پکتے چاولوں کی خوشبو ھو،  کتنی قسم کی خوشبویات کااہتمام ھم ادنیٰ سے انسانوں کے ليے اللہ میاں نے کیا ھے۔ سوچا جائے تو ان رنگ برنگے ہلکے، گہرے رنگوں کے دیسی خوشبودار گلابوں، خوشبویات اور سونگھنے اور جی بھر کے دیکھنے  کی حِس سے بڑا اور کیا تحفہ ھو گا ھم انسانوں کے لئے؟ ایک اندازے کے مطابق  گلابوں کی 150 اقسام پائی جاتی ہیں ۔
سبحان اللہ
تحفے تحائف میں امیروں غریبوں، عام عوام سب کا الگ معیار ہوتا ھےـمگر تحفے کی سب سے بھیانک قسم وہ رشوت دینا لینا ھوتی ھے جو “تحفوں”کے نام پر دی یا لی جاتی ھے اسے آپ حرام کو حلال بنانا بھی کہہ سکتے ہیں اور ایسے تحفے تقریباًھر محکمے میں چل رہے ہوتے ہیں بخوشی قبول بھی کئے جاتے ہیں اورکہیں زبردستی وصول بھی کئے جاتے ہیں۔ تحفہ چاھے جیسا بھی ہو بس اسے وصول کرنے کے ساتھ ھی اِک ہلچل انسان محسوس کرتا ھے جیسا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے فیصل صالح حیات کا ایک مرتبہ الیکشن کے دنوں کا مشہور واقعہ ھے کہ ایک جگہ عوام کے ساتھ کہیں تشریف فرما تھے کہ ان کی خدمت میں ایک تحفے کا ڈبہ لایا گیا انہوں نے “عوام مجھ سے بہت محبت کرتی ھے” جیسے تاریخی الفاظ ادا کرتے ھوئے ڈبہ کھولا تو اندر سے ایک تسبیح اور  ایک عدد نیا لوٹا نکلا۔ نہیں معلوم فیصل صالح حیات کے چہرے کے تاثرات اس کے فوراً بعد کیا رھے ہوں گےمگر یہ  ثابت ھو گیا کہ واقعی عوام ان سے بہت پیار کرتی ھے بعد میں اطلاعات تھیں کہ ان کے مخالفین کی جانب سے ایسا کیا گیا تھا۔
بچپن میں ھم نے جب کبھی لاٹری کھولی تو زیادہ تر  try again  لکھا ہوتا تھا مگر اس دوران کبھی کبھی butter scotch ٹافی یا ایک کپ\گلاس اکثر انعام میں نکل آتے ان کی خوشی آج تک محسوس ہوتی ھے۔early classes studies میں ایک  دفعہ اسکول کی جانب سے 23 مارچ کے سلسلےمیں گورنر ہاؤس جانا ھوا تھا-  راستے میں ھم پیر پگارا کے خوبصورت تعمیر کردہ کنگری ہاؤس کودیکھتے گذرے ان دنوں “اے بھائی”کہنے والے مشہور فخرالدین جی ابراہیم کراچی کے گورنر تھے اور اس تقریب میں پہلی بار یہ خاص بات نوٹ کی کہ بچوں کی نشستوں کو فرنٹ پر رکھا گیا اور تمام بڑے مہمانانِ گرامی آخر میں تشریف فرما ہوئے اور ان میں سب سے آخر میں خود فخرالدین جی ابراہیم بیٹھے تھے خطاب کے لئے جب وہ تشریف لائے تو ہم بچوں کے گروپ کے پاس سے گذرتے سلام دعا ہوئی، بہت عجزو انکساری دیکھی تھی ان میں، اب سوچتی ہوں کہ بچپن میں اندازہ ہی نہ ھوا کہ ھم گورنرصاحب سے مل رہے ہیں نہ ہی “ہٹو بچو” کی صدائیں تھیں بڑا دلچسپ اور بچوں سے پیار بھرا خطاب تھا ان کا اللہ انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں آمین۔ گورنر ہاؤس میں انٹری بھی بڑی دلچسپ تھی سب بچے لائن بنا کے ایک ایک کر کر اندر جا رہے تھے اور پگڑی پہنے دونوں اطراف موجود خادمین بچوں کو دائیں بائیں ایک ساتھ جوس کے پیکٹ تھما رہے تھے میں نے جوس کا ایک پیکٹ لے کر دوسرا واپس کیا تو پگڑی والے انکل کہنے لگے کہ یہ آپکو لینے ہوں گے دونوں ہی آپکے لئے ھیں نہیں تو بیٹا آپ گھر لے جاؤ۔واپس نہیں کرتے۔ آگے ہی گورنر ھاؤس کا گیسٹ روم تھا جس میں قائد اعظم کی بڑی سی تصویر آویزاں تھی پھر اس سے دائیں طرف کچھ سیڑھیاں اترتے بے حد وسیع لان تھا جہاں اک “جہاں” سما جائے وہاں سب کے بیٹھنے کا  اہتمام کیا گیا تھا۔پروفیسر حسنین کاظمی،نعت خواں سہروردی،بہروز سبزواری محمد علی شہکی اور مقامی اسٹار بینڈ یہ ھمارے قریب ھی موجود تھے یہ سب ہی بہت شفقت سے ھم بچوں کے ساتھ پیش آئے تھے باقی بھی  کافی مشہور شخصیات تھیں جو ھم سے کافی فاصلے پر تھیں محمد علی شہکی بار بار ہم بچوں کو دلفریب مسکراہٹ سے نواز رہے تھے اور بہت سارے قومی ترانے میوزک کے ساتھ انہوں نے پیش کئے تھے ھم بچے بھی ان کے ھم آواز بنے تھے۔اس کے بعدتمام افراد کے لئے عصرانے یعنی (tea time) کا بندوبست کیا گیا تھا۔ اس میں دو  رنگوں سے بنی سبزاور سفید ایسی برفی تھی جو میں نے کراچی میں کہیں اور پھر دوبارہ نہ دیکھی نہ کھائی، گویا یوں سمجھ لیں کہ خوان کے نام تو اگرچہ عام سے ہی ہیں مگر لذت اور معیار ایسا جیسے واقعی ہم اچانک کسی بادشاہ کے دربار میں موجود ھوں اور سامنے شاھی دسترخوان سجا ھو۔ پاکستان میں بادشاہت ہو یا نہ ہو، جمہوریت ہو یا نان جمہوریت بڑے لوگوں کے بڑے دسترخوان ہی رہتے ہیں گویا جدید شاہی انتظام پر مبنی دسترخوان ھو جیسے، اور اس کا ذائقہ ھم عوام بلکہ ھم بچوں نے بھی گورنر صاحب کی بدولت چکھ ہی لیا  ۔  بہترین کراکری اور بہت اعلی نظام تھا دو تین اقسام کے بہت اعلی قسم کے سموسے، پکوڑے، کباب،سینڈوچ،شربت اور لذیذ چائے شامل تھی واپسی پر بچوں کو تحفے کے پیکٹ تھمائے جا رہے تھے اور رش کی وجہ سے گورنر ہاؤس سے باہر نکلنے میں تقریباً عشاء کا وقت ہو چلا تھا کیونکہ گورنر ہاؤس سے پہلے انکو باہر لایا جا رہا تھا جو اندرون سندھ سے شرکت کے لئے آئے تھے تو واپسی کا خیال کرتے ھوئے انکو ترجیح دی گئ تھی سو ھم ابھی واپسی کے انتظار میں تھے ھماری اسکول بس کا انتظام تھا اور سب بچے گھر پہنچنےکے بعد آخر میں ٹیچرز کو جانے کی اجازت تھی۔جب تک ھم گورنر ہاؤس سے باہر نکلتے ایک منظر نے ہمیں اپنی جانب متوجہ کیا کچھ بچوں کے سر پر انعامات کو چادروں میں باندھ کر  اٹھوایا گیا تھااوران سے سندھی میں انکی ٹیچرز باتیں کر رہی تھیں میں اور دیگر اسٹوڈنٹس ان بچوں کے پاس پہنچے اور پوچھاآپ نے سر پر یہ کیوں ایسے رکھا تو ان اسٹوڈنٹنس نے آئستہ آواز میں بڑی عجیب بات کہی یہ گفٹ ھم کو ملے ہیں مگر ٹیچرز نے کھولنے سے منع کر دیا ھے اور کہا  کہ یہ سب ان کا ھے جو کھولے گااسے مار پڑے گی  اور یہ سب ٹیچرز آپس میں بانٹنے کی بات کر رہےہیں اب ھم حیدرآباد جارہے ہیں وہاں کے اسکول سے ہیں ھم،  گویا بچوں کے تحفوں پر ڈاکہ ھم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا،اس کے کافی دیر بعد جب ھماری واپسی پر سبکو تحفے کا پیکٹ ملا ھماری ٹیچرز نےتو کہا سب بچے گھر لے جائیں مجھے جو پیکٹ ملا وہ بہت پھولا ھوا اور قدرے بڑا تھا دیگر دوستوں کے پیکٹ سے تو سبکو تجسس سا تھا سب نے فیصلہ کیا کہ تھوڑا تھوڑا  اپنا اپنا پیکِٹ کھول کے دیکھو تو کیا ھےجب پیکِٹ کارنر سے کھولا تو میرے پیکِٹ کے اندر2 الگ الگ آف وائٹ کپڑے نظرآئے۔مطلب یہ ڈبل جینٹس سوٹ کا گفٹ تھا اب سب کو سمجھ آئی کہ میرا پیکِٹ بڑا بڑا کیوں تھا جبکہ باقی دوستوں کے پیکِٹس میں لیڈیز یا جینٹس سنگل سوٹ تھا بس جی قسمت اپنی اپنی یہ تمام پیکٹ گُل احمد کے تھے،پھر میری دوست کہنے لگی مجھ سے پیکِٹ بدل لو  اس میں ریڈ سنگل لیڈیز سوٹ تھا،میں نے بدل لیا اور سب بچے خوشی خوشی گھر واپس آگئے۔

مچھر


قارئین کرام!
سُر،تال،قوال اور مچھر آپس میں بہت گہرا تعلق رکھتے ہیں ـ مچھر “بھیں بھیں” کا راگ الاپتا ہو یا راگ بہروی چل رہا ھو بہت غور کرنا پڑتا ھے کہ چل کیا رہا ھے؟کیا پتہ یہ دو راگ مل کے کوئیrock ٹائپ گانے کا میوزک ترتیب دے رہے ہوں کہ اچانک قوال کی چلتی تالی کی زد میں مچھر آکر اپنی زندگی ہار بیٹھتا ھے اور مچھر کی “بھیں بھیں” آخری “چیں یں یں” میں بدل جاتی ھے۔  اور راک شاک میوزک ایک طرف رہ جاتا ھےـ
بار بار ناک پر بیٹھی مکھی تنگ کرتی ہو یا کان میں مچھر تھوڑی دیر بعد بِھیں بِھیں کا راگ چھیڑے، دونوں انسان کے ہاتھ جَلد نہیں آتے جب تک کہ انسان ان کے  ہاتھوں چیں بہ جبیں  ہوتے ہوتے  بے بسی  کی تصویر نہ بن جائے، لطیفہ ھے کہ ایک  بندوق تھامےپٹھان صاحب کی ناک پر  بیٹھی مکھی بار بار تنگ کر رہی تھی پٹھان صاحب کو اتنا غصہ آیا  مکھی تو ہاتھ نہ آئی  اپنی ناک ہی فائر کر کے اڑا دی اور  مکھی سے کہنے لگے “او خانہ خراب خوچی اب بیٹھ کے دِکھا۔”
مچھر کی عمر ایک اندازے کے مطابق 6 تا 7دن سے لیکر 5 ماہ تک ہوتی ھے جبکہ مکھی اپنے ضروری  ماحول  میسر ہونے کی صورت  15 سے 30 دن جیتی ھےدونوں کی  مختصر مدت دورانیہ کی عمر اور تباھی پھیلانے کی رفتار دیکھیں ذرا ،اس کم مدت میں ہی  کافی شدت سے انسانوں اور بے زبان جانوروں کو یہ عفریت نشانہ بناتے ہیں کہیں گائے بھینس جُگالی کرتے اپنی گردن  مست ملنگ کی طرح گُھما گُھما کے یا دُم کا چابک گھما کے ان مَکھیوں مَچھروں کو دور بھگاتے نظر آئیں گی کہیں بکرا ناک سے پُھوں پُھوں کر کے دور بھگاتا نظر آئے گا جبکہ گدھا اپنے جسم میں تَھرتَھری پیدا کر کے ان کو دور ہٹنے پر مجبور کرے گا۔   اور رہا انسان تو کیا کیا نہیں کرتا ان سے بچنے کے لئے،اکثر  گھروں سے وقفے وقفے سے تالیاں پیٹنے کی گونج سنائی دے تو پہلاخیال  یہی گذرتا ھے کہ سالگریں منائی جا رھی ھوں گی تھوڑا غور کرنے پر معلوم ھو گا کہ نہیں سالگرہ نہیں مچھروں کے قتل عام کا بَگل بج رہا ھے اور ساتھ میں مچھروں کو یہ کہہ کے للکارا جاتا ھے ” ایک واری تو میرے ہتھ آ، تجھے چھوڑ دیا تو کئیں” ان عفریتوں سے نجات کے لئے گھروں میں دروازے،کھڑکیوں پر  باریک عمدہ قسم کی جالی لگائی جاتی ھے، مچھر دانیاں استمعال کی جاتیں ہیں، ،مارکیٹ میں ایک سے بڑھ کے ایک  دستیاب مکھی ،مچھر مار  اسپرے،  گلوب ،دیرپا اثر رکھنے والے مچھر مکھی دور بھگانے والے آئل استمعال ہوتے ہیں، لکڑیوں، کوئلے کا دھواں کیا جاتا ھے ان کو دور بھگانے کے لئے،خوشبو دار فینائل کے پوچے سے فرش چمکایا جاتا ھے مگر یہ نا معقول تمام سیکورٹی گھیرے توڑ کر سر پر آ دھمکتے ہیں گویا ھم انسانوں کو چیلینج کر رہے ہوں۔ ایک واحد قوال کے ھم نَوا بچتے ہیں جن کے تالیاں پیٹنے پر یہ قریب نہ جاتے ہوں گے بلکہ مچھر اپنے میں قبیلے میں اعلان کرتا ھو گا کہ اس طرف  نہیں جانا ورنہ ھماری موت یقینی ھے۔ پچھلے دنوں کی خبر سے معلوم ھوا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کو بھی کسی اجلاس وغیرہ میں مچھر نےتنگ کیا  ساری سیکورٹی ایک طرف اور وہ مچھر ایک طرف پھر آخر خان صاحب نے بھی تالی والا حَربہ ہی استمعال کیا اور مچھر سے نجات پائی۔ مگر کچھ نا معقول مچھر ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنا مِشن پورا کر کے کامیابی سے فرار ہو جاتے ہیں ایسے مفرور مچھروں کو اللہ پوچھے۔ میرا واسطہ بھی اس طرح کے مچھر سے پڑ چکا ھے گرمیوں کے دن تھے اور کالج کے لئے روز کلاسسز لینے جانا ہوتا تھا ایک رات آنکھ لگی تھی کہ کان میں وقفے وقفے سے مچھر کی بھیں بھیں سنائی دے میں بھی فضا میں ادھر ادھر تالیاں پیٹ کے نیند کی وادی گھومتی رہی اس صبح ویسے تو عام تعطیل تھی اور صبح اٹھنے پر چہرے پر مچھر کاٹنےکا تکلیف دہ احساس تو تھا مگراتنا خوفناک ٹائپ یہ تو سوچا نہیں تھا ھوا یوں کہ بالائی یعنی اوپر والے ہونٹ کے عین درمیان مچھر نے کاری وار کیا اور مجھے جاتے جاتے کسی حبشی کا رشتے دار بنا گیا جو کہ آئینہ دیکھنے پر مجھے محسوس ھوا، کمرے میں سامنے لگے آئینے پر جوں ھی میں نے اپنا چہرہ دیکھا تو ڈر کے فوراً پیچھے ہٹ گئی،پھر ڈرتے ڈرتے دوبارہ دیکھا کچھ دیر اپنے آپ کو پہچاننے میں لگی وہ حبشیوں جیسا بالائی سوجاھوا ہونٹ ما بدولت کا ہی تھا جو ایک مفرور مچھر سے مضروب ھوا میں نےمچھر کی شان  میں نا معقول سے لفظوں کا burst fire کیا اور کہا “تو میرے ہتھے چڑہ پھر دیکھ کچل کے نہ رکھ دیا تو میرا بھی نام نہیں” ہونٹ پر مچھر کاٹے کی تکلیف وہی محسوس کر سکتا ھے جو اس تکلیف سے گذرا ہو ،  سوجن کی وجہ سے میری  تو شکل ہی بدل گئی منہ بھی ٹھیک سے بند نہ ہو واقعی میں بڑا زہریلا مچھر تھا  لوگ ایویں ہی”Botox”
  کاسہارا لیتے پھرتے ہیں مچھروں سے بھی کام چلایا جا سکتا ھے مجھے اب اندازہ ہوتا ھے۔
؎نہیں کوئی چیز بیکار خانه خدا میں
اس دن تو چھٹی نے میرے بگڑے حُلیے کا پردہ رکھ لیا اگلے دن کالج جانے کا سوچ کر ہی “حبشن حبشن”کی دوستوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں سوچاکیوں نہ اس کا کوئی حل تلاش کروں گھر والوں نے بھی مجھے دیکھا تو خالہ کی تو ہنسی نہ رُکے مجھے دیکھ کر کہنے لگیں تم وہ “پاشا” لگ رہی ہو اب مجھے ان  فنکار کاپورا نام نہیں یاد آرہا ان دنوں کراچی ٹیلی ویژن سینٹر کے ڈراموں میں وہ بہت inn تھے اور ان کو زیادہ کردار ٹینشن والے یا رونے دھونے والے ملتے تھے تو ٹینشن اور رونے کے انداز میں ان کے منہ کا انداز وہی تھا جو مچھر کاٹنے کے بعد میرا حلیہ بن گیا تھا، اب تو وہ فنکار فوت ہو چکے بہت  یاد کرنے پر بھی مجھے ان کا پورا نام نہیں یاد آرہا ان کے نام میں پاشا آتا تھا اتنا ہی یاد ھے۔
اچھا پھر میں نے خالہ اور امی کے مشورے سے اس مچھر کاٹے پر سرسوں کا تیل اورنمک کا ٹوٹکا استمعال کیا اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد آئینہ بھی دیکھتی جاؤں کیا بتاؤں یوں سمجھ لیں کہ اس ٹوٹکے کے بعد تو سوجن اس قدر بڑہ گئی کہ اوپر والے ہونٹ نے chin تک کے ایریا پر اپناقبضہ کر لیا مگر مجھے بھی اب جنون ہو چلا تھا اس حبشی حُلیے سے نجات کامیں نے بھی لگا تار 4 سے 5 مرتبہ یہی ٹوٹکا شام تک آزمایا اور بار بار آئینے میں دیکھتی جاؤں شکر اللہ کا واقعی شام تک میرا اصلی حُلیہ واپس آگیا اور مچھر کاٹنے کی سوجن واقعی اتر گئی ورنہ مجھے یہی ڈر تھا میری کالج کی دوستوں نے تو میری واٹ لگانی تھی کہ بس۔
کہتے ہیں کہ دودہ میں مکھی گر جائے تو شاید اسے پورا ڈبو کے باہر نکال کے پھینک کر دودہ استمعال کیا جا سکتا ھے اس کے ایک پرَ  میں اگر بیماری ھے تو دوسرے پَر میں اللہ نے شفا رکھی ھے مگر اس بارے میری معلومات محدود ہیں۔مگر ایک واقعہ پتہ ھے کہ ہمارے پڑنانا “میاں جی” نے سب کے منع کرنے کے باوجود مکھی دودہ میں ڈبو کے  باہر پھینکی اور پھر وہ دودہ نوش کر لیا اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی، دودہ نوش کرنے کے بعد  میاں جی کی دوڑ واش روم تک رہی پوری رات۔پھر بعدازعلاج وہ شفایاب ہوئے تھے۔
بلند آواز طویل تان  باندھنا بھی ہر ایک کے بس کی بات نہیں مگر یہ بات مجھے سوچ میں مبتلا کرتی ھے کہ اس دوران کوئی مکھی مچھر میاں تان بان لگان کے منہ کا وزٹ کرے تو کیا ہو گا؟؟؟لازماً تان ٹوٹ جائے گی منہ پر لگانے والے ماسک سے کورونا وائرس اور مکھی مچھر کو بھی خود سے دور رکھا جا سکتا ھے پھر چاھے جتنی مرضی اونچی تان باندھو منہ پر ماسک کاڈھاٹا مکھی مچھر کو دور رکھے گا۔
بقول شاعر محبوب راہی کے:
؎ آیا ہے لے کے موسم سوغات مچھروں کی
ہر سمت ہو رہی ہے برسات مچھروں کی
کم ذات مچھروں کی بد ذات مچھروں کی
ہم خوب جانتے ہیں اوقات مچھروں کی
دیتے ہیں حسب عادت بیماریوں کو دعوت
کر کر کے ہم ضیافت دن رات مچھروں کی
ہے ماجرا یہ کیسا کیا قہر ہے خدا کا
نازل جو ہو رہی ہیں آفات مچھروں کی
آتی ہیں ہنستی گاتی جاتی ہیں گنگناتی
افواج مچھروں کی بارات مچھروں کی
بچھو سے بھی زیادہ زہریلے ہو چکے ہیں
کچھ بڑھ چکی ہے اتنی اوقات مچھروں کی
پھیلا کے کیوں غلاظت آلودگی نجاست
کرتے ہیں پرورش کیوں حالات مچھروں کی
ہر چیز سے انوکھی ہر شے سے ہیں نرالی
اطوار مچھروں کے حرکات مچھروں کی
چلتی ہیں سائیں سائیں جب تیز تر ہوائیں
بنتی ہیں بن بنائے کچھ بات مچھروں کی
اس دور میں ہے قلت ہر چیز کی مگر ہے
افراط مچھروں کی بہتات مچھروں کی
اپنا لہو پلا کر ہم لوگ راہیؔ اکثر
کرتے رہے تواضع دن رات مچھروں کی-