ڈرائنگ پیپر


ڈرائنگ پیپر

ڈرائنگ پیپر:۔
قارئین کرام!
میں اُس  وقت چَھٹی جماعت میں تھی جب اِدھر اُدھر کہیں پڑھ بیٹھی “اپنی ناکامی پر مُسکرا دو،کامیابی حاصل ہو جائے گی”
اُس وقت میں اپنی محدود عقل کے میدان میں روز سوچ کے گھوڑے دوڑاتی اور یہ سوچتی آخر یہ جادو کیسے ہو سکتا  ھے کہ صرف مُسکراہٹ سے کوئی کامیابی ملے؟ پھر میں نے سوچا کیوں نہ اس کے لئے کوئی تجربہ کر لیا جائے   سو تجربے کے لئے مزید انتظار نہ کرنا پڑا اور 6th کلاس کے ششماھی امتحان half yearly exam کا رزلٹ کلاس میں ہی سُنایا گیا اور ہمارا  ڈرائنگ کا پیپر کلاس کی جانب کر کے دکھایا گیا تو سب نے اجتماعی قہقہہ لگایا جس کی میں تاب نہ لا سکی اور ڈیسک کے نیچے چُھپ گئی پھر ایک آنکھ سےڈرتے ڈرتے دیکھا تو میں نے کیا ہی ڈرائنگ پیپر کیا ھوا تھا، ڈرائنگ پیپر ميں نہ نظر آنیوالا ایک  بہت چھوٹا پھول، بالکل غلط شیپ کے ہینڈل والا چائے کا کپ، ٹیڑھے پیندے والا ایک ادھورا مَٹکا،ایک عدد طوطا جسکی ڈیڑہ ٹانگ اور اس کے پَروں کے نام پر سمندر کی سی خوفناک اٹھتی مدوجزر کیفیت والی سی لہریں اور ٹینس کا ٹیڑھا ریکٹ جس کی گرپ کہیں اور باقی ریکٹ کہیں اور یہ سب میں نے draw کیا ھوا تھا اور ششماھی پیپرز کی کاکردگی کی  رُونمائی  یعنی اوپننگ کی ابتداء ہم سے ہی ہوئی تھی سو 50/0 اسکور تھا یعنی ہم انڈے پر آؤٹ ہو گئے تھے۔ اور اس وقت نا معلوم اسکالر کے وضع کردہ اصول کے مطابق جو ڈرائنگ میں فیل وہ پورا فیل مانا جائے گا اور اعمال نامے میں یعنی رپورٹ کارڈ میں سرخ قلم سے “fail” ٹیچر کی طرف سےلکھ دیا جائے گا یہاں تک تو پھر بھی ٹھیک تھا مگر آگے کی مصیبت یہ کہ اس پر والدین سے دستخط کروا کے لانا ہو گا اور parent- teacher meeting پیرینٹ ٹیچر میٹینگ کی الگ ٹینشن۔
اب اس میں ھمارا کیا قصور کہ باوجود کوشش کے میرے اندر کا مصور نہ جاگا تو میں کون سا کوئی گُل جی کی رشتے دار یا(picasso) پِکاسو کی پڑوسن رہی تھی کہ مصوری میں نام پیدا کرتی میں نے بہت کوشش کی میرے اندر کا مصور ہوش میں آجائے ڈرائنگ ورک بک پر پینسل سے زیادہ ربڑ کے استمعال سے صفحات گِھس گئے مگر نہ ہی میرے اندر کا مصور اٹھا اور نہ ہی ڈرائنگ آئی، دراصل ڈرائنگ کی پریکٹس کرتے کرتے میں abstract art یعنی تجریدی آرٹ کی طرف نکل گئی تھی اور بد قسمتی سے میری ٹیچر میرا ٹیلنٹ  ہی نہ سمجھ سکیں ورنہ میرا تخلیق کردہ ادھورا  ڈیڑھ ٹانگ والا طوطا جس کے پروں کے بجائے سمندر کی لہریں موجود تھیں یہ کچھ تجریدی آرٹ  ٹائپ کا میرا پہلا شاہکارنمونہ بھی شمار ہو سکتا تھا  اسے بس سمجھنے والی نظر نہ تھی میری ٹیچر کی، سو  انڈے والے برگر کی طرح یہ انڈے والا پیپر اور  اعمال نامہ یعنی رپورٹ کارڈ لے کر ھم  گھر آگئے، جمعرات کا دن تھا اور جمعہ ہفتہ چھٹی اور اتوار کو سائن کردہ رپورٹ کارڈ مس کو دینی تھی،میں نے جمعرات کی شام جمعے کا دن اور ہفتے کی شام تک الگ الگ کمروں میں مختلف پوزینشنز بدل بدل کر کبھی رپورٹ کارڈ سیدھی پکڑ کر کبھی اُلٹی پکڑ  کر بہت بہت مُسکرا کے اس کو دیکھا کہ شاید جادو ہو جائے اور  کامیابی مل جائے اور ریڈ پین سے لکھا ھوا fail گرین پین سے لکھے pass میں بدل جائے مگر نہ جناب کوئی جادو نہ چلا  پتہ نہیں کون سے لوگ ہوتے ہیں جو صرف فیل ہونے پر مسکراتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں خیر پھر پہلے امی کو سب کچھ بتا کے مدد مانگی امی نے  کہا نہیں میں بالکل سائن نہیں کروں گی اپنے ابو کو ہی بتاؤ امی کے انکار پر ہم  ذھنی طور پر ابو کے ہاتھوں اپنی شامت   کے بارے میں سوچتے  مَرے قدموں کے ساتھ ابو کے پاس گئے اور رپورٹ کارڈ ابو کو پیش کردی۔  ابو نے اِک نظر رپورٹ کارڈ  دیکھی پھر مجھے  اِس کیفیت سے دیکھا گویا تسلی کر رہے ہوں یہ انڈے پر آؤٹ ہونے والی نالائق اولاد میری ہی ھے۔۔۔ سائن تو ابو جی نے کر دیئے مگر جو ڈانٹ پڑی بس نہ پوچھیں  پھر یوں ھوا کہ چراغوں میں روشنی نہ رھی۔
    پھر آخرکار میرے اندر کا مصور فائنل ایگزام سے کچھ عرصہ قبل  انگڑائی لے کر اٹھ ہی بیٹھا اور میں نے محلے میں ہی ایک دوسری مس سے ڈرائنگ کلاسسز  لے کر ٹہنی پر بیٹھا طوطا ،بیٹ بال،پیارا سا  ایک hut انگور کے گُچھے،نارنگی، آم،کیلے اک عدد کَٹا ھوا انار اس کی پھانکیں اور اس کے دانے، بھنڈی و بینگن کی ڈرائنگ بنانا سیکھا ان مس نے ہمیں ڈرائنگ میں lines کی trick سے کچھ بھی draw کرنا بتایا تھا جبکہ ہماری اسکول ٹیچر یہ والا بنیادی اصول بتائے بغیر سیدھا کسی بھی object کا sketch  تیار کرنے کا کہہ دیتیں تو مجھے تو کچھ سمجھ نہ آتا تھا یہ پوائنٹ کلیئر ھوا اور  پھر اک طرح کی تجریدی آرٹ نما  یہ بھی مشق کی کہ آلؤوں کے چار ٹکڑے کر کے ان پر رنگ برنگی روشنائی کا استمعال کر کے پھر ڈرائنگ پیپر پر ایک خاص تکنیک سے کچھ دیر تک آلوجما کے ایسے  ایسے تجریدی آرٹ کے نمونے تخلیق کئے کہ بعد میں اچھے نمبرز کے ساتھ فائنل ایگزام ہی پاس کر لیا   art&craft  کا یہ سلسہ آٹھویں کلاس تک رہا، گُڈی کاٹ یعنی craft paper سے  رنگ برنگی کشتیاں،پتنگیں،مختلف ایونٹس کارڈز اور رنگ برنگے پھول، نیوز پیپر کٹنگ سےگڑیا کا فراک، بِب اور ایک عدد شمیم آراء اسٹائل کی قمیص کا draft بھی مس نے تیار کروایا جس کی وجہ 1970 کا جاری کردہ اسکول syllabus سلیبس تھا اور ھم “عینک والا جن دیکھنے والے پاکستانی بچے” ہم نے لاکھ کہا مس اب تو  لانگ شرٹ کا رواج ھے مس نے کہا جی بیٹا بالکل ھے مگر آپ کے سلیبس میں نہیں ھے  اب جو سلیبس ھے وہی کرنا پڑے گا اور آٹھويں کلاس تک یہ میرا معمول رہا کہ ڈرائنگ پیریڈ ختم ہونے کی بہت خوشی ہوتی تھی، اتنی خوشی تو مجھےinterval کی  بھی نہیں ہوتی تھی ۔ اور مزے کی بات ہمارا ہی وہ آخری  batch تھا جس پر اتنی سلیقہ شعاری کی ٹریننگ زبردستی ٹھونس دی گئی ہمارے پاس آؤٹ ہونے کی دیر تھی کہ اسکول میں  art&craft کے بارے میں  تمام اصول ماہرین تعلیم نے ختم کر دیئے کیا ہو جاتا وہ یہ فیصلہ دو چار  سال پہلے کر لیتے اگر۔ یا پھر ماہرین تعلیم یہ بھی تو کر سکتے تھے کہ آرٹ اینڈ کرافٹ کی بجائے God- given Talent کا آپشن رکھ دیتے پھر تو ہر اسٹوڈنٹ ہی کچھ نہ کچھ کر دکھاتا اب  جیسا کہ میں اسکول میں دوستوں کی فرمائش پر بلی کی آواز ،گدھے کی آواز اور hurt puppy کی آواز بڑی شاندار نکالتی تھی ، اور ایک دن اسپورٹس کی ٹیچر نے مجھے گدھے کی آواز نکالتے سُن لیا تھا تو پورا وقت اسپورٹس گراؤنڈ میں Throw ball کھیلنے کی سزا یہ کہہ کر دی کہ جتنی اونچی تم نے گدھے کی آواز لگائی ھے نہ اب ویسے ہی یہ کھیل کر دکھاؤ، اب کوئی اور کھلاڑی بھی موجود نہیں خود ہی گیند تھرو کرو اور  خود ہی اٹھا کے لاؤ ،سزا کا دورانیہ آدھا گھنٹہ پورا کیا تو کلاس میں واپس جانےکی اجازت ملی۔  تو اگر خداداد صلاحیتیوں کو پرکھاجاتا یا  talent چیک پیپر رکھ دیا جاتا تو شاید میں بھی ٹاپ کرتی۔

میں بھی بن گئی کاکروچ کِلر


میں کاکروچ کِلر کیسے بنیں؟
پہلے کاکروچ دیکھتے ہی میرے اوسان خطا ہو جاتے تھے جہاں کاکروچ نظر آ جائے وہاں سے بس بھاگ جانے کا ہی خیال آتا تھاـ
جیسا کہ میں نے “قصہ کلینک کا” میں بھی اس کا ذکر کیا ھے۔ ایسے ہی ایک مرتبہ گرمیوں کی اک شام میں شاور لیتے چند سیکنڈ گذرے ہوں گے میرے منہ سے ایک دم  زور سےنکلا ہائے امی جی!!! اچانک ایک نا ہنجار کاکروچ پتہ نہیں کہاں سے ادھر آنکلا  اس نے یہاں آنے کی غلطی تو کر لی مگر اس کی شامت اب لازم تھی کہاں کا شاور، کیسا ٹھنڈا پانی ،سب کچھ مجھے بھول گیا، ہو آں ہا ہو جیسے آوازیں منہ سے نکلنے لگیں امی کچن سے کام چھوڑ کر ادھر آگئیں جہاں میں کاکروچ دیکھ کر ہو آں ہا ہو کر رہی تھی امی نے باہر سے  پوچھا تم شاور لیتے کیا ہوا گِر گئی ہو کیا؟ میں نے غسل خانے سے کہا نہیں ایک لال بیگ آگیا ھے اور جلدی جلدی  ہپڑ دھپڑ میں الٹی قمیص اور پاجامے کے ایک ہی پائنچے میں دونوں ٹانگیں پھنسا کے غسلخانے سے باہر بھاگتی آئی امی نے مجھے غضنبناک نظروں سے دیکھا اور کہنے لگیں ایک لال بیگ ہی تھا  تم اسے مار بھی سکتی تھیں کھا نہیں جاتا تمہیں پھر امی نے   چپل سے کاکروچ کا قیمہ کیا اور باہر پھینک دیا میں نے ڈرتے ڈرتے غسلخانے میں قدم رکھ کے ادہر ادہر دیکھا کہ لال بیگ کےرشتے دار نہ موجود ہوں مگر اس دفعہ لال بیگ کا باقی قبیلہ زیر زمین چلاگیا تھا اور ہم نے پھر آرام سے شاور لیا۔  ایک بار کمرے میں ایک لال بیگ کی لاش پڑی تھی اور میں ابو کو لے کر آئی کہ اسے باہر پھینک دیں ابو نے لال بیگ پھینکتے ہوئے کہا بیٹا اپنا آپ دیکھو، اپنا قد دیکھو  یہ لال بیگ تمہارے صرف ایک پاؤں کی مار ھے اس سےکیوں ڈر تی ہو میں نے فٹا فٹ کہا تو یہ بھی ھے کہ میں چھپکلی سے تو نہیں ڈرتی مگر اسے دیکھ کر پتہ نہیں کیا ہو جاتا ھے ابو نے کہا ڈرنا چھوڑ دو اپنے ہاتھ سے دو تین لال بیگ مار ڈالو ڈر نکل جائے گا، جب تک گھر والے لال بیگ مارنے میں میری مدد کرتے رہے یوں ہی چلتا رہا مگر حالات میں تبدیلی تو ہوتی  رہتی  ھے یہی قانون قدرت ھے۔
اب میں کچھ کوشش کر کے کاکروچ کو موت کی وادی  بھیج دیتی ہوں۔ جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔
میں  اتنی بزدل اب
کاکروچ  کِلر کیسے بنیں یہ میں آج آپ سے شیئر کرتی ہوں۔
میری بہن چھپکلی سےڈرتی ھے اور
میں ( ,سفید, نیلے, پیلے, لال بیگ) کاکروچ سے بہت ڈرتی تھی۔
تو ھم دونوں میں ایک مُعاہدہ تھا جیسے کچھ
ممالک کے درمیان سرد جنگ جیسی کیفیت ہوتی ھے ویسا، مُعاہدے کی رُو سے یہ شرائط اس وقت بھی ماننا پڑیں گی
جب ہم  بہنوں میں کسی بھی لڑائی کی وجہ سے بات چیت بند ہو۔فائدہ چونکہ ہم دونوں کا ہی  تھا
تو یہ شرائط
پوری کرنا پڑیں۔
تو اگر  اسے چھپکلی کہیں نظر آئے گی تو اپنی بہن کو اس سے نجات میں مدد دوں گی،
اور اگر کاکروچ نظر آیا تو وہ میری مدد کرے گی۔ مُعاہدے کے تحت چھپکلیوں اور لال بیگوں کا قتلِ عام زوروں پہ تھا پھر یوں ھوا کہ بہن کی شادی ہو گئی۔ گھر میں ویسے تو سب ہی کاکروچ کو مار کے میری مدد کر دیتے تھے مگر کبھی یوں بھی ہوتا کہ کاکروچ کو مارنے کے لئے  اپنی مصروفیت کی بنا گھر میں کوئی فرد نہ مل پاتا اب میں نے خود ہی  کاکروچ سے نجات کے لئے کچھ اقدامات کئے۔سب سے پہلے تو خوب سارے  بہادری کےmotivational quotes سےخود کو باور کرایا کہ تم بھی کاکروچ کِلر بن سکتی ہو پھر دوسرا کام یہ کیا کہ ابھی تک کاکروچ کو صرف ایک آنکھ سے یا دھندلی نظر سے دیکھتی ہوں اور اکثر دیکھے بغیر وائپر سے  گھسیٹتے ہوئے  دور پھینک دیتی ہوں اور کاکروچ کے فوری خاتمے کے لئے کمرے میں،کچن میں واش روم میں ہر جگہ کاکروچ کِلر اسپرے رکھا اور ایک عدد جھاڑو اضافی اسلحے کے طور پر رکھ چھوڑا وائپر  سے کاکروچ کی لاش ٹھکانے لگانے کا کام لیا کچن کبرڈز میں بورِک ایسڈ پاؤڈر ڈال کر شیٹس بِچھا دیں ۔وائپر سے کاکروچ کی لاش کو دیکھے بغیر ہِٹ کر کےدور پھینکنے سے حوصلہ بلند ہوا کبھی یہ کھیل ہاکی سمجھ کے کھیل لیا کبھی کاکروچ کوگولف کی گیند بنا کے زور دار ہِٹ لگا دی ، واہ واہ میری بہادری پر اب اکتالیس توپوں کی سلامی تو بنتی ھے نا۔ اور تمغہ جرات و بہادری تو ھم نے اپنے آپ کو خود ہی دے رکھا ھے۔ میری جراتوں کو سلام۔

جوتے،سینڈِلز اور سیل


جوتے” کی زندگی میں کتنی اہمیت ھے اس کے بغیر زندگی ادھوری ھے جوتے دشمنوں پر برسائے جاتے ہیں وزیروں پر چلائے جاتے ہیں اور نظر بد سے محفوظ رہنے کو پاک و ہند میں گاڑیوں میں لٹکائے جاتے ہیں۔ اسکول میں ہم  پاکستانی مشہور برینڈ کے بَکل والے شوز بڑے شوق سے پہن کر جایا کرتے تھے مگر کالج تک پہنچتےنہ جانے اس پاکستانی برینڈ کا معیار گر گیا یا ہمارے پاؤں بہت حَساس ہو گئے اس برینڈ  کے جوتے جب جب پہن کر کالج کی راہ چلوں تو پاؤں کی دونوں چھوٹی انگلیاں  انگوٹھوں اور ایڑی کے پاس چھالے پڑ جائیں، ایک دن ایسا ہوا چھالے تو پڑ گئےمگر  چلتے وقت لاکھ کوشش کر لوں تکلیف کی وجہ سے چال میں لڑ کھڑاہٹ آ گئی میں اپنی دوستوں کے ساتھ کالج کی چھٹی ٹائم پر کالج وین کا انتظار کر رہی تھی   جس کے لئے کچھ فاصلہ پیدل طے کرنا تھا کوشش کے باجود میں چھالوں کی وجہ سے  جب لنگڑانہ چال چل رہی تھی تو  قریب سے  بوائز کالج کے کچھ بھائی لوگ گذرے مجھے دیکھ کر کچھ جان بوجھ کر لنگڑا لنگڑا  کے چلنے لگے اور کہتے جاتے میں بھی لنگڑا ہوں، میں نے اس بے تُکے انداز کو نظر انداز کرنا مناسب سمجھا اور اس دن کے بعد سوچا کہ اس طرح کے جوتوں اور جوگرز جن میں پاؤں کے انگوٹھے کا مسئلہ ہوتا ان سب کی بجائے  کیوں ناپَمپی شوز لے لوں بلکہ یاد آیا کہ اس کا ایک جوڑا بلیک کلر میں تو گھر میں ہی موجود ھے اگلے دن کالج آف تھا اور اس کے اگلے دن صبح کالج وین نہ آسکی توہم پَمپی شوز  پہن کر کالج کے لئے خود ہی نکلے جب تک چھالوں میں بھی کافی آرام آچکا تھا مگر یہ کیا عین بیچ سڑک پر پمپی نہ جانے کیوں بار بار پاؤں سے اُترے جائے، اور جب میں تھوڑا پاؤں زور سے دبا کر چلوں تو پمپی کی ہیل کی ٹَک ٹَک ایک “ٹک ٹکر ٹک ٹکر” میں گونج جائے صبح کے 8:30 پر جبکہ ابھی گنجان گلیوں میں کچھ خاموشی کی باقیات ہوں تو یہ آواز بڑی بدنما لگے۔پمپی شوز کے بار بار اترنے اور پاؤں جمانے میں کالج تک کا فاصلہ طویل سا ہو گیا بہرحال پھر آرام دہ جوتے مل ہی گئے۔ اور کالج کا سفر ان کے ساتھ چلتا رہا۔
سیل(sale) کتنا خوبصورت اور پُرکشش لفظ ھے، ھم خواتین کے لئے یہ تو ہم خواتین ہی جانتی ہیں۔مگر قارئین کرام اس لفظ کی کشش کے ہاتھوں جو واقعہ پیش آیا میں نے پکی توبہ کر لی سیل کی  چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھنا ویسے بھی میری زندگی کی اب تک یہ دوسری اورآخری سیل شاپنگ تھی۔ طارق روڈ رحمانیہ مسجد کے قریب مشہور برینڈ کے جوتوں کی  ایک مرکزی دکان ھے اھلیان کراچی تو اس سے بخوبی واقف ہوں گے وہاں پر خواتین کے بہت خوبصورت سینڈلز کی “سیل” لگی ہوئی تھی اور سیل میں ایک سال پہلے کی جوتے کی قیمت اور اب سیل میں رعایتی قیمت کی تفصیل مختلف دکاندار لڑکے فراہم کر رہے تھے ہم  نے ویسے ہی سینڈلز کا جائزہ لیتے ہوئے ایک ورکر سے سوال کیا کہ کیا وجہ ھے کہ آپ سینڈلز اتنی رعایتی قیمت پر دے رہے ہیں اسنے کہا دکان خالی کرنا ھے تاکہ نیا مال لا کے رکھا جائے جبکہ قریب سے گذرتے دوسرے دکاندار نے کہا جو مال بِکتا نہیں اسے “سیل”پہ لگا دو بس پھر دکان خالی اس دوسرے والے دکاندار کی بات بالکل ٹھیک لگی  مجھے مگر کافی بعد میں وہ بھی ایسے کہ دو پیارے سے ہیل والے سینڈلز کے جوڑے پسند آنےپر پیک کروا کے گھر کی راہ لی اگلے تین چار دن بعد جب ان میں سے ایک پہن کے ہم نے اپنے گھر سے پانچ سات گھروں تک کا فاصلہ طے کر لیا تو ایک کالی بلی نے ہمارا راستہ کاٹا اوردوسری جانب مڑ گئی جبکہ مجھے کبھی وہم نہ ھوا کہ کالی بلی راستہ کاٹے تو کچھ اچھا نہیں ہوتا،مگر یہ کیا سینڈل کی پہلے ایک پٹی ٹوٹی پھر بکل والا حصہ ٹوٹ کر الگ جھول گیا وہ بھی عین سڑک پر تو  واپس جوتے تبدیل کرنے کے لئے گھر کی طرف مُڑی ابھی چل ہی رہی تھی کہ اس ٹوٹے سینڈل کی آخری پٹی بھی دَم توڑ گئی جس کے سہارے میں اس سینڈل کو پاؤں میں پھنسائے چل رہی تھی میں کچھ دیر ویسے ہی کھڑی رہی پھر آخر کار کچھ سمجھ نہ آیا تو اس ٹوٹے سینڈل کو ہاتھ میں تھاما اور فقط ایک سینڈل جو تھا بھی ہیل والا عجیب چال چلتے گھر کی طرف بڑھنے لگی مگر اس ایک سینڈل کی اچانک ایڑھی اور دو پٹیاں یکدم ٹوٹ کے یوں الگ ہو گئیں جیسے بقر عید کے دنوں میں بکرا منڈی میں کوئی ایلفی سے سینگ جوڑے بکرا بیچ جائے اور بکرے کے سینگ گھر تک جاتے مالک کے ہاتھ میں رہ جائیں اور بکرا کہیں رہ جائے۔قارئین کرام اب بھی ایک پوری گلی کا راستہ باقی تھا مگر شکر ھے کہ یہ سڑک کشادہ اور صاف ستھری تھی اور صبح کے دس بجے اکا دکا ہی لوگ تھے میں نے ادھر ادھر دیکھا کوئی دیکھ تو نہیں رہا ڈرتی ورتی تو میں کسی سے نہیں ہاں ٹوٹی سینڈلز کی تو بات ہی اور ھے نا میں نے  ان ٹوٹی سینڈلز پر ایک قہر آلود نظر ڈالی اور پھر سینڈلز پر لعن طعن بھیج کر  ان سینڈلز کو وہیں چھوڑا اور ننگے پاؤں گھر کی جانب چلی اور خود سے کہتی جاتی میرے راستے میں کہکشاں نہیں سعدیہ عرف ننگ پیری!!!گھر جا کر ڈور بیل بجائے جاؤں کہ کوئی تو دروازہ کھول دو  مجھے ننگے پیر نہ کوئی دیکھ لے اندر سے سب کی باتوں کی آواز آئے جائے مگر دروازہ کھولنے کوئی نہ آئے خیر گھر کا دروازہ کھلا اور ہم ابو کو جوتوں کے بارے بتاتے تیزی سے گھر میں داخل ہو گئے۔ اورجوتے تبدیل کر کے اپنے سفر کی راہ لی۔
ان دو تین جوتوں کے تجربات کے بعد ہم نے ہمیشہ پاؤں کے لئے آرام دہ، دیر پا جوتے کو ترجیح دی، دو پٹی کی چپلیں ،سلیپرز اور فلیٹ سینڈلز جن میں پاؤں آرام دہ رہیں چاھے ایسے جوتے دِکھنے میں کتنے بد نما ہوں ہم یہی استمعال کریں گےیہ بھی قابل ذکر بات ھے کہ اس  ہی دکان کے برینڈ نیو آرام دہ شوز کی کلیکشن اور براڈ ہیل والے سینڈلز تو لا جواب ھیں اور ہمارے زیر استمعال ھے  اور رہی خوبصورت نازک ٹَک ٹَک ہیل والی سینڈلز ان سے تو ہم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دور رہیں گے۔ الوداع اے نازک ہیل والے سینڈلز اور ہاں یاد آیا قارئین کرام ہمارا سیل شاپنگ کا دوسرا سینڈلوں کا جوڑا جو شاپنگ بیگ میں ہی دم توڑ گیاتھا جگہ جگہ سے کلر اترا ہوا اور خستہ پٹیںاں گویا ہزار سال بعد شاپنگ بیگ کھولا ہو حلانکہ صرف ایک ماہ کی کہانی ھے یہ، ان سے لاکھ درجے بہتر تو آج بھی فراعین مصر کی ممیاں ہوں گی۔

پروین


ہر انسان کی زندگی میں بہت سے یادگار واقعات پیش آتے رہتے ہیں ایسا ہی یہ واقعہ میرے لئے بڑا یادگار ھے
ہم پرانے محلے میں جہاں رہتے تھے وہاں پروین نامی خاتون  بھی رہتی تھیں جن کے نام کو بگاڑ کر  سب “کالو پروین” کہتے تھے جس کا سبب ان کی قدرے گہری سانولی رنگت تھی،اور وہ مسیحی برادری سے تعلق رکھتی تھیں ان دنوں کرسمس میں ایک  دو ہفتے باقی تھے اور میرے پیپرز چل رہے تھے گھروں کا فاصلہ قدرے کم اور گلیاں بھی کچھ زیادہ کشادہ نہ تھیں تو محلے میں چچا کریم کے خراٹے، رضیہ آپا کے ٹوٹکے،ببلی باجی کی محلے کی بی بی سی سروس پپو،میگی ،پنکی ،ڈونا،مونا،شانو  نامی بچوں کی والدین کے ہاتھوں پٹائی اور اس کےبعد ان کا زور زور سے رونا، سوٹڈ بوٹڈ وکیل کے پیچھے کسی کے کہنے پر  لگے شرارتی بچوں کے جعلی وکیل جعلی وکیل کے نعرے،جرمنی  سے پی ایچ ڈی کر کے واپس پاکستان آنیوالا  جو حقیقت میں پاگل ہو کر گلی میں اور سڑکوں پر چاک سے  الجبرا کے بہترین فارمولے اور سوال جواب لکھ ڈالتا اور ہر چار پانچ لڑکوں کے گروہ کو روک کر کہتا “لوگو  سنوں میں  آگیا ھوں تمہاے تمام مسئلوں کو میں حل کر دوں گا”لڑکے بھی کبھی سنتے اور کبھی اس سے تفریح کرتے،خواتین اس سے ڈر کر مزید سڑک کے کنارے  ایک طرف چلتیں والدین ایک دوسرے سے کہتے نظر آتے یہ زیادہ پڑھائی بھی انسان کو پاگل کر دیتی ھے دیکھو اسے کیا ملا ،  ہر  دوسرے گھر میں قہقہے یا لڑائیاں ،کیبل نشریات کی زور دار آوازیں،ٹین ڈبے،گول گپے اور باقاعدہ مائک کا استمعال کر کے سبزی بیچنے والے خود ساختہ بھونڈی آواز والے گلوکار،یہ سب ہی مل ملا کے حقیقت میں گلی کی رونق کا باعث تھے آج یہ سب چیزیں قبرستان جیسی سناٹے والی پوش جگہوں پر کم سے کم مجھے بہت یاد آتی ہیں جن سے ایک وقت تھا میں بہت ناراض ہو جاتی تھی کیونکہ پیپرز کے دنوں میں مجھے خاموش ماحول میں ہی پڑھنے کی عادت تھی زیادہ تر رات کو ہی پیپر کی تیاری ہو جاتی تھی مگر جن پیپرز میں گیپ کم ہوتا تھا تو دن میں بھی تیاری کرنا پڑ جاتی اور میرا وہ پرانا محلہ فُل آبادی و خانہ بربادی ٹھرا٠ تو ان دنوں جب اکنامکس اور پولیٹیکل سائنس کے پیپر میں گیپ کم تھا میں دن میں اکنامکس کے  پیپر کی فائنل تیاری کے بعد خود ہی اپنا viva لے رہی تھی اور جو پوائنٹس ٹھیک یاد  نہیں تھے انہیں لکھ کر یاد کر رہی تھی میکرو اکنامکس اور مائیکرو اکنامکس کی مثالیں سمجھتےاور لکھتے میرا قلم رُک گیا کانوں میں آواز آئی”میری زندگی کے مالک،میرے دل پہ ہاتھ رکھ دے۔۔۔۔ اس کے ساتھ ھی اپنے گھرصحن میں برتن مانجھتے کالو پروین کی  زور دار آواز آئی اے حنٰی ڈیک کی آواز تو تیز کر میرا پسندیدہ گانا ھےحنٰی بھی آخرکالو پروین کی بیٹی تھی اس نے بھی فُل والیوم کر کے چھوڑا”تیرے آنے کی خوشی میں میرا دم نکل نہ جائے”۔

please click on preview post

کالو پروین اس گانے کو روزانہ کسی دوا کی طرح تین سے چار بار ڈیک میں سنتی تھی میں نے وہاں سے کتابوں کے ساتھ ہجرت کی اور اگلے کمرے میں آگئی مگر ڈیک کی آواز تو یوں آرہی تھی جیسے کسی میوزک کنسرٹ پر انسان موجود ہو،میں نے پڑھنے کی کوشش کی پاکستان کے پرائیویٹ بینکوں کی نئی شاخیں اور سرکاری بینکوں کی قرضہ پالیسیاں و شرائط  ۔۔۔پھر ملی جلی آواز کالو پروین کے گھر میوزک کنسرٹ نہ رُکا  “مسٹر لووا لووا تیری آنکھ کا جادو ۔۔ھے اوو آآ  اور پھر تیز میوزک

please click on preview post

میں نے وہاں سےکتابیں اٹھائیں اور سیدھا چھت پر چلی آئی کہ کچھ ہلکی دھوپ بھی سینک لوں اور شاید میوزک کی آواز کم ہو تو پڑھ لیا جائے مگر چھت پر تو ھوا کے دوش پر میوزک کی لہریں  اور بھی تیز تھیں  “تم تو ٹھرے پردیسی ساتھ کیا نِبھاؤ گے” 

please click preview post

میرا اگلا سوال تیاری کا: آئی ایم ایف کی نئی  قرضہ شرائط، ڈبلیو ایچ او ،ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی  تیسری دنیا کے ممالک کے  لئے اسپتالوں اور صحت عامہ کے لئے قرضہ پالیسی “راجہ میاں چھڈ دؤ یاری چنگی نئ اوعشق بیماری عشق نہ چھڈے کوج وی پلّے ہو گئی تیری بَلّے بَلّے۔۔۔۔

please click preview post


قارئین کرام بس کچھ نہ پوچھیں مجھے تو ایسا لگا کہ یہ پیپر میرا گیا اور میں نے فیل ہو جانا ھے اور کالو پروین کے سنگ ڈیک پہ رنگ برنگے گانے سنناہی رہ جائے گا مگر اگلے دن پیپر ختم کر کے میں انچارج کو اپنی کاپی دے چکی تھی اور کمرے سے نکلنے والی تھی کہ امتحانی سوالات کے کچھ پوائنٹس کی دماغ میں آمد آمد ہو گئی تو اپنے ایگزامن انچارج سے اپنی کاپی معذرت کے ساتھ یہ بتا کے لی کچھ پوائنٹس لکھ دوں تو انہوں نے مہربانی کی بس یہ کہا آپ اب جو لکھو میری ٹیبل پر ہی کاپی میرے سامنے رکھ کر لکھ دیں اندھا کیا چاھے دو آنکھیں میں نے جھٹ نیلے مارکر اور بال پوائنٹ سے مطلوبہ صفحات پر  اپنے پوائنٹس سب سے اوپر درج کئے کاپی انچارج کو تمھائی اور واپسی کی راہ لی گھر پہنچی تو کالو پروین کے ڈیک پر مسٹر لووا لووا فُل والئوم بج رہا تھا اور لائینیں تھیں “لگتا ھے مجھ کو تیری طبیعت ٹھیک نہیں”
میرا ایک بار دل کیا کہ میں آج کالو پروین کی طبیعت ٹھیک کر ہی دوں پھر خیال آیا کہ اس کے بعد میرے سب گھر والوں نے میری جو طبیعت ٹھیک کرنا ھے وہ۔۔۔ ظاہر ھے محلے داری بھی کوئی چیز ھے بس برداشت کرو اور کیا۔وہ تو شکر ھے کہ اکنامکس کے پیپر  میں پاس ہوگئی میرے سو میں سے ستر مارکس آگئے اگر میں فیل ہوتی تو میں نے کالو پروین کی طبیعت ٹھیک کرنی تھی پھر چاھے بعد میں میری گھر والے اچھی خاطر مدارت کرتے۔

قِصّہ(مطب خانہ) کلینک کا


کلینک ،ڈاکٹر صاحب  اور ہوا میں لہراتا چِلمن(پردہ)

قارئین کرام ! اپنے فیملی ڈاکٹر کےکلینک میں گذشتہ پچیس سالوں سے آنا جانا تھا اسکول سے لے کر یونیورسٹی اور پھر پروفیشنل لائف میں آنے کے بعد تک میرے والدین اور  مجھ سمیت دیگر  فیملی کے صحت کے مسائل ان تجربہ کار ڈاکٹر صاحب کے ہاتھوں ہی دور ہوتے رہے،معلوم نہیں کیا بات تھی  یا کوئی ہمیں بد دُعا تھی کہ ادھر ادھر سے کبھی دوا سے فرق نہ پڑتا، والدین جیسی شفقت بھری ڈاکٹر صاحب کی ڈانٹ اور دوا کا شاندار  نسخہ ، نسخہ وہ بھی ایسا  کہ جس کی صرف دو یا تین خوراک کافی ہوتیں ہم بھلے چنگے اٹھ کھڑے ہوتے ، یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک  ڈاکٹر صاحب کراچی سے شفٹ ہو کر گمبٹ شہر، سندھ لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر،ڈیوٹی انجام دینے نہ چلے گئے۔ ڈاکٹر صاحب جناح سندھ میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل ہیں اس کالج کو جون2012 میں یونیورسٹی کا درجہ دیا گیاتھا۔

کئی یادگار قصے میری زندگی کے اس کلینک سے وابستہ ہیں۔
  ڈاکٹر صاحب کے کلینک  میں ہم نے  ویسے  ہمیشہ بیمار ہو کے ہی حاضری دی کبهی تندرستی کی حالت میں جانے کی زحمت نہ کی مبادا ڈاکٹر صاحب برا نہ مان جائیں۔ ڈاکٹر صاحب کے کلینک  کی تفصیل کچھ یوں تھی  کہ ڈاكٹر صاحب کی کرسی کے دائیں طرف  ایک چِلمن یعنی پردہ لٹکا ہوا تھا اس طرف مریض خواتین انتظارکرتی تھیں  اور  بائیں جانب  ایک چلمن پردہ موجود رہتا یہ حصہ مرد مریضوں کے لئے مخصوص تھا درمیان میں  ڈاکٹر صاحب تشریف رکھتے تھے سامنے بڑی سی میز پر مریضوں کی فائلز، نوٹ پیڈ،پین، بلڈ پریشر کا آلہ،تھرما میٹر،  سنی پلاسٹ،  ٹشو پیپر،ٹارچ،موم بتیاں،چائے کا تھرماس،پانی کی بوتل، اور مختلف فارماسوٹیکل کمپنیوں کی ادویات  موجود ہوتی تھیں اس  کلینک کے اوپر کی منزل ڈاکٹر صاحب کے گھر کے طور پر استمعال ہوتی تھی۔

ڈاکٹر صاحب جب کلینک آتے تو کرسی سنبھال کے کچھ اس طرح بیٹھتے کہ ان کو اپنی نشست سے بار بار اٹهنا نہ پڑتا بلکہ بس  ہوا میں لہراتا چلمن(پردہ) ذرا سا ہٹا کر  مریض منتظر کو کچه مزید انتظار کا کہہ کر پہلے والے مریض میں مصروف ہو جاتے ڈاکٹر صاحب دائیں اور بائیں خود ہی چلمن گراتے  اور اٹهاتے تھے  اگر مرد مریض زیادہ ہوں  تو  پهر خواتین کی باری  آنے تک چلمن گرا رہتا  اتنے سالوں میں ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں ایک دو بار نشست کی تبدیلی کے علاوہ کوئی خاص تبدیلی نہ ہوئی تھی کبھی یوں بھی ہوا کہ  ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں اگر پنکها تیز چل رہا ہو تو  خواتین کے حصے کی طرف  کا چلمن کئی مرتبہ ہوا میں لہرا لہرا کر ڈاکٹر صاحب کے مریض میں مصروف ہونے کا ثبوت دیتا نظرآتا اگر مریض مرد  ہوتا تو خواتین والا حصہ پردہ اُڑنے سے روکنے کے لئے  کوئی نیک دل خاتون اٹهتی اور خدمت خلق کے طور پر خواتین کے حصے والا چلمن تهامے یوں کهڑی ہو جاتی گویا کسی دربار کی شاہی کنیز ہو باقی خواتین نظروں ہی نظروں میں اس خاتون کی مشکور نظر آتیں پهر ڈاکٹر صاحب کچه وقت بعد  خواتین کی جانب گلہ کھنکارتے اس بات کا اعلان کرتے جس خاتون مریض کی باری ھے وہ آجائے  یہ قصہ یونیورسٹی کے آغاز کے دنوں کا ھے اور  شاید مجھے ڈسٹ الرجی ھو گئ تھی اور کلینک فون کرنے پر معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب چونکہ رائے ونڈ جماعت سے بھی وابستہ ہیں تو کسی دورے کے سلسلے میں کراچی سے باہر تھے اور ایک ہفتے بعد واپسی تھی میں نے قریبی اسپتال میں چیک اپ کروایا جہاں اس وقت  ایک ٹرینی لیڈی ڈاکٹر ہی دستیاب تھیں، انہوں نے ھی مجھے ان  ٹیسٹ اور  ایکسرے کا کہا تھا ان کی دوا سے تو افاقہ نہ ھوا، سو ہم وہ رپورٹس لے کر ایک ھفتے بعد اپنے فیملی ڈاکٹر صاحب کے پاس چلے گئے۔

اس دن کا  قِصّہ کچھ یوں ھے کہ  ہم سے پہلے تین خواتین اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں ان  میں سے ایک ڈاکٹر صاحب کے پاس اپنی بیماری کچه یوں سناتی نظر آئی جی ڈاکٹر صاحب مجهے افاقہ نہیں ہوا ڈاکٹرصاحب جو کہ اس وقت ان خاتون کا  بلڈ پریشر چیک کر رہے تهے  پوچهتے ہیں فلاں فلاں دوا کا استمعال کب کب کیا جواب آیا  ایک یہ والی تو دوا میں نے نہیں لی تهی یہ سننا تها ڈاکٹر صاحب برہم ہو گئے اور کہا کہ جب میری دوا ہی پوری نہیں کهانی تو یہاں کیوں آئی ہو یہ کہہ کر بلڈ پریشر کا آلہ ہٹا دیا اور کہا جاؤ مجه سے علاج مت کروانا تم دوا ہی نہیں کهاؤ گی تو میں کیا علاج کروں اس نے ڈاکٹر صاحب کو یقین دہانی کروائی کہ اب اگلی بار پوری دوا کها کر ہی آوں گی دوسری مریضہ اچهی خاصی میچور تهیں ڈاکٹر صاحب نے بخار چیک کرنے  کے لئے تهرما میٹر منہ میں رکهنا چاہا تو خاتون ببل گم سے جُگالی میں مصروف تهیں انہیں ڈاکٹر صاحب نے  بچوں کی طرح ٹریٹ کرتے ہوئے ببل گم سے منہ خالی کرنے کا کہا تو مجھ سمیت وہ خاتون اپنی ہنسی پر قابو نہ رکھ سکی ان کی ہنسی پر ڈاکٹر صاحب مزید برہم ہو گئے اور فرمانے لگے تم جیسے مریضوں نے تو مجهے بهی مریض بنا دیا هے اگلی باری کے بعد جب ہماری باری آئی تو ہم نے کچھ بهی کہنے سے پہلے ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں اپنے ٹیسٹ اور ایکسرے رپورٹ عقیدت کے پھولوں کی طرح آگے کر دیں  ڈاکٹر صاحب فرمانے لگے ان کا میں کیا کروں؟  میں نے کہا ڈاکٹر صاحب  ان ٹیسٹ رپورٹس سے ہی معلوم ہو گی تفصیل ، آپ موجود نہیں تھے تو فلاں ٹرینی لیڈی ڈاکٹر نے ہمیں یہ سب کروانے کا کہا، ڈاکٹرصاحب کہنے لگے نہیں مجهے پہلے مرض کے بارے  میں بتاؤ ہم نے تمہید باندھی  کہ اتنے دن قبل ڈسٹ الرجی  ہو گئی تھی پھر بخار اور کھانسی کی وجہ سے کون کون سی دوا لی ابھی بیماری کی تفصیلی داستان جاری ہی تھی  کہ اتنے میں ایک عدد نا معقول بدتمیز لال بیگ  عین چلمن پردے پر سے اُڑتا ہمارے سر کے قریب ڈاکٹر صاحب کے کمرے کی چوکھٹ پر پیدل مارچ کرنے لگا  اور دنیا کی یہ وہ واحد چیز جسے دیکهتے ہی میری سِٹّی گم ہو جاتی ھے تو میں نے اپنی داستانِ مرض  تو  وہیں چهوڑی اور  منہ سے کچھ کہے بغیر  ڈاکٹر صاحب کے کلینک سے باہر کی طرف دوڑ لگائی کیونکہ میری سِٹّی جو گم ہو گئی تھی میری تقلید میں کلینک میں موجود تمام عقلمند جو کہ عقل بند خواتین تهیں انہوں نے بهی میرے پیچهے پیچهے بهاگنا شروع کر دیا کہ پتہ نہیں کیا ہوا، کیا ہو گیا؟ بس آپ سمجه لیں اب  وہ خواتین اور ان کے خدشات!!!
   بهاگتے ہوئے خیال آیا کہ رپورٹس تو ڈاکٹر صاحب کی ٹیبل پر ہیں کہا  تها کہ ڈاکٹر صاحب انہیں دیکھ لیں پر ڈاکٹر صاحب نے نہیں سنی وہ بھی اب لال بیگ نہ چیک کر رہا ہو  بہر حال اپنی پیروی کرتی بهاگتی هوئی خواتین کو بهی میں نے روکا اور خود کو بھی بریک لگائی اور انہیں بتایا کہ بس اک لال بیگ چلمن پر نظر آگیا تها اور سب امن شانتی ھے  پهر وہاں سے سب قافلہ  واپس کلینک کی طرف آگیا ویسے تب تک ڈاکٹر صاحب کو بھی صورتحال کا اندازہ ہو چکا تها اور  لال بیگ  مارا جا چکا تها ہم نے  شرمندہ شرمندہ  دوبارہ داستان مرض کا سلسلہ جوڑا  اور ڈاکٹر صاحب  نے جب تک ٹیسٹ اور رپورٹس دیکھ لیں تھیں اور کچھ حیران ہوتے بس اتنا کہا غیر ضروری ٹیسٹ ہیں پھر ڈاکٹر صاحب نے ہمیں کچھ دوا کے بارے ہدایات دیں انکی ہدایات پہ جی جی کی گردان لگا ئی  اور چلمن سے بچ بچا که واپسی کی راہ لی .ویسے ایک بات ھے جب میری  تقلید میں اندھا دھند خواتین  میرے پیچھے پیچھے  بھاگ رہی تھیں تونہ جانے کیوں چند سیکنڈز کے لئے  لیڈرانہ خیالات نے دماغ میں جنم لیا تھا کہ واہ کیا بات ھے میری۔۔۔،میں کتنوں کی لیڈرانہ مگر درحقیقت بزدلانہ رہنمائی کر سکتی ھوں ویسے تو میں ڈرتی ورتی کسی سے نہیں ہاں لال بیگ کی تو اور بات ھے نا۔
ڈاکٹر صاحب نے ہمیں صرف پانچ دن کی دوا دی تھی اور پانچ دن بعد دوبارہ  آنے کا کہا دوا صرف دو دن لی تو مجھے ایسا محسوس ھوا کہ بالکل ٹھیک ہوں بہت زیادہ اچھا صحت پر فرق پڑا جب پانچ دن پوری دوا کے بعد ہم نے ڈاکٹر صاحب کے کلینک حاضری دی تو ڈاکٹر صاحب نے کچھ سوالات کے بعد کہا اب آپکو کسی دوا کی ضرورت نہیں اور میرا یہ نسخہ اس لیڈی ڈاکٹر کے منہ پر مار دینا،(ہا ہا ہا) جس نے بجائے مرض کو پکڑنے کے خون کے مختلف ٹیسٹ اور ایکسرے  کروا کے مجھے پکا ٹی بی کا مریض بنا دینے کی اپنی پوری کوشش کر لی تھی۔کیا کہا جائے ٹرینی ڈاکٹرز کا  ان کا تختئہ مشق ہم جیسے مریض ہی تو بنتے ہیں۔