ڈرائنگ پیپر


ڈرائنگ پیپر

ڈرائنگ پیپر:۔
قارئین کرام!
میں اُس  وقت چَھٹی جماعت میں تھی جب اِدھر اُدھر کہیں پڑھ بیٹھی “اپنی ناکامی پر مُسکرا دو،کامیابی حاصل ہو جائے گی”
اُس وقت میں اپنی محدود عقل کے میدان میں روز سوچ کے گھوڑے دوڑاتی اور یہ سوچتی آخر یہ جادو کیسے ہو سکتا  ھے کہ صرف مُسکراہٹ سے کوئی کامیابی ملے؟ پھر میں نے سوچا کیوں نہ اس کے لئے کوئی تجربہ کر لیا جائے   سو تجربے کے لئے مزید انتظار نہ کرنا پڑا اور 6th کلاس کے ششماھی امتحان half yearly exam کا رزلٹ کلاس میں ہی سُنایا گیا اور ہمارا  ڈرائنگ کا پیپر کلاس کی جانب کر کے دکھایا گیا تو سب نے اجتماعی قہقہہ لگایا جس کی میں تاب نہ لا سکی اور ڈیسک کے نیچے چُھپ گئی پھر ایک آنکھ سےڈرتے ڈرتے دیکھا تو میں نے کیا ہی ڈرائنگ پیپر کیا ھوا تھا، ڈرائنگ پیپر ميں نہ نظر آنیوالا ایک  بہت چھوٹا پھول، بالکل غلط شیپ کے ہینڈل والا چائے کا کپ، ٹیڑھے پیندے والا ایک ادھورا مَٹکا،ایک عدد طوطا جسکی ڈیڑہ ٹانگ اور اس کے پَروں کے نام پر سمندر کی سی خوفناک اٹھتی مدوجزر کیفیت والی سی لہریں اور ٹینس کا ٹیڑھا ریکٹ جس کی گرپ کہیں اور باقی ریکٹ کہیں اور یہ سب میں نے draw کیا ھوا تھا اور ششماھی پیپرز کی کاکردگی کی  رُونمائی  یعنی اوپننگ کی ابتداء ہم سے ہی ہوئی تھی سو 50/0 اسکور تھا یعنی ہم انڈے پر آؤٹ ہو گئے تھے۔ اور اس وقت نا معلوم اسکالر کے وضع کردہ اصول کے مطابق جو ڈرائنگ میں فیل وہ پورا فیل مانا جائے گا اور اعمال نامے میں یعنی رپورٹ کارڈ میں سرخ قلم سے “fail” ٹیچر کی طرف سےلکھ دیا جائے گا یہاں تک تو پھر بھی ٹھیک تھا مگر آگے کی مصیبت یہ کہ اس پر والدین سے دستخط کروا کے لانا ہو گا اور parent- teacher meeting پیرینٹ ٹیچر میٹینگ کی الگ ٹینشن۔
اب اس میں ھمارا کیا قصور کہ باوجود کوشش کے میرے اندر کا مصور نہ جاگا تو میں کون سا کوئی گُل جی کی رشتے دار یا(picasso) پِکاسو کی پڑوسن رہی تھی کہ مصوری میں نام پیدا کرتی میں نے بہت کوشش کی میرے اندر کا مصور ہوش میں آجائے ڈرائنگ ورک بک پر پینسل سے زیادہ ربڑ کے استمعال سے صفحات گِھس گئے مگر نہ ہی میرے اندر کا مصور اٹھا اور نہ ہی ڈرائنگ آئی، دراصل ڈرائنگ کی پریکٹس کرتے کرتے میں abstract art یعنی تجریدی آرٹ کی طرف نکل گئی تھی اور بد قسمتی سے میری ٹیچر میرا ٹیلنٹ  ہی نہ سمجھ سکیں ورنہ میرا تخلیق کردہ ادھورا  ڈیڑھ ٹانگ والا طوطا جس کے پروں کے بجائے سمندر کی لہریں موجود تھیں یہ کچھ تجریدی آرٹ  ٹائپ کا میرا پہلا شاہکارنمونہ بھی شمار ہو سکتا تھا  اسے بس سمجھنے والی نظر نہ تھی میری ٹیچر کی، سو  انڈے والے برگر کی طرح یہ انڈے والا پیپر اور  اعمال نامہ یعنی رپورٹ کارڈ لے کر ھم  گھر آگئے، جمعرات کا دن تھا اور جمعہ ہفتہ چھٹی اور اتوار کو سائن کردہ رپورٹ کارڈ مس کو دینی تھی،میں نے جمعرات کی شام جمعے کا دن اور ہفتے کی شام تک الگ الگ کمروں میں مختلف پوزینشنز بدل بدل کر کبھی رپورٹ کارڈ سیدھی پکڑ کر کبھی اُلٹی پکڑ  کر بہت بہت مُسکرا کے اس کو دیکھا کہ شاید جادو ہو جائے اور  کامیابی مل جائے اور ریڈ پین سے لکھا ھوا fail گرین پین سے لکھے pass میں بدل جائے مگر نہ جناب کوئی جادو نہ چلا  پتہ نہیں کون سے لوگ ہوتے ہیں جو صرف فیل ہونے پر مسکراتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں خیر پھر پہلے امی کو سب کچھ بتا کے مدد مانگی امی نے  کہا نہیں میں بالکل سائن نہیں کروں گی اپنے ابو کو ہی بتاؤ امی کے انکار پر ہم  ذھنی طور پر ابو کے ہاتھوں اپنی شامت   کے بارے میں سوچتے  مَرے قدموں کے ساتھ ابو کے پاس گئے اور رپورٹ کارڈ ابو کو پیش کردی۔  ابو نے اِک نظر رپورٹ کارڈ  دیکھی پھر مجھے  اِس کیفیت سے دیکھا گویا تسلی کر رہے ہوں یہ انڈے پر آؤٹ ہونے والی نالائق اولاد میری ہی ھے۔۔۔ سائن تو ابو جی نے کر دیئے مگر جو ڈانٹ پڑی بس نہ پوچھیں  پھر یوں ھوا کہ چراغوں میں روشنی نہ رھی۔
    پھر آخرکار میرے اندر کا مصور فائنل ایگزام سے کچھ عرصہ قبل  انگڑائی لے کر اٹھ ہی بیٹھا اور میں نے محلے میں ہی ایک دوسری مس سے ڈرائنگ کلاسسز  لے کر ٹہنی پر بیٹھا طوطا ،بیٹ بال،پیارا سا  ایک hut انگور کے گُچھے،نارنگی، آم،کیلے اک عدد کَٹا ھوا انار اس کی پھانکیں اور اس کے دانے، بھنڈی و بینگن کی ڈرائنگ بنانا سیکھا ان مس نے ہمیں ڈرائنگ میں lines کی trick سے کچھ بھی draw کرنا بتایا تھا جبکہ ہماری اسکول ٹیچر یہ والا بنیادی اصول بتائے بغیر سیدھا کسی بھی object کا sketch  تیار کرنے کا کہہ دیتیں تو مجھے تو کچھ سمجھ نہ آتا تھا یہ پوائنٹ کلیئر ھوا اور  پھر اک طرح کی تجریدی آرٹ نما  یہ بھی مشق کی کہ آلؤوں کے چار ٹکڑے کر کے ان پر رنگ برنگی روشنائی کا استمعال کر کے پھر ڈرائنگ پیپر پر ایک خاص تکنیک سے کچھ دیر تک آلوجما کے ایسے  ایسے تجریدی آرٹ کے نمونے تخلیق کئے کہ بعد میں اچھے نمبرز کے ساتھ فائنل ایگزام ہی پاس کر لیا   art&craft  کا یہ سلسہ آٹھویں کلاس تک رہا، گُڈی کاٹ یعنی craft paper سے  رنگ برنگی کشتیاں،پتنگیں،مختلف ایونٹس کارڈز اور رنگ برنگے پھول، نیوز پیپر کٹنگ سےگڑیا کا فراک، بِب اور ایک عدد شمیم آراء اسٹائل کی قمیص کا draft بھی مس نے تیار کروایا جس کی وجہ 1970 کا جاری کردہ اسکول syllabus سلیبس تھا اور ھم “عینک والا جن دیکھنے والے پاکستانی بچے” ہم نے لاکھ کہا مس اب تو  لانگ شرٹ کا رواج ھے مس نے کہا جی بیٹا بالکل ھے مگر آپ کے سلیبس میں نہیں ھے  اب جو سلیبس ھے وہی کرنا پڑے گا اور آٹھويں کلاس تک یہ میرا معمول رہا کہ ڈرائنگ پیریڈ ختم ہونے کی بہت خوشی ہوتی تھی، اتنی خوشی تو مجھےinterval کی  بھی نہیں ہوتی تھی ۔ اور مزے کی بات ہمارا ہی وہ آخری  batch تھا جس پر اتنی سلیقہ شعاری کی ٹریننگ زبردستی ٹھونس دی گئی ہمارے پاس آؤٹ ہونے کی دیر تھی کہ اسکول میں  art&craft کے بارے میں  تمام اصول ماہرین تعلیم نے ختم کر دیئے کیا ہو جاتا وہ یہ فیصلہ دو چار  سال پہلے کر لیتے اگر۔ یا پھر ماہرین تعلیم یہ بھی تو کر سکتے تھے کہ آرٹ اینڈ کرافٹ کی بجائے God- given Talent کا آپشن رکھ دیتے پھر تو ہر اسٹوڈنٹ ہی کچھ نہ کچھ کر دکھاتا اب  جیسا کہ میں اسکول میں دوستوں کی فرمائش پر بلی کی آواز ،گدھے کی آواز اور hurt puppy کی آواز بڑی شاندار نکالتی تھی ، اور ایک دن اسپورٹس کی ٹیچر نے مجھے گدھے کی آواز نکالتے سُن لیا تھا تو پورا وقت اسپورٹس گراؤنڈ میں Throw ball کھیلنے کی سزا یہ کہہ کر دی کہ جتنی اونچی تم نے گدھے کی آواز لگائی ھے نہ اب ویسے ہی یہ کھیل کر دکھاؤ، اب کوئی اور کھلاڑی بھی موجود نہیں خود ہی گیند تھرو کرو اور  خود ہی اٹھا کے لاؤ ،سزا کا دورانیہ آدھا گھنٹہ پورا کیا تو کلاس میں واپس جانےکی اجازت ملی۔  تو اگر خداداد صلاحیتیوں کو پرکھاجاتا یا  talent چیک پیپر رکھ دیا جاتا تو شاید میں بھی ٹاپ کرتی۔