موٹاپا


( تصویر شکریئے کے ساتھ ڈان نیوز اردو چینل)
پاکستان کے 61 فیصد ڈاکٹر
موٹاپے کے شکار، تحقیق

پاکستان میں ماہرین امراض قلب سمیت 61 فیصد ڈاکٹر موٹاپے کی بیماری کا شکار ہیں جبکہ ساڑھے سات فیصد ڈاکٹر سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ اس بات کا انکشاف قومی ادارہ برائے امراض قلب کے محقق ڈاکٹر سالک احمد میمن کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں کیا گیا۔

قارئین کرام کل ایک خبر نظر سے گذری
21 نومبر 2021 ڈان نیوز کی خبر کے مطابق موٹاپے اور سگریٹ نوشی نے ڈاکٹرز کو بھی نہیں بخشا اس پر عوام کو تشویش کا شکار ہونے کی بجائے ڈاکٹرز کا مزید شکر گذار ھونا چاہئے کہ موٹاپے کا شکار عوام کا ساتھ دینے کے لئے ڈاکٹرز ان کے شانہ بہ شانہ وسیع جائیداد کی سی توند اور سگریٹ نوشی کی لت کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ساتھ کھڑے ہیں تاکہ عوام کو حوصلہ ملتا رہے کہ ایک وہ ہی اکیلے تھوڑی موٹاپے کا شکار ہیں یا سگریٹ کی لت میں مبتلا ہیں ڈاکٹرز تو وہ بعد میں ھوں گے پہلے تو روایتی پاکستانی ھی ہیں نا اور وہ پاکستانی کیا جو  موٹاپا و توند اور سگریٹ لت کے بغیر نظر آئے عوام  تو خود موٹاپے کو دعوت دیتےرہتے ہیں  اور ڈاکٹر صاحبان کو عوام کی خدمت سے  فرصت نہیں ملتی کرسیوں کا سفر کرسیوں تک رہ جاتا ساتھ اور پھر سگریٹ کے چند کش۔۔۔تازہ دم کر کے اگلے اسپتال کی منزل آسان بنا دیتے ھیں,exercise machines منتظر رہ جاتیں،  jogging, walking خواب میں ہی ھو جاتی۔ یہی وجہ ھے کہ اسپتالوں کی کار پارکنگ پر تقریباً ہر کار سے ایک عدد توند پہلے برآمد ہوتی ھے پھر باقی کا انسان،  یہی حال کسی entrance پر بھی نظر آتا ھے پہلے توند کی تشریف آوری ہوتی ھے پھر باقی پورے انسان کی۔ کبھی کبھی یہ موٹاپا بھی خبر بن جاتا ھے جب دروازے میں کوئی موٹا انسان پھنس جائے تو دروازہ توڑ کر نکالنا پڑ جاتا ھے جبکہ بہت عرصہ پہلے یہ بھی خبر پڑھی تھی کہ راولپنڈی کی ایک دیوار کے درمیان ایک موٹاپے کا شکار انسان ایسے پھنس گیا کہ دیوار توڑنا پڑی جب جا کے وہ وہاں سے نکلا مجھے اس پر عدنان سمیع کا ایک گیت یاد آرہا ھے کچھ edit کر کے
اصلی بول ہیں گانے کے
؎ کہاں بس گئے ہو سپنوں کے ساگر میں(عدنان سمیع سےمعذرت کے ساتھ یہ ایڈیٹینگ)
؎کہاں پھنس گئے ہو دیوارِ آہن میں
بچپن میں ایک بار سگریٹ ہم بہن بھائیوں نے مل کر ٹرائی کی تھی کیونکہ ھمارے  ماموں جی  سگریٹ پیا کرتےتھے تو ہم متاثرینِ سگریٹ ہو گئے اور سب بچہ پارٹی نے بڑوں سے نظر بچا کے ایک سگریٹ سلگائی اور  سب نے لگایا ایک لمبا کَش ساتھ ہی حلق شدید کڑوا ھو گیا اور کھانسی کا ایسا اٹیک کہ ال امان الحفیظ جس میں مابدولت کی کھانسی کسی ہیروئینچی جیسی زور زور سے شروع ہو گئ باقی بہن بھائ  کچھ ہلکے کھانستے کہنےلگے اب پکڑے جائیں گے تمہاری آواز سے اتنے میں خالہ کی آمد ھو گئی خالہ نے پہلا سوال کیا یہ سگریٹ کون پی رہا ھے ھم بچے جھٹ بولے ماموں اٹھ کر گئے ہیں تب تک وہ سگریٹ زمین پر بھائی نے پھینک کر پاؤں کے نیچے دبا لی تھی وہ ہم سب کا پہلا اور آخری سگریٹ ثابت ھوا شکریہ اس کھانسی کے اٹیک کا جس نے ہمیں آئندہ کے لئے محفوظ کر دیا شاپنگ مالز میں اکثر ایسے uncles کا سامنا ھوا ھے کہ اچانک سامنے سے ایک بے ہنگم  بڑی سی توند بر آمد ہوتی ھے اور اس پر کچھ مقدار میں لگا ھوا انسان اک شان بے نیازی لئے چل رہا ہوتا ہے
کہ
  بقول نشتر امروہوی
؎”جسم پر نشترؔ کوئی بھی سوٹ فٹ آتا نہیں
ہو گئی ہے توند کی کچھ ایسی گولائی کہ بس۔”
  اب یہی کہہ سکتی ہوں اللہ ھم سب کو وسیع توند  و موٹاپے اور سگریٹ جیسی بری عادات سے بچائے رکھے۔
نوٹ: تحریر کا حق ما بدولت کی جاگیر ھے۔