جوتے،سینڈِلز اور سیل


جوتے” کی زندگی میں کتنی اہمیت ھے اس کے بغیر زندگی ادھوری ھے جوتے دشمنوں پر برسائے جاتے ہیں وزیروں پر چلائے جاتے ہیں اور نظر بد سے محفوظ رہنے کو پاک و ہند میں گاڑیوں میں لٹکائے جاتے ہیں۔ اسکول میں ہم  پاکستانی مشہور برینڈ کے بَکل والے شوز بڑے شوق سے پہن کر جایا کرتے تھے مگر کالج تک پہنچتےنہ جانے اس پاکستانی برینڈ کا معیار گر گیا یا ہمارے پاؤں بہت حَساس ہو گئے اس برینڈ  کے جوتے جب جب پہن کر کالج کی راہ چلوں تو پاؤں کی دونوں چھوٹی انگلیاں  انگوٹھوں اور ایڑی کے پاس چھالے پڑ جائیں، ایک دن ایسا ہوا چھالے تو پڑ گئےمگر  چلتے وقت لاکھ کوشش کر لوں تکلیف کی وجہ سے چال میں لڑ کھڑاہٹ آ گئی میں اپنی دوستوں کے ساتھ کالج کی چھٹی ٹائم پر کالج وین کا انتظار کر رہی تھی   جس کے لئے کچھ فاصلہ پیدل طے کرنا تھا کوشش کے باجود میں چھالوں کی وجہ سے  جب لنگڑانہ چال چل رہی تھی تو  قریب سے  بوائز کالج کے کچھ بھائی لوگ گذرے مجھے دیکھ کر کچھ جان بوجھ کر لنگڑا لنگڑا  کے چلنے لگے اور کہتے جاتے میں بھی لنگڑا ہوں، میں نے اس بے تُکے انداز کو نظر انداز کرنا مناسب سمجھا اور اس دن کے بعد سوچا کہ اس طرح کے جوتوں اور جوگرز جن میں پاؤں کے انگوٹھے کا مسئلہ ہوتا ان سب کی بجائے  کیوں ناپَمپی شوز لے لوں بلکہ یاد آیا کہ اس کا ایک جوڑا بلیک کلر میں تو گھر میں ہی موجود ھے اگلے دن کالج آف تھا اور اس کے اگلے دن صبح کالج وین نہ آسکی توہم پَمپی شوز  پہن کر کالج کے لئے خود ہی نکلے جب تک چھالوں میں بھی کافی آرام آچکا تھا مگر یہ کیا عین بیچ سڑک پر پمپی نہ جانے کیوں بار بار پاؤں سے اُترے جائے، اور جب میں تھوڑا پاؤں زور سے دبا کر چلوں تو پمپی کی ہیل کی ٹَک ٹَک ایک “ٹک ٹکر ٹک ٹکر” میں گونج جائے صبح کے 8:30 پر جبکہ ابھی گنجان گلیوں میں کچھ خاموشی کی باقیات ہوں تو یہ آواز بڑی بدنما لگے۔پمپی شوز کے بار بار اترنے اور پاؤں جمانے میں کالج تک کا فاصلہ طویل سا ہو گیا بہرحال پھر آرام دہ جوتے مل ہی گئے۔ اور کالج کا سفر ان کے ساتھ چلتا رہا۔
سیل(sale) کتنا خوبصورت اور پُرکشش لفظ ھے، ھم خواتین کے لئے یہ تو ہم خواتین ہی جانتی ہیں۔مگر قارئین کرام اس لفظ کی کشش کے ہاتھوں جو واقعہ پیش آیا میں نے پکی توبہ کر لی سیل کی  چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھنا ویسے بھی میری زندگی کی اب تک یہ دوسری اورآخری سیل شاپنگ تھی۔ طارق روڈ رحمانیہ مسجد کے قریب مشہور برینڈ کے جوتوں کی  ایک مرکزی دکان ھے اھلیان کراچی تو اس سے بخوبی واقف ہوں گے وہاں پر خواتین کے بہت خوبصورت سینڈلز کی “سیل” لگی ہوئی تھی اور سیل میں ایک سال پہلے کی جوتے کی قیمت اور اب سیل میں رعایتی قیمت کی تفصیل مختلف دکاندار لڑکے فراہم کر رہے تھے ہم  نے ویسے ہی سینڈلز کا جائزہ لیتے ہوئے ایک ورکر سے سوال کیا کہ کیا وجہ ھے کہ آپ سینڈلز اتنی رعایتی قیمت پر دے رہے ہیں اسنے کہا دکان خالی کرنا ھے تاکہ نیا مال لا کے رکھا جائے جبکہ قریب سے گذرتے دوسرے دکاندار نے کہا جو مال بِکتا نہیں اسے “سیل”پہ لگا دو بس پھر دکان خالی اس دوسرے والے دکاندار کی بات بالکل ٹھیک لگی  مجھے مگر کافی بعد میں وہ بھی ایسے کہ دو پیارے سے ہیل والے سینڈلز کے جوڑے پسند آنےپر پیک کروا کے گھر کی راہ لی اگلے تین چار دن بعد جب ان میں سے ایک پہن کے ہم نے اپنے گھر سے پانچ سات گھروں تک کا فاصلہ طے کر لیا تو ایک کالی بلی نے ہمارا راستہ کاٹا اوردوسری جانب مڑ گئی جبکہ مجھے کبھی وہم نہ ھوا کہ کالی بلی راستہ کاٹے تو کچھ اچھا نہیں ہوتا،مگر یہ کیا سینڈل کی پہلے ایک پٹی ٹوٹی پھر بکل والا حصہ ٹوٹ کر الگ جھول گیا وہ بھی عین سڑک پر تو  واپس جوتے تبدیل کرنے کے لئے گھر کی طرف مُڑی ابھی چل ہی رہی تھی کہ اس ٹوٹے سینڈل کی آخری پٹی بھی دَم توڑ گئی جس کے سہارے میں اس سینڈل کو پاؤں میں پھنسائے چل رہی تھی میں کچھ دیر ویسے ہی کھڑی رہی پھر آخر کار کچھ سمجھ نہ آیا تو اس ٹوٹے سینڈل کو ہاتھ میں تھاما اور فقط ایک سینڈل جو تھا بھی ہیل والا عجیب چال چلتے گھر کی طرف بڑھنے لگی مگر اس ایک سینڈل کی اچانک ایڑھی اور دو پٹیاں یکدم ٹوٹ کے یوں الگ ہو گئیں جیسے بقر عید کے دنوں میں بکرا منڈی میں کوئی ایلفی سے سینگ جوڑے بکرا بیچ جائے اور بکرے کے سینگ گھر تک جاتے مالک کے ہاتھ میں رہ جائیں اور بکرا کہیں رہ جائے۔قارئین کرام اب بھی ایک پوری گلی کا راستہ باقی تھا مگر شکر ھے کہ یہ سڑک کشادہ اور صاف ستھری تھی اور صبح کے دس بجے اکا دکا ہی لوگ تھے میں نے ادھر ادھر دیکھا کوئی دیکھ تو نہیں رہا ڈرتی ورتی تو میں کسی سے نہیں ہاں ٹوٹی سینڈلز کی تو بات ہی اور ھے نا میں نے  ان ٹوٹی سینڈلز پر ایک قہر آلود نظر ڈالی اور پھر سینڈلز پر لعن طعن بھیج کر  ان سینڈلز کو وہیں چھوڑا اور ننگے پاؤں گھر کی جانب چلی اور خود سے کہتی جاتی میرے راستے میں کہکشاں نہیں سعدیہ عرف ننگ پیری!!!گھر جا کر ڈور بیل بجائے جاؤں کہ کوئی تو دروازہ کھول دو  مجھے ننگے پیر نہ کوئی دیکھ لے اندر سے سب کی باتوں کی آواز آئے جائے مگر دروازہ کھولنے کوئی نہ آئے خیر گھر کا دروازہ کھلا اور ہم ابو کو جوتوں کے بارے بتاتے تیزی سے گھر میں داخل ہو گئے۔ اورجوتے تبدیل کر کے اپنے سفر کی راہ لی۔
ان دو تین جوتوں کے تجربات کے بعد ہم نے ہمیشہ پاؤں کے لئے آرام دہ، دیر پا جوتے کو ترجیح دی، دو پٹی کی چپلیں ،سلیپرز اور فلیٹ سینڈلز جن میں پاؤں آرام دہ رہیں چاھے ایسے جوتے دِکھنے میں کتنے بد نما ہوں ہم یہی استمعال کریں گےیہ بھی قابل ذکر بات ھے کہ اس  ہی دکان کے برینڈ نیو آرام دہ شوز کی کلیکشن اور براڈ ہیل والے سینڈلز تو لا جواب ھیں اور ہمارے زیر استمعال ھے  اور رہی خوبصورت نازک ٹَک ٹَک ہیل والی سینڈلز ان سے تو ہم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دور رہیں گے۔ الوداع اے نازک ہیل والے سینڈلز اور ہاں یاد آیا قارئین کرام ہمارا سیل شاپنگ کا دوسرا سینڈلوں کا جوڑا جو شاپنگ بیگ میں ہی دم توڑ گیاتھا جگہ جگہ سے کلر اترا ہوا اور خستہ پٹیںاں گویا ہزار سال بعد شاپنگ بیگ کھولا ہو حلانکہ صرف ایک ماہ کی کہانی ھے یہ، ان سے لاکھ درجے بہتر تو آج بھی فراعین مصر کی ممیاں ہوں گی۔