چور


چور
قارئین کرام چور کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک عدد جذبات سے عاری  چھری، چاقو،  یا پھر پستول تھامے ہٹے کٹے سفاک انسان کا سا خاکہ ابھرتا ھے اس خیالی خاکے  میں آپ نے غور کیاچور نے ڈنڈا نہیں تھاما ھوا کیونکہ چور کو خدشہ ہو گا کہ ڈنڈا کسی نے اگر ضبط کر لیا تو اسی مولا بخش ڈنڈے سے چور کی گرما گرم تواضع ہو جائے گی جبکہ چھری پستول خنجر پر دوسرے انسان کا قابو gپانا کچھ مشکل سا ہوتا ھےـچوروں سے ہر انسان کا واسطہ پڑتا ھے کچھ چور مالی چوری میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ وہیں کچھ چور جسمانی چوریوں میں ملوث پائے جاتے ہیں اور حضرتِ انسان کی بھی کیا ہی نیچرھے  مالی چوری میں ملوث چور ہتھے چڑھ جائے تو  ہمارے مُلک میں جوتیوں کے ہار کا پہناوا پھر منہ کالا کرنے کی رسم کے ساتھ گدھے پر بِٹھا کر بازار گُھمانا عام ھے سمجھ نہیں آیا کہ اونٹ یا گھوڑے  کَشتی یاجہاز  اور موٹر کار  کو یہ شرف کیوں نہیں حاصل؟کیا گدھا چوری کی وارداتوں میں چور کانصف شریک کار ھے کہ چور کو اس کی سواری کروائی جائے گی اور پھر جن چوروں  کا منہ ہو ہی کالا تو اس پر کالک لگا بھی دی تو کیا ہو گا؟کیا اس کی بجائے سفیدی استمعال ہوسکتی پھر بڑا اُجلا سا  نمایاں سا چور ہو جائے گا۔ ہمارے ملک میں ڈھکے چھپے انداز سے گُردہ چوری عروج پر ھے جبکہ دل چوری وہ واحد چوری ھے جس پر گیت لکھے جاتے ہیں فلمیں بنتی ہیں اور چور کو جی کھول کے خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ھے اور چور چوری کے باوجود مجرم نہیں مانا جاتا پولیس میں رپورٹ نہیں کروائی جاتی  کوئی عدالت میں مقدمہ نہیں لڑتا، عموماًچور ایک جگہ ایک ہی بار چوری میں ملوث پائے جاتے ہیں پکڑے جانے کے خوف سے وهاں واپس نہیں

اگر  چور اسی جگہ پردوبارہ چوری کرنے آئے تو چور کا مقصد اس طرح ہوتا ھو گا (گیت میں ایڈیٹنگ معذرت  کے ساتھ)
؎جو بچا تھا وہی لوٹنے کے لئے پِھر آئے ہیں۔
ھم تو مجرم ہیں پھر چوری کے لئے آئے ہیں
چوری کا سامان کچھ بھولے تھے
وہی لینے دوبارہ آئے ہیں ـ”
ھو سکتا ھے چور جلدی میں قیمتی چیزیں بھولے سے چھوڑ گیا ہو وہی دوبارہ لینے کے لئے واپس آیا ہو۔عادی اور معمولی چور ہو تو گٹروں کے ڈھکن،عوامی جگہوں سے پانی پینے کے گلاس،بیت الخلاء کے لوٹے، ٹرین کی سیٹوں کے فوم،  اورٹرین میں سوتے وقت اوڑھنے والے کمبل ،چادریں ناشتے کی ٹر ے سے چمچے،موٹر کار اور موٹر سائکلوں کے سائڈ شیشے گاڑی کی بیٹریاں و ٹیپ ریکارڈر،مسجد کے نل،موٹریں، نمازیوں کی جوتیاں،سائیکلوں کی گھنٹیاں،بآسانی غائب کر لے گا،حتی کہ جنازہ پڑھنے کے دوران تک جیب کاٹ لینے سے بھی نہ گھبرائے ، اگر اس سے اوپر والے رینک کا چور ہو تو پھر ووٹوں کی چوری، شاعروں کی شاعری بلکہ پورا دیوان ہی لے اُڑے،میرٹ کی چوری، مقالوں کی ہیرا پھیری میں ملوث پایا جائے گا  اس سے بھی  بڑھ کر چور ھوا تو کرپشن کابازار شرفاء کے لبادے میں سجا لے گا۔بڑا مشہور لطیفہ ھے کہ چور ایک گھر میں چوری کر رہے تھے تو ایک بچےکی آنکھ کھل گئی چوروں کو کہنےلگا میرا کتابوں والا بستہ بھی چوری کر کے لے جاؤ ورنہ شور مچا کے سب کو جگا دوں گا۔ ہماری کزن باجی کا واقعہ پورے خاندان میں بڑا مشہورھوا تھا کہ وہ دوسری کزن باجی کی شرٹ کا ڈیزائن دیکھنے کیے لئے لائی تھیں اور اس کے اگلے دن انکے گھر چوری ہو گئی چور بھی رَج کے چور تھے سب کچھ لوٹ کر لے گئے انکے اسکول کایونیفارم اور وہ ڈیزائن والی شرٹ تک بھی چوری ہو گئ تھی۔ہمارے گھر بھی بہت ہی کوئی واہیات چوروں کی آمد ہو چکی ہے پہلی دفعہ چور جب چوری کے لے آئے توان دنوں  کراچی کے حالات  بہت خراب چل رہے تھے جس کی وجہ سے ہم اپنے ایریا سے دوسرے ایریا میں مقیم تایا کے گھر رہنے آئے ہوئے تھے  اس مکان میں چونکہ ہماری فیملی نہیں تھی تو  چوروں نے بہت اطمینان سے گھر پر صفایا کیا تھا جاتے ہوئے ایک عدد میز اور ایک پردہ ہی چھوڑ گئے  تھے شام کو ابو نے ادھر کا وزٹ کیا تھا اور چوری کی یہ تفصیل بتائی،  پھر اگلے دن شام کو ابو کا ادھر جانا ھوا  تو پردہ اور میز بھی غائب ہو  چکا تھا مطلب پردہ اور میز بھی چور دوبارہ آ کے لے گئے تھے، جبکہ دوسرا واقعہ جو کہ دوسرے گھر میں پیش آیا اس میں کوئی پلمبر ٹائپ کا پیشہ ور “نل چور ” تھا جو چھت کے اوپر سے آیا اور چھت پر جتنے نل کھول کے وہ لے جا سکتا تھا لے گیا اور  اپنے کام کا بڑا ماہر چور تھا غسل خانوں سے نل اتارنے کے بعد ان میں لکڑی کے ٹکڑے بھی ٹھوک گیا۔ادہر ہی واشنگ مشین بھی پڑی تھی چونکہ وہ تو اٹھا کے نہیں لے جا سکتا تھا تو وہ اس چور نے ویسے ہی پڑی رہنے دی۔ پلمبر ٹائپ چور کی یہ چوری ھمارے گھر تک محدود نہ تھی گلی میں تقریباً تمام گھروں کی مشترکہ کہانی تھی جب سب گلی والوں نے تحقیق کادائرہ وسیع کیا تو معلوم ھوا کہ چار سے دس گلیوں کے رہائشی اس پلمبر ٹائپ چور کا شکار ہوئے تھے لہذا پھر سیکورٹی  کا دائرہ وسیع کر دیا گیا یوں اس عجیب وغریب چور سے سب نے نجات پائی۔  حالیہ دنوں میں چوروں کے سب سے نچلے درجے کے چور بھی پاکستان میں ہی پائے گئے ہیں،سابق ہاکی پلیئرسمیع اللہ کے مجسمے سے مرحلہ وار چوری کرتے ہوئے ہاکی اور گیند بھی لے اڑے اور اس کے بعد قائداعظم کے مجسمے سے عینک کی چوری کی خبر سننے میں آئی ھے جس پر وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے نوٹس لیتے ہوئے مجسمے پر عینک لگانے کے احکامات جاری کئے افسوس، بابائے قوم کے مجسمے کے ساتھ چور کا یہ بے ہودہ رویہ ھے اور  ھم سب کے لئے باعث شرمندگی ھے ،ایسے چور کے تو ہاتھ کاٹنے کے ساتھ سزا کے طور پر آنکھیں بھی نکال دینا چاہئے اور چوک پر بھیک مانگنے بٹھا دینا چاہئے پھر۔  چوروں کی بھی لا تعداد اقسام ہیں جن میں سے کچھ پر ہی بات ہو سکی  یہ ایسا موضوع ھے جسے سمیٹ کر اختتام پر لانا آسان نہیں ویسے بھی ہمارے ہاں اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹتا ھے اور چور کی داڑھی میں تنکا ہوتا ھے وہ بھی جھاڑو کا، چور چوری کر کے شور بھی مچاتا ھے کہیں چوری ہونے کے بعد جب چور چور کی صدائیں بلند ہوتی ہیں تو چور بھی چور چور کہتا اس بھیڑ میں شامل ہو جاتا ھے پھر اسی بھیڑ سے چُپکے سے نظر  بچا کے گُم ہو جاتا ھے۔ اور عوام چور چور کرتی رہ جاتی ھے۔ مگر اکثر چھوٹ چور پکڑے بھی جاتے ہیں اور سزا بھی بھگت لیتے ہیں مگر بڑے چور چھپن چپائی کھیلتے ہیں اور “ڈھونڈو تو جانیں” کھیلتے رہتے ہیں ڈھونڈنے کا ڈھنڈورا قوال کی تالی کی طرح پیٹا جاتا ھے مگر بڑے چور نہیں ملتے۔