Posts by Sadia

This is a four-wheeled wonderful "sofa text express train". The sofa express train will take you to such a city of words where you will see dynamic life from interesting aspects. I hope that you will like and enjoy the sofa journey.   I have had a very old friendship with words since the day I wrote the first word without any help. The words are with me. Whenever anything or an event impresses me,... so I put the pen in gear and start the sofa journey and reach the city of words.  

مزاحیہ شاعری


عظیم شاعر فرحت عباس شاہ کا مشہور زمانہ کلام ھے جسے میں بہت معذرت کے ساتھ کچھ ردوبدل کے ساتھ پیش کر رہی ھوں اور ایڈوانس میں تمام اھل توند مگر نازک طبع لوگوں سے معذرت کرلیتی ھوں کہ اگر میرے الفاظ ان پر گراں گذرے اگرچہ میرا مقصد ہرگز کسی کی دل آزاری نہیں ھے ہاں جو اھل توند نہیں ہیں ان سے کوئی معافی نہیں ھے اور انہیں خواہ مخواہ بُرا منانا تو بالکل نہیں بنتا۔ صرف ظریفانہ طبیعت کے باعث میرے منہ پر کل سے یہ الفاظ خود بہ خود یوں اترے چلے آرہے ہیں جیسا کسی شاعر پر شاعری کی آمد آمد ہوتی ھے اگرچہ آجکل میں اپنی زندگی کے بس یوں سمجھ لیں کہ ” بُرا وقت آیا ھوا” کے تحت کچن میں مصروفیت کے سنگ گذار رہی ہوں اور اکثر میری حس ظرافت کچھ دن ڈاؤن ضرور رہتی ھے مگر وہ جو ہاک ھوگن ریسلر ھے نا اس کی طرح میں دوبارہ تازہ دم ھو کے مزید ظریفانہ طبیعت کے ساتھ رِنگ میں واپس آتی ھوں لِکھنے کی عادت مجھے ایسے ھی ھے جیسے بقول شاعر
؎چُھٹتی نہیں ھے منہ سے، یہ کافر لگی ھوئی،
تو چلیں اب آپ بھی پڑھیں کل سے کیا میرے منہ پر بار بار آرہا ھے:
؎ تونے دیکھا ھے کبھی خود کو، توند بڑھ جانے کے بعد،
کتنا بے ڈھنگا سا لگتا ھے انسان، توند بڑھ جانے کے بعد،
البتہ کم بے ڈھنگا کہ جب تک مہ جبیں ھے لا عِلم،
چھوڑ جائے گی وہ بھی تجھے،
بڑھی توند کا عِلم ہونے کے بعد،
تونے وہ وہ کھابے بیکار میں ھے کھائے،
بڑھ جائے توند، ھو جائے بے ڈھب انسان جِسے کھانے کے بعد،
شام سے پہلے وہ مست رہا اپنے کھاپے شاپے میں،
جس کے ھاتھوں میں تھا بس لوٹا خرابئ پیٹ کے بعد،
رات بیتی تو گِنے، کھائے کتنے نان و چنے؟
پھر سوچا، اچھا تو یہ تھی وجہ باعث خرابئ پیٹ شام کے بعد،
ارے تو ھے نِرا پیٹو
تجھے معلوم کہاں بھوک کا دُکھ
احساسِ ڈائیٹنگ تو ہی اب اتر اِس کے گھر شام کے بعد،
یہی سوچ کے خوب ٹھونستا ھے یہ کھانا،
کل سے کروں گا ڈائٹنگ پَکّا، شام کے بعد ۔

MY Memes Part 1


Dear readers!
Times are changing so fast that the effect is being felt again and again in every field.

Especially
In terms of technology, everything is moving towards innovation. An old man is the only one left who is going to become modern by adapting himself to the new fashion and modern technology. Now let’s see if there is a mobile that was launched a year ago, Or the new mobile that has been booming in the market for the past week

If options
Compared to these mobiles, it seems that the technology is 10, 20 years old. If this pace of development remains the same, then very soon the time has come for the age of modern technology to remain in these cycles for only one week.

The level of humor of every human being in the human psyche can be different, more or less than any other human being. A good sense of humor creates excitement and freshness in human nature. Humorous memes are popular these days. We can say that the modern form of humor is memes. Now in Pakistan, the practice of reading books was rare, which is becoming less and less، So there are comic books too, While memes are taking their place and these are popular all over the world today.

I also sometimes try to make memes and I want to have something in it, even if it’s just a little bit, something new. Hope readers enjoy the sofa text journey of memes.

pakistani government slaughterhouse.
Inflation and high petrol prices gripped the Pakistani people.
Sadia Flying Boat
Launch of affordable public service
This service is currently only available in Karachi
It will soon be available in other cities as well
Expensive petrol
Finished
Bye bye
The flying boat came alternatives to petrol.
only 5 rupees per passenger.
The rent will remain the same for the next 100 years. This air boat uses a mixture of sea water and air instead of petrol.
The only survivor of a forest fire in Australia caused by Aamir Liaquat talking to reporters.
Federal Finance Minister of Pakistan Shaukat Tareen’s false statement :
The economy is on the right track. I
After hearing false news.
People should use less petrol.
Minister of Science and Technology of Pakistan Shibli Faraz. and then the people applauding👎 Shibli Minister
The future of all married people when they retire and will use a long stick (danda) as weapon😄

میمز


Memes
میمز کا ھے زمانہ

قارئین کرام!
زمانہ بہت ہی تیزی سے بدل رہا ھے جس کااثر ہر شعبے میں بار بار پڑ رہا ھےبالخصوص
(technology) ٹیکنالوجی کے حوالے سے تو کیا ہی کہنے سب چیزیں ہی جدت کی جانب رواں دواں ہیں پرانا تو بس انسان ہی رہ گیا ھے جونِت نئے فیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے سنگ خود کو ڈھال کر جدید بننے جا رہا ھے اب یہ ہی دیکھ لیں کوئی سال پہلے لانچ ہونے والا موبائل ہو یا ابھی ہفتہ بھر پہلے مارکیٹ کی رونق بننے والے نیا موبائل۔ آپشنز کے
اعتبارسے ایسا لگتا کہ جیسے 10,20 سالوں کا فرق پڑ گیا ھے اگر ترقی کی یہی رفتار رہی تو بہت جلد وقت آنیولا ھے جدید ٹیکنالوجی کی عُمر اِن چکروں میں صرف ایک ھفتہ ہی رہ جانی ھے۔یا پھر گلی گلی آواز سننے کو ملے گے جیسے سُنتے ہیں:
؎ پانڈے قلعی کرالوؤ
پرانے نویں بنا لوؤ
بس پانڈے(برتنوں کی جگہ) “موبیل نویں کرالوؤ” کی صدائیں ھوا کریں گی۔(میری مستقبل کے حوالے سے اِک ٹھنڈی پیشن گوئی) انسانی نفسیات میں ہر ایک انسان کے مزاح کا لیول کسی دوسرے انسان سے مختلف، کم یا زیادہ ھو سکتا ھے۔مزاح کسی بھی صورت میں ہو بس اگر سمجھنے والی رگِ ظرافت انسان کی عقل شریف میں پائی جاتی ھو تو طبیعت " گارڈن گارڈن" ہو جاتی ھےاور بندہ اگر کراچی میں ھو تو اس " گارڈن"طبیعت کے ساتھ گاندھی گارڈن نکل جاتا ھے۔

ایک اچھا مزاح انسان کی طبیعت میں شگفتگی اور ترو تازگی پیدا کرتا ھےـ
آج کے دور میں مزاحیہ memes مقبول عام ہیں ھم کہہ سکتے ہیں مزاح کی جدید شکل memes ہی ہیں اب پاکستان میں تو ویسے بھی کتاب پڑھنے کا رواج کم ہی تھا جو مزید کم ھوتا جا رہا ھے تو ان میں مزاح بھی شمار ھے ۔جبکہ میمز انکی جگہ لیتی جا رہیں اور یہ آجکل پوری دنیا میں مقبول ہیں۔ مُستقل بنیادوں پر اس پر کام کرنا بلاشبہ ایک اچھا آئیڈیا ھے۔ میں بھی کبھی کبھی memes بنانے کی کوشش تو کرتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ ا سں میں کچھ بھی ھو، چاھے ذرا سا بھی ھو بس کچھ نیا سا ھو۔ میمز انگلش کی ھوں یا اردو میں بنی یقین کریں ان میں پنجابی زبان کا تَڑکہ ان کو اک نئی زندگی بخشتا ھے اور اپنی قومی زبان میں میمز سے محظوظ ھونے کا الگ ھی مزا ھے کیونکہ مذاق کے جس لیول کو memes میں ھم اپنے مُعاشرتی کلچر کے بیک گراؤنڈ میں جس حِساب سے پیش کر سکتے ہیں اس کاسَواد “انگریزی ٹَچ” میں نہیں۔
بے شک آپ میری اس بات سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر پھر اس کی وضاحت کے لئے thesis کی طرح causes بھی بتانا ھوں گی۔
میں نے آج ایک میم بنائی ھے سعدیہ عرف half memer امید ھے آپ سب پڑھنے،دیکھنے والوں کو یہ کام پسند آئے گا اور اگر۔۔۔۔ نہ بھی پسند آیا تو مجھے کیا۔ھا ھا ھا.

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا جھوٹ پر مبنی پھیکا بیان:
پاکستان میں معیشت درست سمت میں ہے۔
میں یہ جھوٹی خبر سننے کے بعد:
پاکستانی قوم حکومت کے نِت نئے ٹیکسز کے تجربات اور مہنگائی کے ہاتھوں دم توڑنے کے بعد، ممی کی شکل غور سے دیکھیں وہ سوال کرتا نظر آرہا ھے کیا نیا پاکستان بن گیا؟ مہنگائی ختم ہو گئ؟
پاکستانی حکومت کا مذبح خانہ
عوام پِٹرول کم استمعال کریں۔
وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز۔اور پھر عوام شبلی مِنسٹر کو یہ والی👎 شاباش دیتے ہوئے:
سعدیہ اُڑن کھٹولا بوٹ پیش خدمت ھے۔ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان عوام کے لئے یہ سروس ابھی صرف کراچی میں شروع کی گئی ھے عوام کا تعاون رہا تو ملک کے دوسرے شہروں میں بھی جلد اس کا آغاز ہو گا۔ اب پِٹرول بس ختم ٹا ٹا بائے بائے گیا۔
سمندری پانی اور ھوا کی ھوائی ٹیکنالوجی سے اِک سستی سروس کا آغاز پٹرول کے بغیر ہی ۔
عامر لیاقت کی وجہ سے آسٹریلیا کے جنگلات میں لگی آگ سے نکل کر واحد بچ جانے والا شخص اخباری نمائندوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے

تمام شادی شدہ افراد کا مستقبل جب وہ ریٹائر ہونے کے بعد فِری زندگی گذاریں گے اور ان کا واحد ہتھیار ڈنڈا (لاٹھی) ہو گا 😄

عوام کی کہانی، میری زبانی


قارئینِ کرام!
بیمار پڑجانا بھی بندے کے حق میں ایک رحمت ھے  اس سے  انسان کے گُناہ جَھڑ جاتے ہیں مگر اس کے باوجود اس کا بار(بوجھ) کوئی بھی خوشی خوشی نہیں اٹھاتا۔ چونکہ میں بھی ابھی تک تو انسانوں میں  ہی شمار ھوں آگے کا پتہ نہیں ہا ہا ہا۔پچھلے پانچ چھہ دن سے  بخار، سردی لگنااور جسمانی درد نے بے حال کر رکھا تھا حالانکہ کورونا وغیرہ تو نہیں ھے ویسے بھی کورونا ویکسین تو مکمل ھے میری۔
  اب خدا کا شکر ھے کافی بہتری ھے۔بخار کے باعث بستر پر پڑے پڑے اِک شام  ایک سوچ آئی اور میں خود ہی ہنستے چلی گئی شکرھےکہ کسی نے دیکھا نہیں ورنہ یہی سوچتے کہ بخار  کا اثر شایددماغ پر ہو گیا ھے خیر  “جب تک سانس تب تک آس ” کی طرح میری تحریریں آپ سب تک پہنچتی رہیں گی ۔اور جس سوچ کو لئے میں ہنسی اور جس نتیجے پر پہنچی اس ہی سوچ کو پوسٹ پر آگے بڑھاتے ہیں۔
بچپن میں بڑوں سے جو کہانیاں سنتے تھے ان میں (کچھ ایڈیٹ ھے)  ایک کہانی یوں تھی کہ ایک بادشاہ کی سات مَلکائیں تھیں مگر کسی سے اولاد نہیں تھی پھر کسی  نے بادشاہ کو ایک بزرگ کا بتایا انہوں نے بادشاہ کو سات لڈو  دیئے کہ ہر ملکہ ایک لڈو کھا لے تو اللہ انہیں اولاد دیں گے اب چھہ ملکاؤں نے تو فوراً لڈو کھا لئے مگر سب سے چھوٹی ساتویں ملکہ کسی وجہ سے فوری طور پر لڈو نہ کھا سکی اور اس کا آدھا لڈو کھڑکی کود کر ایک نیولا آکر کھا جاتا ھے اور جَھٹ واپس بھی چلا جاتا ھے پھر چھوٹی ملکہ کی نظر اس آدھے لڈو پر پڑتی ھے اور وہ اپنی قسمت کا سمجھ کر وہ آدھا لڈو کھا لیتی ھے اب چھہ ملکاؤں کو اللہ بیٹے سے نوازتا ھے جبکہ چھوٹی ساتویں ملکہ کے ہاں آدھے نیولے اور آدھے انسان جیسا بیٹا پیدا ہوتا ھے۔ادھ پَجَد ھونے کی وجہ سے باقی ملکائیں اور شہزادے اس نیولے نما سے امتیازی سلوک کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے مگر بادشاہ اور چھوٹی ملکہ اسے اپنی قسمت کا سمجھ کر شاکر رہتےہیں اور یوں ہی وقت گذرتا رہتا ھے کہ بادشاہ بہت بوڑھا ہو جاتا ھے اور چاہتا ھے میں بادشاہت اور تخت اس شہزادے کے حوالے کروں جو سب سے عقل مند ھو سب مَلکاؤں کی خواہش ہوتی ھے کہ ان کے بیٹا ہی تخت کا وارث بنے جبکہ  سب سےچھوٹی مَلکہ اس دوڑ سے خود کو باہر محسوس کرتی ھے جبکہ نیولا نما شہزادہ جو کہ کافی عقلمند بھی ہوتا ھے اپنی ماں کی ڈھارس بندھاتا ھے  پھر اپنی قسمت آزمائی کے لئے کسی دوسرے شہر جاتا ھے اور  وہ کوئی کاروبار شروع کرتا ھے اللہ اسے بہت برکت دیتا ھے اور اس کی شہرت دور دور تک پھیل جاتی ھے۔ باقی شہزادے تخت کے لئے بادشاہ کی نظر میں اچھا بننے کی جو بھی کوشش کرتے ہیں وہ سب رائیگاں جاتی ھے اتنے میں نیولا نما شہزادہ بہت سارے مال و دولت اور ایک گدھے کی رسی تھامے محل واپس پہنچتا ھے اس کی شان و شوکت اور دولت کے انبار سے باقی مَلکاؤں اور شہزادوں کے سینے پر سانپ لوٹ جاتے ہیں  اور انہیں سانپ سونگھ جاتا ھے ھاھاھا مطلب خاموش ہو جاتے ہیں۔جبکہ نیولے نما شہزادے کی ملکہ ماں اور بادشاہ حقیقت میں بہت خوش ھوتے ہیں بادشاہ دِل میں فیصلہ کر چکا ہوتا ھے کہ میرے تخت کا وارث میرا یہ نیولا شہزادہ ھی بنے گا کہ اتنے میں نیولا نما شہزادہ “کراماتی گَدھا”بادشاہ کے رُوبرو پیش کردیتا ھے جس کی کرامت دیکھ کر بادشاہ عَش عَش کر اٹھتا ھے اور پھر بادشاہت کا تاج نیولے نما شہزادے کے سر سَجتا ھےـوہ کرامت جاننا چاہیں گے؟ جی ہاں گدھے کو رسی سے اُلٹا لٹکا کر جتنا پیٹا جاتا ھے اتنے ہی اس کے منہ سے اشرفیاں جَھڑتی ہیں بس نیولا نما شہزادہ اسی سبب دور دور تک مشہور ھو جاتا ھے اب وہ باقی چھ ملکائیں اور شہزادے نیولے نما شہزادے کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو بادشاہت تم کو مل گئی ھے اب یہ گدھا ہمیں دے دو ھم تمہاری بادشاہت میں کبھی دخل اندازی نہیں کریں گے ۔ نیولا نما شہزادہ اس حقیقت سے آشنا ہوتا ھے جسے باقی نہیں جانتے لہذا وہ اس بات کے عِوض کہ یہ چھ ملکائیں اور شہزادے ہمیشہ کے لئے محل چھوڑ دیں گے وہ گدھے کاسودا کر لیتا ھے نیولے  شہزادے نے تو ایک جادوگر کی مدد سے گدھے کو اشرفیاں کھلا رکھیں ہوتی ہیں جبکہ یہ بات صرف وہی جانتا تھا۔ادھر باقی شہزادے محل تخت و تاج سے دستبردار گدھے کی رسی تھامے “جہاں گدھے کے سینگ سمائے چل دیئے کی مانند چلتے گئے”  پھر ایک جگہ پڑاؤ ڈالتے ہیں اور گدھے کو الٹا لٹکا کر پٹائی شروع کرتے ہیں مگر گدھا کوئی بھی خزانہ نہیں اُگلتا  جبکہ ہر شہزادہ الگ الگ طبع آزمائی کرتا ھے کہ اچانک گدھا روتے ھوئے منہ سے کچھ اگلتا ھے جس کی آواز سن کر باقی شہزادوں کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور سب ایک ساتھ زمین پر دیکھتے ہیں کہ ایک پُھوٹی کوڑی مطلب old expired coin  پڑا ہوتا ھے اور کچھ نہیں۔یہ سب دیکھ کر ملکائیں اور شہزادے زور زور سے رونے لگ جاتے ہیں اُدھر دوسری طرف نیولا نما شہزادہ ملکہ اور بادشاہ محل میں شاندار جشن یہ گا گا کر منا رھے ہوتے ہیں
“جَشَن مَنایئے، پَنگڑا پائیے،آجا کُڑیئے آجا،نہ جا کُڑیئے نہ جا”
اب اس کہانی کے تناظر میں پاکستانی عوام  کی حالت اس سے مختلف نہیں۔پاکستان میں  چور، لٹیروں، بدمعاشوں، شریفوں کی حکومت رہے یا نہ رھے جو بھی حکومت رھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا  البتہ مہنگائی کااوپر جاتا تیز ترین گراف  ،طرح طرح کے ٹیکس اور آئی ایم ایف کی نت نئی پابندیوں نے پاکستانی عوام کو اشرفی اگلنے والا کراماتی گدھا سمجھ رکھا ھے جو آتا ھے عوام کی دھنائی شروع کر دیتا ھے اور عوام کبھی ہنس کر کبھی رو رو کر، جیبوں کو جھاڑ جھاڑ کے حکومت کا سدا بھوکا کاسہ بھرتی ھے  جو ہمیشہ خالی ہی عوام کا منہ چڑاتا ھے حالات یہی رھے تو وہ دن دور نہیں جب عوام روتے ہوئے کھوٹا پیسہ اُگل کے اگلے جہاں کا ٹکٹ کٹا لے گی جب عوام ہی نہ رہے گی تو حکومتیں ،  آئی ایم ایف ان سب کا وہ عبرت ناک حشر ھونا ھے کہ جسے دیکھنے کو کوئی زندہ نہیں بچے گا اور یہ سب ظالم اپنی موت آپ مر جائیں گے۔سودی نظام کی نحوست نے پوری دنیا کو جکڑ رکھا ھے۔آغاحسن عابدی صاحب بہت یاد آئے ان جیسے پانچ سات افراد اب کے دور میں ہونے چاہئے تھے، انہوں  نے جس کام کا بیڑا اٹھا رکھا تھا اگر وہ کامیاب ھو جاتے تو معاشی دنیا کا آج ایک اور ہی نقشہ ہوتا۔ آغاحسن عابدی کے بارے میں مجھے تھوڑا بہت ہی علم تھا، مگر آج یہ خبر دیکھ کا حیرت کا جھٹکا لگا اور اتفاق کہہ لیں ادھر میں نے پوسٹ آغا حسن عابدی تک مکمل کی اور  صبح کے7:06 کے ٹائم ، ادھر یہ لِنک میری آنکھوں کے سامنے آگیا۔ہر جوان کو اس سے آگاھی ھونی چاہئے میں شکرئیے کے ساتھ tribune لنک شئیر کر رہی ھوں اسے ضرور دیکھیں۔
https://www.google.com/amp/s/tribune.com.pk/article/2528/agha-hasan-abedi-the-man-who-dared-to-dream-big%3famp=1

Happiness


What is happiness?
One answer maybe this:
Something that suddenly makes your mood better, or When you feel calm. This is called happiness.
Happiness and sadness These two attitudes have a profound effect on humans and animals. There are different ways to express happiness, for example: jumping on the top, luddi paana (bhangra rap), dancing, making noises, or shouting. Sometimes happiness makes you feel more hungry and more food is eaten. While
Sometimes happiness leads to loss of appetite and sleep. And strangely enough, even in a state of sadness, hunger and sleep disappear. We are living in an age today where everything, every action is thought and judged only from the point of view of “benefit”.
Sometimes it’s okay to take risks, try taking risks. What could be better than a job that doesn’t cost you a penny but gives you real peace of mind? It is also important for positive thinking to never lose your inner child. Wherever the opportunity arises, immediately become a child and enjoy life. A sign of positive thinking is to be happy with small things, so learn to be happy with small things. For example, I feel happiest when I see kittens or a tree full of fruit. Once, as I was walking down the street, my eyes suddenly went to a tree full of chico and seeing chico, I felt a strange joy and gratitude. although
I have nothing to do with this chico tree, nor have I stopped in the street to eat chico.
The same thing happens with the green peppers in the pot. And kittens are loved by everyone. But one day I saw a very small donkey baby, he was so cute that I immediately wanted to take the donkey baby in my arms.
Someone crying
make that baby laugh, your heart can be calm. But it requires some caution. There is a joke that a child jumps up and tries to ring a doorbell.
That an old man appears and smiles and rings the bell of this house with great satisfaction. And say yes son and something else? The child says just run away now grandpa, I’m running too the bell rang ـ ha ha ha
Favorite food, favorite season, favorite music, book, or movie are all cute sweet treats. There is more to it than meets the eye
That is the rolling of the donkey in the dust. Do you know the reason behind this behavior of donkey? That’s because the donkey ate his favorite food and then be happy that the donkey rolls in the dust. The cat expresses its happiness with its eyes and a sigh of relief.
What else can be added to small joys?
Make a list of them. I hope you enjoy today’s Sofa Text Journey

خوشی


خوشی
قارئین کرام!
خوشی کیا ھے؟جب آپ کا موڈ اچانک خوشگوار ہو جائے اور آپ خود کو پر سُکون محسوس کریں یقیناً اسے ہی کہتے ہیں خوشی۔ اور یہ انسانی روئیے کی بڑی خالص کیفیت ہوتی ھے ،جبکہ ظاہری طور پر خوش نظر آنا یا کاروباری مسکراہٹ یا یوں کہہ لیں کہ مصنوعی خوشی قطعی طور پر انسانی نظر سے چُھپ نہیں سکتی فوراً بھانپ لی جاتی ھے۔ اگر حقیقت کو سامنے رکھ کر بات کی جائے توخوشی اور اداسی دو ایسے جذباتی روئیے ہیں جو انسانوں اور جانوروں دونوں پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
خوشی کے اظہار کے مختلف طریقے ہوسکتے  ہیں مثلاً چھلانگیں مارنا،لُڈیاں یا ڈانس کرنا،بے ہنگم آوازیں نکالنا یا چیخ وپکار کرنا،کبھی کبھی خوشی کی وجہ سے بھوک زیادہ لگتی ھے اور کھانا بھی زیادہ کھایا جاتا ھے۔ جبکہ
کبھی خوشی کی وجہ سے بھوک اور نیند دونوں ختم ہوجاتی ھیں اورعجیب بات ھے کہ اداسی کی کیفیت میں بھی بھوک اور نیند ختم ھو جاتی ھے۔
ھم آج ایک ایسے دور میں زندگی گذار رہے ہیں جہاں ہر بات، ہر کام کو صرف اور صرف “فائدے” کی نظر سے سوچا اور پَرکھا جاتا ھے۔  مگر فوائد سے ہٹ کر بھی سوچنا چاہئےاورکبھی کبھار رِسک لینے میں کوئی حرج نہیں،  رِسک لے کر دیکھیں جس کام سے آپکو ایک پائی بھی نہ ملے مگر حقیقی سکون ملے تو اس سے بہتر اور کیاچیز ھو گی۔
  مثبت سوچ کے لئے یہ بھی ضروری ھے اپنے اندر  سے کبھی بچپنا نہ ختم ہونےدیں۔جہاں موقع ملے فوراً بچے بن جائیں اور زندگی انجوائے کریں۔ ایک مثبت سوچ کی علامت چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونا ھے اس لئے چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونا سیکھیں۔  مثلاً مجھے سب سے زیادہ خوشی اسوقت محسوس ہوتی ھے جب بلی کے بچے نظر آئیں یا پھلوں سے بھرا درخت نظر آئے، ایک بار  گلی کا راستہ طے کرتے میری نظر اچانک ایک چیکو سے  بھرے درخت پر گئی اور چیکو دیکھ کر ایک انجانی خوشی اور تشکر کی کیفیت دل میں آئی حالانکہ اس چیکو کے درخت سے میرا براہِ راست کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میں گلی میں رُک کر چیکو اتار کےکھانے بیٹھ گئی تھی۔مگر دیکھنے سے ہی اللہ کی نعمت کا احساس ھوا ۔یہی حال گملے میں لگی ہری مرچ دیکھ کر ہوتا ھے۔ اور بلی کے بچے تو سب کو پیارے لگتے ہیں مگر میں نے ایک دن بہت چھوٹا سا گدھے کا بچہ دیکھ لیا وہ اتنا پیارا تھا کہ فوری طور پر خوشی کے مارے اسے گود میں اٹھا لینے کا دل کیا۔ کسی روتے ہوئے بچےکو ھنسا دینا آپ کے دل کاسکون بن سکتا ھے۔  مگر اس میں کچھ محتاط روئیے کی ضرورت ھے  جیسا کہ ایک لطیفہ ھےکہ ایک بچہ اُچھل اُچھل کر ایک گھر کی گھنٹی بجانے کی کوششش کر رہا ھوتا ھے کہ ایک بڑے میاں نمودار ہوتے ہیں اور مسکراتے ہوئے بڑے اطمینان سے اس گھر کی گھنٹی بجا کے کہتے ہیں  ھاں بیٹا اور کچھ؟ بچہ کہتا ھے بس، اب آپ  بھی بھاگ جائیں  دادا ابا،میں بھی بھاگ رہا ہوں گھنٹی ہی بجانی تھی بج گئی ـ
   ہا ہا ہا
  ںپسند کا کھانا ہو یا پسندیدہ موسم، کوئی اچھی موسیقی ہویا  پسندیدہ کتاب یا پھر فلم یہ سب ہی انسان کے موڈ کو بہتر کر کے تروتازگی برقرار رکھتے ہیں اور اس وجہ سے سوچ کازاویہ بھی مثبت رہتا ھے اور جب سوچ مثبت رہے گی تو یقینی طور پر انسان خود سے جُڑے کاموں کو بہتر طور پر انجام دے سکے گا۔  ان سب کے علاوہ ایک چیزاور بھی ھے ھو سکتا ھے آپ کے لئے یہ کوئی اھم بات نہ ہو مگر میں نے
جب زندگی میں پہلی مرتبہ گدھے کو قلابازیاں کھاتے دیکھا تو بہت محظوظ ہوئی یا پھر ہو سکتا ھے بالکل ایسا ہی آپ کا بھی تجربہ رہا ہو۔
      گدھے کا مٹی میں  قلابازی کھانا،donkey
rolling
            گدھے کے اس behave کے پیچھے آپ وجہ جانتے ہیں؟ اظہار تشکر!  جی ہاں گدھے کا پسندیدہ خوراک سے پیٹ بھرا ہونا اور پھر گدھا مست ہو کر مٹی میں جو لوٹنیاں لگا کے مٹی اڑاتا ھے۔آہا ہا
ہا کیا ہی نظارا ہوتا ھے بالکل ایسے جیسے کسی  پاکستانی فلم میں رومانوی گیت کے دوران ھیرو کسی ھری بھری پہاڑی یا برف میں قلابازیاں کھا رہا ہوتا ھے۔ اور ہیروئن کو پتہ نہیں کیوں دَمے کااٹیک ھو جاتا ھے۔ جو کہ گیت ختم ہونے کے بعد خود بہ خود ٹھیک بھی ہو جاتا ھے۔
اب یہ بات تو گدھا ھی بہتر جانتا ھو گا کہ اس کے اس  “قلابازیانہ” اندازِ تشکر سے اس کے  مالک پر کیا اثر پڑتا ھے یا تو اس اظہار کے بعد گدھے کی پسندیدہ خوراک میں اضافہ کر دیا جائے گا نہیں تو وہ ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا مزید سامان ڈھونے لگے گا۔
بلی اپنےپسندیدہ کھانے کے بعد آنکھوں  کو میچ  کر یعنی آنکھیں چھوٹی کر کے اور ایک پر سکون سانس لے کر اپنی خوشی و سکون کا اظہار کرتی ھے اور انسان کے behave کا ذکر تو پہلے ہو چکا ھے میرا ذھن تو اب تک یہی تک پہنچا ھے چھوٹی سی خوشی کی فہرست میں بہت کچھ شامل ہو سکتا ھے آپ چاہیں تو  اس کی فہرست بنائیں، اور دیکھیں اس موضوع میں مزید  کیا کچھ شامل کیا جا سکتاھے۔  پھر ان کی تعداد دیکھیں کہ کون کون سی ایسی چھوٹی باتیں ہیں جن سے خوشی وسکون ھم پاتے ہیں۔ یقیناً ایک لمبی فہرست تیار ہو گی۔چھوٹی خوشیوں کو ھرگز معمولی سمجھ کر نظر انداز مت کریں یقین کریں  یہ ہی چھوٹی خوشیاں آپکی زندگی میں بہت دیرپا اثر رکھتی ہیں مگر سب کو اس کا ادراک نہیں ہوتا۔

شہد کی مکھیاں اور طوفانی جھکڑ


قارئین کرام!
کیاآپکا سامنا اچانک سامنے آجانے والی کسی  آفت سے پڑا ھے اور اس وقت آپکاردِ  عمل(reaction)کیسا ہوتا ھے؟
میرے ساتھ بھی جمعرات کی شام ایساھوا،میں حسبِ معمول شام میں گیزر(geyser) آن ھے کہ نہیں یہ دیکھنے چَھت پر گئی، اور ابھی صرف لکڑی کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ میرے منہ سے زور سے “ھاااا” نکلا اور ایک مرتبہ پھر ڈر کے میری گِھگّھی بند گئی ،زمین نے قدم  جکڑ لئے اور کچھ دیر تک “اسٹاپ اسٹاپ والے” گیم کی سی کیفیت رھی جس سے میں چند سیکنڈ میں نکلی اور جلدی سے دروازہ بند کر دیا اور پھر چند لمحوں بعد دوبارہ ہلکا سا دروازہ کھول کے اس بات کی تصدیق چاھی اور جب تصدیق کی پکی رسید میرے دماغ میں گَھنٹی کی طرح بجی تو پھر تیزی سے دروازہ بند کر کے الٹے قدموں سیڑھیوں سے واپس بھاگی، کہاں کا گیزر کیسا گرم پانی مجھے سب بھول گیا  ـ ھوا کچھ یوں کہ لکڑی کے دروازے کے ساتھ ہی موجود لوھے کے گیٹ کے اوپر والے حصے پر شہد کی مکھیوں نے ایک بڑا سا چھتہ(beehive) بنا لیا تھا جبکہ میں بدھ کی شام چَھت پر گئی تھی تو ایسا کچھ نہ تھا چونکہ مکھی کے چَھتے میں بیک وقت 5 سے 8 ھزار مکھیاں کام کرتی ہیں جن میں ملکہ مکھی ،کارکن مکھیاں اور  نِکھٹو جو کہ غالباً  مردانہ( male) مکھیاں ہوتی ہیں سب اکٹھی رہتی ہیں جب ھی یہ بڑا سا اونی ٹوپی نما  چَھتہ تعمیر ھوا ھو گا۔  پہلے مجھے یہی خیال آیا کہ یہ اونی ٹوپی کس نے یہاں لٹکا دی مگر اس میں مکھیاں اُڑتی دیکھ کر میری سٹی گم ھو گئی ، اور ایسا ھونا تو نہیں چاہئے مگراس وقت خوف کے ساتھ  شدید کراہت بھی محسوس ھوئی۔
  واقعے کو ٹھیک سے سمجھنےکے لئےگیٹ کی تفصیل بتانا ضروری ھے ۔  چَھت پر جانے کے لئے ایک لکڑی کا دروازہ تو موجود ھےمگر اس کے ساتھ ہی ایک لوھے کے گیٹ کا اضافہ حفاظتی اقدام کے طور پر کیا گیا ھے اور یہ حفاظتی قدم چور والے واقعے کے بعد کیا گیا تھا جس کا ذکر  میری “چور”والی پوسٹ میں موجود ھے۔ ان دو دروازوں کے بیچ بند ھونےکے بعد کچھgap بھی موجود رہتا ھے اور یہی گیپ شہد کی مکھیوں کو رہنے کی source لگا ھو گا۔ اور لوھے کے گیٹ کے کچھ گیپ والے حصے سےمکھیوں کی آمدورفت ہوتی رہی اور چھتے کی تعمیر جوش ولولےاور زوروشور سے جاری رہی اور اب صرف  گویا مکھیاں میرے اجازت نامے (permit) کا ہی انتظار کررہی تھیں کہ کب مابدولت گیزر آن کرنے کے بہانے چھت پر تشریف لائیں اور یہ” نو گوایریا” دیکھ کر واپس بھاگ جائیں اور جانے سے بیشتر انڈین فلم مغلِ اعظم کے اکبر بادشاہ کی طرح انارکلی کو”اجازت ھے”کہہ کر رقص کی کُھلی چھٹی دیں اور میرے” ٹھاہ”  سے دروازہ بند کرتے ہی مکھیاں تو رقص کرنے لگیں ھوں گی اور پھرتھک ہار کے اس نئے تعمیر شدہ بہترین آرکیٹیکچر شاہکار چَھتے میں آرام سے نیند کی وادی میں اتر گئی ھوں گی جس کا ما بدولت نے بن بلائے اسپیشل گیسٹ کی طرح لکڑی کا دروازہ کھول کے افتتاح کر دیا تھا۔مگر میری نیند اڑ چکی تھی اب کیا ھو سکتا تھا اچھی بات یہ رہی کہ بجلی نہ گئی اور میری بھی یہی دعا تھی کہ بجلی نہ جائے کیونکہ گیس کی لوڈ شیڈنگ تو ہوتی ھی ھے مگر بجلی بند ہونے سے جب جنریٹر گیس پر چلتے ہیں تو گیزر خود ھی گیس پریشر کم ھونے سے آف ھو جاتے ہیں چاھے انہیں کچھ دیر پہلے ہی گیس آنے پر آن کیا ھو۔اب شام اور رات کا حصہ تو  گیزر میں بَچے ھوئے گرم پانی سے نکل سکتا تھا شہد کی مکھیوں کے بارے جو ہونا  اب وہ صبح ھی ہونا تھا۔ صبح ھونے پر میری تو ہمت نہ ھوئی کہ دوبارہ شہد کی مکھیوں سے آنکھیں چار کروں، یہ کام یوں آسان ھوا کہ ھماری عظیم و بہادر ورکر نے ایک مضبوط لوھے کے ڈنڈے پر کپڑا باندھ کر اس پر آگ لگا کے دھواں کیا اور شہد کی مکھیوں کے خلاف آپریشن کلین اپ کیا مگر شہد کی مکھی کے بارےمیں مشہور ھے یہ آسانی سے نہ راستہ بھولتی ہیں نہ ہی چَھتہ چھوڑتی ہیں ،وہی ہوا، آگ کے دھوئیں سے مکھیاں اُڑیں ضرور مگر اس لوھے کے گیٹ سے اوپر باہر  چَھت کی طرف چوکھٹ پر منڈلاتی رہیں تھک ہار کے ھماری ورکر بھی واپس آگئی اسی دوران بجلی جا چکی تھی اور بجلی آجانے پر احتیاطاً گیزر چیک کرنے کے لئے مجھے پھر چَھت کا رخ کرنا پڑ گیا مگر شہد کی مکھیوں نے راستہ بلاک کر رکھا تھا،اور میری مکھیوں کے ساتھ چُھپن چھپائی  جاری تھی جس کےدو راؤنڈ کھیلے جا چکے تھے  پہلاجمعےکی دوپہر اور دوسرا جمعے کی شام کھیلے گئےـ  دونوں مرتبہ  میں ما بدولت پھر دل مضبوط کر کےچھت پر گئی اور ذرا سا لکڑی کا دروازہ کھول کے دیکھوں تو شہد کی مکھیاں وہاں رقص میں ھی نظر آئیں میں نے اکبر بادشاھ بن کے انہیں حکم دیا بس بند کرو یہ رقص بہت ہو چکاجاؤ کہیں اور جا کے چَھتہ بناؤ یہاں یہ چھتہ بھتہ نہیں چلے گا، ورنہ دیوار میں چُنوا دوں گی وہ الگ بات ھے کہ شہد کی مکھیوں کے زہریلے  ڈَنگ کا سوچ کے ہی مجھ نقلی اکبر بادشاہ کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں حالانکہ میں نے پورا سلطانہ ڈاکو کا سا روپ دھار کے خود کو چادروں سے ایک آنکھ کے سوا مکمل کور کیا ھوا تھا۔مگر نہ جی کوئی بات نہ بنی۔میں واپس چَھت سے ناکام آگئی اور بھائی کی منتیں کیں کہ تم ھی گیزر آن کر دو مگرآخر کو  وہ بھی مجھ سا نقلی
اکبر بادشاہ کا ہی بھائی ھے نا اپنی شاھی طبیعت سے مجبور بولا “کر دوں گا، ایک گیزر ھی آن کرنا ھے اور تو کچھ نہیں یہ کون سا بڑا کام ھے کر دوں گا” مطلب نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ،سو بھائی نے اپنی مرضی سے جا کے گیزر دیکھاجب تک رات کے 10 بج گئے تھے  اور  ادھر شام ھی سے کراچی میں طوفانی ھوائی جَھکڑ چل رہے تھےیہ جھکڑ کی شدت ہی تھی جس کی وجہ سے  شہد کی مکھیاں مُنتشر ہوئیں۔                  
یہ ھوائی جھکڑ سردیوں میں اکثر چلتے ہیں ـ  پچھلی سردیوں میں ان طوفانی جَھکڑوں سے گیزر کے گرد ما بدولت کے ہاتھوں لپیٹی  دھاتی شیٹ اور اس کے اِرد گِرد باندھی گئی رسی کا زیادہ حصہ تیز ھواؤں سے اُڑکرنہ جانے کہاں چلا گیا بس رسی کا تھوڑا سا ٹکڑا گیزر کے پاس ایسے موجود رہا بقول ضمیر جعفری ( بمعہ بالکل تھوڑی سی ایڈیٹنگ)
؎”جو کالر تھا گردن میں، ‘لر’ رہ گیا ہے
ٹماٹر کے تھیلے میں ‘ٹر’ رہ گیا ہے
خدا جانے مرغا کدھر رہ گیا ہے
بغل میں تو بس ایک پر رہ گیا ہے۔
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ھے
اور طوفانی جھکڑ کا ذکر ہو رہا ھے۔”

پھر شاہانہ طبیعت بھائی سے کہہ کہہ کر تھک گئی کہ دھاتی شیٹ لا کر دے دو میں گیزر کو cover کر لوں مگر  وہ بادشاہ جو ٹھرے اپنی مرضی کے مالک۔
  مشہور مقولہ ھے “ضرورت ایجاد کی ماں ھے”  گیزر کی حفاظت کے لئے  اور تو مجھے کچھ سمجھ نہ آیابس  ایک چھوٹا خالی گملا ملا تھا چھت پر تو میں نے وہ گیزر کے چولہے کے آگے ایسے رکھ دیا جیسے وہ ہاتھ جوڑے گیزر کی پوجا کر رہا ہو اورکہہ رہا ھو”دیکھ اس سردیاں  تجھےچلتے جانا ھے بند نہیں ھونا” اس کے ساتھ میری نظر چھت پر رکھے کپڑے دھونے والے ایک عدد اضافی دھاتی سِلور رنگ  کے ٹب پر گئی جسےمیں نے اٹھاکے گملے کے آگے ٹِکا دیا  تاکہ ھوا کے جھونکوں سے گیزر محفوظ رہے۔  پچھلے سال گیزر کی دھاتی شیٹ اُڑ جانے  کے بعد سے اور اس سال  گملے اور ٹب کی پوزیشن گیزر کے آگے ایسے موجود ھے جیسے گویا کسی سڑک کنارے نصب سنگِ میل ۔ بس یہ کہ کبھی کبھی ٹَب ھوا کے جھونکوں سے ” ٹنگ ٹرنگ ٹرنگ”کی آوازیں نکالتا لڑکھڑا کے گِر جاتا ھے جسے میں پھر سیدھا کر کےگیزر کے  پاس ٹِکا دیتی ھوں ۔ دیکھا ما بدولت نے کیسے کیسے گیزر کے لئے حفاظتی اقدامات کئے ہیں۔
تیز جھکڑوں کے تو کیا ہی کہنے لاؤنج کا دروازہ بند کرتے وقت تیز طوفانی ھوا کی ایسی رفتار  تھی کہ دروازے کے ساتھ ہی میں بھی باہر کی جانب یوں نکل گئی گویا کسی نے لاؤنج سے دھکیل کے باہر نکال دیا ھو ایساھوا کا زور تھا۔طوفانی جھکڑ میں اگر یہ گھر کے لاونج کے دروازے کی صورتحال ھے تو اس دوران کھلی جگہوں اور سڑکوں کا کیا حال ہوتا ہو گا یہی وجہ ھے کہ اس دوران کراچی میں6  ہلاکتیں اور 3 مچھلی کے شکار کے لئے کیٹی بندر پورٹ میں لانچیں ڈوب گئیں۔کیونکہ ھوا کے زور سے سمندر کی لہروں میں طغیانی آچکی تھی۔کئی ماہی گیر جو بلاشبہ اچھے تیراک بھی ہیں لا پتہ ہیں۔اللہ مرنے والوں کی مغفرت فرمائیں، ہم سب کو ایسی آفات سے حفظ وامان میں رکھیں اور لاپتہ ماھی گیر اپنے گھر صحیح سلامت لوٹ آئیں۔

1922 اور 1920


قارئین کرام!
2022 کی شروعات ہوئے نصف ماہ ہو گیا  ھے۔تصور کی آنکھیں ماضی کی کھڑکیاں کَھٹ کَھٹ کر کے کھولتی جاتی ہیں اور 1922 یعنی سو سال پہلے کا خیال ذھن میں آتا ھے چلیں ھم سب آج کچھ دیر کے لئے سب کی سب “جدیدیات” چھوڑ کے 1922 کا تصور باندھ لیتے ہیں، اور اس تصور میں صرف اور صرف بالکل بہت عام سی کلاس “عام عوام”  کو ڈسکس کرتے ہیں۔ میں نے تو ڈبل رسی سے تصور باندھ لیا ھے،آپ بھی تیاری پکڑیں، جب بر صغیر پاک و ھند میں پانی و بجلی کی کیا صورتحال ھو گی؟ بھاپ سے چلنے والے ریل انجن اور لکڑی کوئلے سےگھروں کے چولہے و آتش دان جلتے ھوں گے، محلے کے حکیم بیک وقت ڈاکٹرز و اسپیشلسٹ کی جگہ سنبھالتے ہوں گے، 1922کے دنوں میں برصغیر پاک وھند میں تحریک خلافت عروج پر تھی حتیٰ کہ خطبہ الہ آباد 1930 ہونے کو  بھی ابھی پورے 8 سال باقی رہتے ہیں  اور ظاہر سی بات ھے 1922 تک ھم سب کے والدین بھی پیدا نہیں ہوئے تھے تو دادا ،دادی،نانا،نانی کا طرز زندگی کیسا ھوتا ہو گا؟ رات کی خاموشی میں لالٹین کی روشنی میں کوئی طالب علم اپنے امتحانات کی تیاری کرتا ھو گا۔ کیسا سادہ سا طرز زندگی ہوگا بِنا فون موبائل انٹرنیٹ و بجلی گیس کے خالص سا۔ زیادہ فکر مند ھونے کی ضرورت نہیں پاکستانی حکومتیں ہمیں بتدریج اُسی دور میں واپس لیجانا چاہ رہی ہیں ویسے بھی آئے دن زیر سمندر انٹرنیٹ کیبل کا مسلہ بھی بڑھتا جا رھا ھے بجلی مہنگی سے مہنگی ھوئے جا رہی گیس کی قلت سردیوں کا خاصہ بنتا جا رھا آئے دن کی مہنگائی  کی وجہ سے حالات ہو سکتا پرانے والے بارٹر سسٹم پر چلے جائیں اور عوامی تاریخ اپنے آپ کو  دھراتی ہمیں لالٹین کے زمانے امتحانات کی تیاری کے ساتھ کینڈل ڈنر کے لئے لے چلے۔ پھر عوام کاموں سے فارغ ھو کر سردیوں میں آگ تاپنے اور گرمیوں میں اجتماعی محافل وجلوس منعقد کرتے،بجلی گیس اور  انٹرنیٹ موبائل فون  یہ کیا ھوتا سب بھول جاتے۔اس سے سب سے زیادہ نقصان فری لانسرز اور بلاگرز کو ھوتا،   موٹیویشنل اسپیکرز کا تو حال ہی مت پوچھیں، آن لائن ھوم بیسڈ ورک کی پر کشش آفرز خواب و خیال بن کے رہ جاتیں،پھر بلاگرز کے بلاگ کون پڑھتا؟ سبھی اک ناکام شاعر کی طرح خود ہی لکھ کر خود کو بالکل میری طرح اپنی باتیں سنایا کرتے جیسا کہ “جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا”بس یہ ساری دنیا  فری لانسرز اوربلاگرز کے لئےاک جنگل بن کے رہ جاتی، چونکہ ٹیلی ویژن، ریڈیو تک نہ ہوتا تو نہ عوام کو حکومتیں جانتیں، نہ عوام کو حکومتوں کے آنے جانے کی خبر ہوتی،کاغذ بھی نایاب ھوتا تو اخبارات تک رسائی آسان نہ ہوتی، کیونکہ 1922 ھے۔  پتنگیں اڑائی جاتیں،کبوتر،بکریاں مرغیاں بلیاں پالنے کا مشغلہ ہوتا، تازہ ھوا کے جھونکوں سے لطف اندوز ہونے کوچَھتوں کے صبح شام کے پھیرے لازمی ہو جاتے،  سرِ شام ھی ہر طرف اک ھُوکا عالم ھوتا کیونکہ کرنے کو کوئی کام ہی نہ ہوتا تو سب رات کو میٹھی نیند لیتے،یاد ھے نا 1922 ھے موبائل اور انٹرنیٹ نہیں۔ ھے-گھروں کے باہر اعلی قسم کی سائکلیں، اونٹ بیل،گھوڑا،گدھا گاڑیاں ایسے موجود ہوتیں جیسی آج موٹر کاریں گھروں میں موجود ہیں۔  آئی ٹی انڈسٹری اور یونیورسٹیز  کی بجائے پاک وھند میں آٹے ،چاولوں کے بڑے بڑے بہترین گودام ہوتے۔ استاد بہترین آڑھتی ہوتے اور طالب علم بہترین مزدور بن کر بوریاں لادتے ظاہر ھے ہرکسی کی دسترس میں المشہور علیگڑہ جامعہ کا طالب علم ہونا کہاں نصیب ہوتا، خواتین  بلاگز لکھنے کی بجائے میزپوش ،چادریں کڑھائی کرتیں یا سویٹر بُنتیں،یاد رہے میں بہت ہی عام سا عوامی طبقہ ڈسکس کر رہی ہوں۔
اس دور کی روایت کے مطابق 5،7 برس کے بچوں کی اَمیاں ہی ان کی “نرسری” ہوتیں، بنا اسکول کے ھی پرائمری لیول کی ابتدائی تعلیم والدہ سے لینے کے بعد منشی فاضل کی ڈگری کے لئے اسکول جوائن کیا جاتا۔اور اس کے فورا بعد کلرک کی نوکری پانا ایسا ہوتا گویا چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ بن جانا۔پورے محلے واہ واہ ھو جاتی۔مٹھائیاں تقسیم ہوتیں اور بس راویہ یعنی میرا مطلب سعدیہ چین ہی چین لکھتی ھے  اب سب تصور کی کھڑکی بند کریں اور واپس آجائیں ، یہ 2022 ھےـموبائل بھی ھے، نیٹ بھی ھے بجلی بھی ھے پانی و گیس بھی ھے موٹر کاریں بھی ہیں ، سوشل میڈیا سے ھم سب کی ایک دوسرے تک رسائی بھی ھےـکیوں؟ کیونکہ یہ 2022 ھے۔